زینب ریپ اور قتل کیس کا فیصلہ کچھ ہی دیر میں متوقع

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے شہر لاہور کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت قصور کی کم سن بچی زینب کے اغوا کے بعد ریپ اور قتل کے مقدمے کا فیصلہ کچھ ہی دیر میں سنانے والی ہے۔

زینب قتل کیس کے مرکزی ملز عمران علی پر 12 فروری کو فردِ جرم عائد کی گئی تھی اور 15 فروری کو عدالت نے سماعت مکمل کرنے کے بعد فیصلہ محفوظ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

زینب قتل کیس کی سماعت لاہورکی کوٹ لکھپت جیل میں انسداد دہشتگردی عدالت کے جج سجاد احمد نے کی۔

عدالت نے روزانہ کی بنیاد پر مقدمے کی سماعت کی۔

اس بارے میں مزید جاننے کی لیے پڑھیے

قصور واقعے کا ملزم عمران علی کون ہے؟

جیکٹ کے دو بٹن ملزم عمران علی کی گرفتاری میں معاون

’زینب تمام مظلوموں کا چہرہ بن گئی ہے‘

پولیس نے زبنب قتل کیس کے مرکزی ملزم عمران علی کو 22 جنوری کو قصور سے گرفتار کیا تھا۔

جس کے بعد صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے 23 جنوری کو نیوز کانفرنس میں اعلان کیا کہ ان کا ڈی این اے زینب کے جسم سے ملنے والے ڈی این اے سے مکمل مطابقت رکھتا ہے اور وہی اس کے قاتل ہیں۔

یاد رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے مقدمے کی سماعت مکمل کرنے کے لیے انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کو سات دن کی مہلت دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے 10 فروری کو مقدمے کی سماعت شروع کی۔

عدالت نے 12 فروری کو ملزم عمران علی پر فردِ جرم عائد کیا تھا اور 15 فروری کو عدالت نے کیس کا فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے فیصلہ 17 فروری کو سنانے کا اعلان کیا تھا۔

کارروائی کے دوران 30 سے زیادہ افراد نے اپنے بیانات ریکارڈ کروائے۔

چار جنوری کو قصور کی سات سالہ زینب لاپتہ ہو گئی تھی اور نو جنوری کو زینب کی لاش گھر کے قریب موجود کوڑے کے ڈھیر سے ملی۔ پولیس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق زینب کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی تھی۔

زینب کی لاش ملنے کے بعد قصور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا تھا جس کے بعد لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے بھی اس معاملے کا ازخود نوٹس لیا تھا۔

’آج کے غم کے نام‘

28 جنوری کو متاثرہ بچیوں کے اہلخانہ سے ملزم عمران علی سے ملاقات کروائی گئی جو ایک غیر معمولی اقدام ہے۔

پولیس کے مطابق عمران علی نہ صرف سیریل کِلر یعنی قاتل ہے بلکہ ایک سیریل پیڈوفائل بھی ہے جو نفسیاتی حد تک بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث ہے۔

2015 سے قتل اور زیادتی کے مزید 10 کیسز سامنے آئے۔ ضلع قصور کی پولیس کا کہنا ہے کہ بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کرنے والے بظاہر ایک ہی شخص ہے اور اس کا کھوج لگانے کے لیے پولیس کے دو سو سے زیادہ افسران کوشاں تھے۔

اسی بارے میں