سینیٹ: قبائلی علاقوں میں پرانی حلقہ بندیوں پر انتخابات کی قرارداد منظور

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption قومی اسمبلی کی موجودہ نشستیں 272 رکھنے پر ہی اتفاق کیا گیا ہے

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ نے قبائلی علاقوں میں عام انتخابات پرانی حلقہ بندیوں پر کروانے سے متعلق قرارداد اتفاق رائے سے منظور کر لی ہے جبکہ حکومت نے اس قرارداد کی مخالفت کی۔

قبائلی علاقوں سے آزاد حیثیت سے سینیٹر منتخب ہونے والے سینیٹر سجاد حسین طوری نے گیارہ دیگر اراکین کے ہمراہ ایک قرارداد پیش کی جس میں قبائلی علاقوں میں نئی حلقہ بندیوں کو روکنے کی استدعا کرتے ہوئے رواں سال انتخابات کو پرانی حلقہ بندیوں کے تحت کروانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

قرارداد میں سینیٹر الیاس بلور، شاہی سید، حاجی مومن خان آفریدی، ہدایت اللہ، تاج محمد آفریدی، ملک نجم الحسن، کریم احمد خواجہ، نومان وزیر خٹک، میر کبیر احمد شاہی، محمد اعظم خان سواتی اور سید طاہر حسین مشہدی دیگر پیش کنندہ تھے۔

اسی بارے میں مزید پڑھیے

پنجاب کی نشستیں کم، پختونخوا کی زیادہ

پاکستان میں انتخابی حلقہ بندیوں کے چار بڑے مسئلے

نامہ نگار ہارون رشید کے مطابق سینیٹر سجاد حسین طوری نے قرارداد کے حق میں بات کرتے ہوئے کہا کہ مردم شماری میں وہاں کے حالات کی وجہ سے تمام قبائلیوں کی گنتی نہیں ہوسکی تھی۔

ان کا موقف تھا کہ ہزاروں قبائلی اب بھی واپس اپنے گھروں کو نہیں لوٹے ہیں۔ انھوں نے یاد دلایا کہ ایوان کی کمیٹی کی سطح پر بھی یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ نقل مکانی کرنے والے تمام قبائلیوں کو مردم شماری میں گنا جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا ہے۔

انھوں نے جغرافیائی مسائل کی وجہ سے بھی غلط حلقہ بندیوں کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔

حاجی مومن خان آفریدی نے قرارداد کے حق میں بات کرتے ہوئے کہا کہ سنہ 1972 میں قبائلی علاقوں کی آبادی 24 لاکھ تھی جسے 1981 میں کم کر کے 21 لاکھ کر دی گئی۔ اب اسے 55 لاکھ ظاہر کیا جا رہا ہے جو بلوچستان سے بھی کم ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ARIF ALI
Image caption پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کو مردم شماری کے نتائج پر شک ہے

پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے دو وجوہات کی وجہ سے اس قرارداد کی حمایت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک تو قبائلیوں کی نقل مکانی اور دوسری مردم شماری کے اعداد و شمار کا مشکوک ہونا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خود حکومت نے مردم شماری کے اعداد و شمار کا تیسری پارٹی سے آڈٹ کرانے کی بات کی ہے۔

سینیٹر سحر کامران نے بھی قرارداد کی حمایت کی اور کہا کہ جب تک قبائلی آئی ڈی پیز کی واپسی اور بحالی مکمل نہ ہو جائے نئی حلقہ بندیاں کروانے کی ضرورت نہیں ہے۔

سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اور پیپلز پارٹی کے سینیٹر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ آئین کے مطابق دیگر علاقوں کے برعکس بھی قبائلی علاقوں کے لیے حلقہ بندیاں ضروری بھی نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ’فاٹا کے لیے لازم نہیں ہے کہ ہر مردم شماری کے بعد حلقہ بندی تازہ کی جائیں۔ اس قرارداد کو منظور کیا جاسکتا ہے۔ اسے ہر الیکشن کے لیے ضروری قرار نہ دیں۔‘

اسی بارے میں