سعودی عرب میں مزید پاکستانی فوجی بھیجنے پر چیئرمین سینیٹ کی حکومت سے وضاحت طلب

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption پاکستان اور سعودی عرب کے مابین گہرے دفاعی اور سفارتی تعلقات ہیں( فائل فوٹو، دونوں ممالک کی مشترکہ فوجی مشقیں)

پاکستان فوج کی جانب سے سعودی عرب میں مزید فوجی اہلکار بھیجے جانے کے اعلان کے بعد سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے حکومت سے اس معاملے پر وضاحت طلب کرتے ہوئے ایوان کو اعتماد میں لینے کا حکم دیا ہے۔

چیئرمین سینیٹ نے وزیر دفاع خرم دستگیر کو کہا ہے کہ وہ پیر کو ایوان میں آ کر اس بارے میں معلومات دیں۔

خیال رہے کہ جمعرات کو پاکستانی فوج کے ایک اعلان کے مطابق فوج کے مزید دستوں کو مشاورتی اور تربیتی مشن پر سعودی عرب میں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

نامہ نگار ہارون رشید کے مطابق جمعے کو پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے ایوان میں فوج کی جانب سے سعودی عرب فوج بھیجنے سے متعلق اعلان کے بارے میں سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ پارلیمان کی مشترکہ قرار داد کے تناظر میں پاکستان کو یمن کے معاملے میں غیرجانبدار رہنا چاہیے فوج روانہ کرنے کا معاملہ وضاحت طلب ہے اور وہ اس سلسلے میں تحریک التوا پیش کرنا چاہیں گے۔

اس پر چیئرمین نے وزیر دفاع کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

مزید پاکستانی فوجی سعودی عرب بھیجنے کا فیصلہ

’حکومت راحیل شریف کو واپس آنے کا نہیں کہہ سکتی‘

این او سی جاری، راحیل شریف سعودی عرب روانہ

’فوج قطر بھیجنے کی خبریں من گھڑت اور بے بنیاد‘

سینیٹر فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ فوج کے مطابق یہ فوجی مشترکہ معاہدے کے تحت بھیجے جائیں گے لیکن ان کی تعداد نہیں بتائی ہے۔

انہوں نے فوجی ترجمان کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ’ ان کے مطابق یہ ایک ڈویژن سے کم ہوں گے لیکن دس کم ہو گے یا بیس یہ وضاحت نہیں کی گئی ہے۔’غالب امکان یہی ہے کہ ایک بریگیڈ اور ڈویژن کے درمیان فوجی ہوں گے۔‘

اعلان کے وقت سے متعلق فرحت اللہ بابر نے کہا کہ یہ فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور سعودی سفیر کے درمیان ملاقات اور فوجی سربراہ کے سعودی عرب کے گذشتہ ماہ تین روزہ غیراعلانیہ دورے کے بعد سامنے آیا ہے۔

سینیٹر فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ بڑا سنگین ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان فوج کے دستے پہلے بھی سعودی عرب میں تعینات ہیں

اس سے پہلے پاکستانی فوج کے بیان کے مطابق سعودی عرب میں پاکستانی فوجیوں کو تعینات کرنے کا فیصلہ اسلام آباد میں سعودی عرب کے سفیر نواف سیعد المالکی اور پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے درمیان ایک ملاقات میں کیا گیا۔

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ کتنے مزید پاکستانی فوجی سعودی عرب بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور ان کی تعیناتی کی مدت کیا ہو گی۔

آئی ایس پی آر کے پریس ریلیز میں کہا گیا تھا کہ پاکستان فوج کے تازہ دم دستے سعودی عرب میں پہلے سے موجود پاکستانی فوجیوں کے ساتھ شامل ہو جائیں گے اور پاکستان فوج کے ان دستوں کو سعودی عرب سے باہر کسی ملک میں تعینات نہیں کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسلامی اتحاد کی مشترکہ فوج کی سربراہی پاکستان فوج کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کو سونپ دی گئی

یاد رہے کہ چند سال قبل سعودی عرب نے یمن پر حملے سے پہلے پاکستان سے اپنی فوج بھیجنے کی درخواست کی تھی جس کو پارلیمنٹ کی ایک قراد داد پیش ہونے کے بعد مسترد کر دیا گیا تھا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سعودی عرب میں 1180 پاکستانی فوجی پہلے سے تعینات ہیں جو سنہ 1982 میں ہوئے ایک باہمی معاہدے کے تحت سعودی عرب بھیجے گئے تھے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط دفاعی تعلقات ہیں اور پاکستان کا نام 41 ممالک پر مشتمل اس اتحاد میں شامل ہے جو سعودی عرب نے اسلامی شدت پسندی کو ختم کرنے کے نام پر قائم کیا ہے۔

اس اسلامی اتحاد کی مشترکہ فوج کی سربراہی بھی پاکستان فوج کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کو سونپ دی گئی تھی۔

اسی بارے میں