راؤ انوار ضروری ہے !

گذشتہ ہفتے پاکستان کے موقر انگریزی اخبار ڈان میں ایک مفصل تحقیقی رپورٹ شائع ہوئی جسے پڑھ کے اندازہ ہوا کہ ایک پولیس رینکر ترقی کرتے کرتے لینڈ مافیا کی ریڑھ کی ہڈی، پولیس مقابلوں کا بادشاہ اور سیاست کا سٹیلتھ بمبار ایس ایس پی راؤ انوار احمد خان کیسے بن جاتا ہے؟

یہ رپورٹ دیکھنے کے بعد میں غلط یا صحیح اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ نظامِ عصر راؤ انوار کے بل بوتے پر ہی کھڑا ہے۔ ہم سب راؤ انواروں، ان کے تخلیق کاروں اور ہدایت کاروں کی دنیا کے زندہ یا مردہ ہیں۔

اس نظام کے لیے جو جتنا مفید راؤ انوار اس کا انعام اور زندگی اتنی ہی زیادہ۔ ان میں سے جو راستے میں ہانپ جائے یا ناکارہ ہو جائے اسے ٹشو پیپر بنا دیا جاتا ہے اور پھر دوسرے ٹشو سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے یہی ہاتھ ایک اور راؤ کی پیٹھ پر آجاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

میڈیا اینکرز یا نشریاتی راؤ انوار؟

’موقع مت دو انصاف كرو بابا‘

’35 پنکچر بھی موصُوف نے ایجاد کیے تھے‘

اگر بڑے کینوس پر دیکھا جائے تو راؤ انواریت کو امریکہ نے ایک آرٹ بنا دیا۔ اسرائیل، سعودی عرب، مصر اگر عابد باکسر، چوہدری اسلم اور راؤ انوار نہیں تو کیا ہیں؟

کل ہی کی تو بات ہے جب آئی جی رضا شاہ پہلوی، ایس ایس پی ضیا الحق اور ایس ایچ او صدام حسین کرہِ ارض کے کراچی ( مشرقِ وسطی و مغربی ایشیا ) میں وفادارانہ دندناتے ہوئے کام نکلنے پر ہاتھ کے میل کی طرح دھو دیے گئے۔

راؤ انوار تصویر کے کاپی رائٹ EPA

بھارت کل تک سوویت یونین کا ایس ایس پی تھا۔ آج امریکہ نے اس کے ریکارڈ کی بنیاد پر ملازمت برقرار رکھتے ہوئے جنوبی ایشیا کا ڈی آئی جی مقرر کر دیا ہے۔ بھارت کے بیج میٹ پاکستان نے ترقی کی دوڑ میں نظرانداز ہونے پر اپنا تبادلہ چین کروا لیا ہے اور ایران روس کی ریجنل پولیس ٹریننگ اکیڈمی کا نیا کمانڈنٹ بن گیا ہے۔

ان علاقائی راؤ انواروں نے اوپر والوں کا کام کرتے کرتے اپنے اپنے کام بھی سیدھے کر رکھے ہیں۔

وسعت اللہ خان کے مزید کالم

تُو کہےتُو بھونکوں تُو کہے تو کاٹوں!

گالی ہی تہذیب ہے

ان مقامی انواروں کے اپنے اپنے باوردی یا سادہ ڈیتھ سکواڈز، ملیشائیں اور مخبر ہیں۔ اپنے اپنے سائبر و مذہبی، میڈیائی بریگیڈز، سیف ہاؤسز اور اقتصادی و سیاسی فرنٹ مین اور کمپنیاں ہیں جو صاحب لوگوں کے بھی کام آتی ہیں اور جنرل آرڈر سپلائیرز بھی ہیں۔

( میرا اشارہ کسی مخصوص سیاسی و مذہبی رہنما، پارٹی، وزیر، رکن قومی و صوبائی اسمبلی، عالم، ٹیچر، کالعدم تنظیم، علاقائی نظریاتی نسلی گروہ، کسی ایک حساس ادارے، بینکر، تاجر، بلڈر، سٹاک ایکسچینج کے دلال، اخبار، صحافی، چینل، ویب سائٹ، ماہرِ قانون یا جج وغیرہ کی جانب ہرگز ہرگز نہیں)۔

پراکسی کا اگر کوئی قریب ترین ترجمہ ممکن ہے تو وہ راؤ انواریت ہے۔ کوئی ایک ادارہ یا ڈھانچہ یا سوچ جس میں راؤ انوار نہ ہو یا وہ کسی راؤ انوار کی تلاش میں نہ ہو ؟ راؤ انوار ضرورت ہے۔ کیا ضرورت نے بھی کبھی سزا پائی ؟

اسی بارے میں