ایف اے ٹی ایف کا اجلاس اور پاکستان کی مشکلات

تصویر کے کاپی رائٹ FATF
Image caption ایف اے ٹی ایف کا اجلاس اگلے ہفتے پیرس میں ہو رہا ہے

منی لانڈرنگ کے انسداد کے لیے قائم کردہ عالمی نگراں ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا اہم اجلاس فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جاری ہے۔

18 سے 23 فروری تک جاری رہنے والے اس اجلاس میں ایف اے ٹی ایف کے سینکڑوں عالمی مندوبین کے علاوہ اقوامِ متحدہ، آئی ایم ایف، عالمی بینک کے نمائندے بھی شریک ہیں۔

چھ دن جاری رہنے والا یہ اجلاس اس لیے بھی انتہائی اہم ہے کہ اس میں پاکستان کو دوبارہ ایسے ممالک کی فہرست میں شامل کیے جانے کی تجویز زیرِغور ہے جو دہشت گردوں کی مالی معاونت کا عمل روکنے میں ناکام رہے ہیں۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

* فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے خلاف کریک ڈاؤن شروع

* اقوام متحدہ کی فہرست میں شامل تنظیمیں پاکستان میں کالعدم

* امریکی جارحانہ بیانات سود مند ثابت نہیں ہوں گے: پاکستان

اطلاعات کے مطابق امریکہ اور برطانیہ اس اجلاس میں ایک قرارداد پیش کرنے والے ہیں کہ پاکستان کا نام دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کو روکنے میں عدم تعاون کرنے والے ملکوں کی فہرست میں شامل کر دیا جائے۔ اس قرارداد کو ممکنہ طور پر فرانس اور جرمنی کی حمایت بھی حاصل ہے۔

پاکستانی حکام کے مطابق اگر ایسا ہوا تو پاکستان کو شدید معاشی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ایف اے ٹی ایف کیا ہے؟

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) ایک بین الحکومتی ادارہ ہے جس کا قیام 1989 میں عمل میں آیا تھا۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی نظام کو دہشت گردی، کالے دھن کو سفید کرنے اور اس قسم کے دوسرے خطرات سے محفوظ رکھا جائے اور اس مقصد کے لیے قانونی، انضباطی اور عملی اقدامات کیے جائیں۔

اس تنظیم کے 35 ارکان ہیں جن میں امریکہ، برطانیہ، چین اور انڈیا بھی شامل ہیں، البتہ پاکستان اس تنظیم کا رکن نہیں ہے۔

اس ادارے کی ویب سائٹ کے مطابق یہ ایک 'پالیسی ساز ادارہ' ہے جو سیاسی عزم پیدا کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔

اس کے ارکان کا اجلاس ہر تین برس بعد ہوتا ہے جس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کی جاری کردہ سفارشات پر کس حد تک عمل درآمد ہو رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ FATF
Image caption ایف اے ٹی ایف کے ارکان ملک۔ پاکستان اس ادارے کا رکن نہیں ہے

دہشت گردی کی مالی معاونت کی بیخ کنی

نائن الیون کے بعد ایف اے ٹی ایف کی خاص توجہ دہشت گردی کے لیے رقوم فراہم کرنے کو روکنا ہو گیا ہے۔ یہ ادارہ مختلف ملکوں کے قوانین پر بھی نظر رکھتا ہے اور ان میں خامیوں کو دور کرنے کے لیے مشورے دیتا ہے۔

سنہ 2000 کے بعد سے ایف اے ٹی ایف وقتاً فوقتاً ایک فہرست جاری کرتی ہے، جس میں ان ملکوں کے نام شامل کیے جاتے ہیں جو اس کے خیال میں کالے دھن کو سفید کرنے اور دہشت گردی کی مالی پشت پناہی سے روکنے کی سفارشات پر عمل پیرا نہیں ہوتے۔

پاکستان کو دوبارہ کیوں شامل کیا جا رہا ہے؟

پاکستان 2012 تا 2015 اس فہرست کا حصہ رہ چکا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے گذشتہ برس اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کے خلاف سخت موقف اپنایا ہے۔

اس سال کے شروع میں انھوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'امریکہ پاکستان کو 33 ارب ڈالر سے زیادہ کی امداد دے چکا ہے مگر اس کے بدلے میں صرف دھوکہ اور فریب ملا ہے۔'

گذشتہ برس اگست میں صدر ٹرمپ جنوبی ایشیا کے بارے میں پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے بھی پاکستان پر الزام لگایا تھا کہ وہ دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی کرتا ہے۔

پاکستان کو کیا نقصان ہو سکتا ہے؟

اب امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں ڈال دیا جائے، جس پر پاکستان کو سخت تشویش ہے۔

جمعرات کو وزیرِ مملکت برائے مالیات رانا محمد افضل نے سینیٹ کو بتایا کہ اس فہرست میں نام آنے سے پاکستان کی معاشی ترقی متاثر ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ اس عمل کے 'سیاسی مقاصد ہیں۔'

مالیاتی و اقتصادی امور کے ماہر عابد سلہری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'اس گرے لسٹ میں نام آنا پاکستان کے لیے اقتصادی، سفارتی اور سماجی دھچکہ ہو گا۔

'سب سے بڑا اثر تو پاکستان کے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعلقات پر پڑے گا، پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ، پاکستانی کی مالی ساکھ، ان سب کو بڑا دھچکا لگے گا۔ اس کے علاوہ پاکستان کے تاثر کو بھی نقصان پہنچے گا۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان امن بحال ہونے کے بعد سرمایہ کاروں کو اپنے یہاں لانے کی جو کوشش کر رہا ہے، انھیں زک پہنچے گی۔ اس کے علاوہ پاکستان کی طرف جو بھی پیمنٹ، یا سافٹ لون آنے والے ہوں گے اس کی زیادہ کڑی چھان بین ہو گی۔ اس موقعے پر اس فہرست میں آنے کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔'

عابد سلہری کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس سال جولائی میں نیپال میں ایشیا پیسیفک گروپ کا اجلاس ہو گا جس میں پاکستان شمولیت کے عمل سے گزر رہا ہے۔ اگر پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی فہرست میں آ گیا تو شمولیت خطرے میں پڑ جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان نے اپنے بچاؤ کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں؟

گذشتہ اتوار کو حکومتِ پاکستان نے ایک صدارتی آرڈیننس جاری کیا جس کے تحت اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دی جانے والی تنظیموں کو پاکستان میں بھی کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت جن تنظیموں کو دہشت گرد قرار دیا گیا ہے ان میں طالبان کے علاوہ حقانی نیٹ ورک، فلاح انسانیت، الرشید ٹرسٹ، اختر ٹرسٹ، جماعت الدعوۃ، روشن منی ایکسچینج، حاجی خیر اللہ حاجی ستار منی ایکسچینج، حرکت جہاد الاسلامی، اُمہ تعمیرِ نو اور راحت لمیٹڈ شامل ہیں۔

اس آرڈیننس کے نفاذ کے بعد پاکستان میں حکام نے لشکرِ طیبہ کے بانی حافظ سعید سے منسلک دو تنظیموں جماعت الدعوۃ اور اس کے فلاحی ونگ فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے خلاف بھی کارروائیاں کی ہیں۔

حافظ سعید انڈیا اور امریکہ کو دہشت گردی کے الزام میں مطلوب ہیں۔ پاکستان نے لشکرِ طیبہ پر تو پہلے ہی پابندی لگا دی تھی لیکن اس سے مبینہ طور پر منسلک جماعت الدعوۃ اور فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن نامی خیراتی ادارے بدستور کام کر رہے تھے۔

حالیہ کارروائیوں کے تحت ان تنظیموں کے تحت چلنے والے مدارس اور اداروں کو حکومتی کنٹرول میں لے لیا گیا ہے۔

تاہم اس کارروائی کے بارے میں وزیرِ مملکت برائے خزانہ رانا افضل نے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ بین الاقوامی دباؤ کے تحت کچھ ایسی تنظیموں کے خلاف بھی ایکشن لیا جا رہا ہے جن کے بارے میں یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ وہ غلط سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

رانا افضل نے کہا تھا کہ 'جیسے فلاح انسانیت فاونڈیشن (ایف آئی ایف) کی جو حافظ سعید کی تنظیم ہے کہیں ایمبولینسز چل رہی ہیں لیکن اب ہم نے اُن پر بھی پابندی لگا دی ہے تاکہ انھیں مطمئن کر سکیں۔ انھیں شاید اُن کا نام اچھا نہیں لگ رہا۔'

تاہم ماہرین کی رائے میں یہ اقدامات خاصی دیر سے شروع کیے گئے ہیں۔

ماہر اقتصادیات ڈاکٹر عابد سلہری نے کہا کہ 'جو اقدامات پاکستان نے پچھلے ہفتے سے کرنا شروع کیے ہیں، یہ کام دو سال پہلے بھی کیا جا سکتا تھا، اور اگر پاکستان ایسا کر لیتا تو آج اس منفی پروپیگنڈے سے بچ جاتا۔'

اسی بارے میں