زینب کیس: مجرم عمران علی کو چار بار سزائے موت کا حکم

قصور تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے شہر لاہور میں انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے زینب قتل کیس کے مرکزی مجرم عمران علی کو چار بار سزائے موت، ایک بار عمر قید اور سات برس قید کی سزا سنائی۔

ان پر اکتیس لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا جبکہ قتل کے کیس میں عدالت نے انھیں زینب کے لواحقین کو دس لاکھ حرجانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔

10 فروری کو پولیس کی جانب سے ملزم کے خلاف چالان پیش کرنے کے سات روز میں مقدمہ کا فیصلہ سنا دیا گیا۔ اس دوران استغاثہ کی جانب سے پچاس سے زائد گواہان کی لسٹ پیش کی گئی اور تیس سے زائد گواہان نے عدالت میں بیان ریکارڈ کروائے۔

اس بارے میں مزید جاننے کی لیے پڑھیے

قصور واقعے کا ملزم عمران علی کون ہے؟

جیکٹ کے دو بٹن ملزم عمران علی کی گرفتاری میں معاون

’زینب تمام مظلوموں کا چہرہ بن گئی ہے‘

تاہم استغاثہ کی جانب سے پیش کیے جانے والے فرانزک سائینس پر مبنی شواہد مجرم کو سزا دلوانے میں بنیادی ثابت ہوئے۔

یاد رہے کہ مقدمہ کا فیصلہ آنے سے قبل ڈی این اے اور دیگر فرانزک شواہد کی قانونی حیثیت کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا۔

تاہم انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کے سیکشن 27-بی کو جب قانونِ شہادت آرڈیننس 1984 کے آرٹیکل 164 کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو عدالت فرانزک شہادت یا دیگر جدید آلات کی مدد سے مہیا کی جانے والی شہادت کی بنیاد پر ملزم کو سزا دے سکتی ہے۔

بی بی سی کے پاس موجود فیصلے کی دستاویز میں نقطہ نمبر 26 پر عدالت نے لکھا ہے کہ 'وہ استغاثہ کی جانب سے پیش کی جانے والی فرانزک شہادتوں کے اصلی ہونے یا ایسی شہادت کی سچائی پر مکمل طور پر مطمئن ہے۔'

عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری کی رپورٹ کے مطابق مقتولہ بچی کے جسم اور کپڑوں سے لیے جانے والے ڈی این اے کے نمونے مجرم عمران علی کے ڈی این اے کے نمونوں سے مطابقت رکھتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PFSA
Image caption ملزم عمران کے کسی گروہ کے ساتھ روابط کا کوئی ثبوت منظر عام پر نہیں آیا تاہم قصور میں بچوں کی فحش ویڈیو میں ملوث گروہ کے خلاف ایک کیس زیر سماعت ہے

یاد رہے کہ زیادتی کے بعد قتل کے اس مقدمہ میں موقع کا کوئی گواہ موجود نہیں تھا اور مجرم عمران علی کو پولیس نے فرانزک سائنس کی مدد لیتے ہوئے ڈی این اے کے نمونے میچ ہونے کے بعد ہی گرفتار کیا تھا۔

عدالت نے اس حوالے سے فیصلے میں لکھا کہ 'موقعے کا کوئی چشم دید گواہ موجود نہیں تھا تاہم مضبوط سرکمسٹینشل ایویڈینس یا واقعاتی ثبوت ریکارڈ پر موجود ہے جس سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ملزم عمران علی ہی نے اس جرم کا ارتکاب کیا ہے۔' اور یہ کہ استغاثہ نے ڈی این اے رپورٹ تشکیل دینے والوں کے ذریعے اس کو ثابت کیا۔

فرانزک ثبوت کیا تھے؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے استغاثہ کے ایک وکیل نے بتایا کہ انھوں نے جو فرانزک ثبوت فراہم کیے ان میں ڈی این اے کے نمونوں کی میچنگ پر مبنی رپورٹ سب سے اہم تھی۔

اس کے علاوہ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی مدد سے سی سی ٹی وی کیمروں سے حاصل ہونے والی فوٹیج میں نظر آنے والے مجرم عمران علی کے چہرے کی تصاویر کو اس قدر بہتر بنایا گیا کہ ان کا مجرم کے چہرے سے میچ ہونا ثابت ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ استغاثہ نے جو گواہان پیش کیے ان میں وہ لوگ شامل تھے جنھوں نے عدالت میں جمع کروائے جانے والے تمام تر ثبوتوں کی ذاتی طور پر تصدیق کی جس کے بعد ان پر جرح بھی کی گئی۔

انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی لکھا کہ میڈیکل شہادت نے بھی استغاثہ کے مؤقف کی ہر اعتبار سے تائید کی۔

عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ مجرم کے عمل سے علاقے میں خوف وہراس پھیلا اور نقصِ امن کے حالات پیدا ہوئے۔ اس وجہ سے ان پر استغاثہ کی طرف سے لگایا جانے والا دہشگردی کا الزام بھی ثابت ہوتا ہے۔ انھیں انسدادِ دہشتگردی کے ایکٹ کے تحت بھی سزائے موت سنائی گئی۔

منصفانہ سماعت؟

مجرم عمران علی پر 12 فروری کو فردِ جرم عائد کی گئی۔ ان کے وکیلِ صفائی کے طور پر ایک سینیئر وکیل نے ان کا دفاع کرنے کے لیے خود کو پیش کیا۔ تاہم وہ دو ہی روز میں مقدمہ سے دستبردار ہو گئے۔

اس دوران ملزم عمران علی کے مقدمے کی شفاف سماعت کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جاتا رہا۔ یاد رہے کہ مقدمہ کی سماعت لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں کی گئی جہاں میڈیا یا سول سوسائٹی کے نمائندوں کی رسائی ممکن نہیں تھی۔ جبکہ لاہور ہائی کورٹ نے عدالت کو مقدمہ سات روز میں مکمل کرنے کا حکم بھی دے رکھا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

’آج کے غم کے نام‘

استغاثہ کے وکلا کے مطابق مجرم عمران علی نے پہلے ہی روز سے اپنا جرم قبول کر لیا تھا۔ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب احتشام قادر نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزم عمران علی کو ابتدا سے آخر تک اپنا دفاع کرنے یا صفائی پیش کرنے کا موقع اور ذرائع فراہم کیے گئے تھے۔

انھوں نے کہا کہ 'اس کے باوجود کہ انھوں نے اپنا جرم قبول کر لیا ہم نے عدالت سے استدعا کی کہ محض ان کے اعترافی بیان پر اکتفا نہ کیا جائے۔ استغاثہ کے پاس ٹھوس شواہد اور گواہان موجود ہیں ان کو دیکھا اور سنا جائے اور اس کے بعد فیصلہ کیا جائے۔'

ان کہ کہنا تھا کہ ملزم کے پہلے وکیل نے 22 گواہان تک جرح کی۔ ان کے دستبردار ہونے کے بعد عمران علی کو سرکاری خرچ پر وکیل مہیا کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ملزم نے عدالت کے روبرو اعترافِ جرم کیا جس کے بعد عدالت نے اسے مزید سوچنے کے لیے وقت دیا۔

'عدالت نے اسے سوچنے کے لیے چالیس منٹ کی مہلت دی اور ہم نے عدالت سے استدعا کے کہ اس سے قبل اسے یہ بھی بتا دیا جائے کہ اس کا بیان اس کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے اور یہ کہ جس جرم کا وہ اعتراف کر رہا ہے اس کی سزا موت ہو سکتی ہے۔'

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ مقدمہ کی سماعت جیل میں جہاں باقاعدہ عدالتی کمرے موجود ہیں ملزم کو لاحق سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے کی گئی۔

تاہم احتشام قادر کا کہنا تھا کہ مجرم عمران علی کے پاس پندرہ روز میں اس عدالتی فیصلے کے خلاف اعلٰی عدلیہ میں اپیل کرنے کا بھی حق ہے۔ 'وہ اپنے لیے وکیل کرنے کا بھی حق رکھتے ہیں اور جو کوئی سمجھتا ہے کہ ان کو شفاف سماعت کا موقع نہیں دیا گیا وہ بھی چاہے تو اپیل میں ان کا دفاع کرنے کے لیے سامنے آ سکتا ہے۔'

مقدمہ کا فیصلہ سناتے وقت زینب کے والد امین انصاری بھی عدالت میں موجود تھے۔ فیصلے کے بعد واپس جاتے ہوئے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ فیصلے سے مطمئن ہیں۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ فیصلے کے وقت مجرم عمران علی کا ردِ عمل کیا تھا تو انھوں نے جواب دیا کہ 'پتہ نہیں، وہ بس سر جھکائے کھڑا رہا۔'

اسی بارے میں