نواز شریف نااہل:’عوام کا حقِ حکمرانی چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے‘

عدالت تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مسلم لیگ (ن) نے ایک بیان میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو انصاف کے بنیادی تقاضوں کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوری تاریخ میں اس فیصلے کی کوئی مثال نہیں ملتی

پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے انتخابی اصلاحات ایکٹ کے مقدمے میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو ان کی سیاسی جماعت کی صدارت کے لیے بھی نااہل قرار دیے جانے کے بعد ممکنہ طور پر پارٹی قیادت کے حوالے سے مشاورت کے لیے مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کا اہم اجلاس جمعرات کو پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہو رہا ہے۔

نواز شریف اور مریم نواز اس اجلاس میں شرکت کے لیے لاہور سے اسلام آباد پہنچ چکے ہیں جہاں وہ جمعرات کی صبح احتساب عدالت کے سامنے پیش بھی ہوئے۔

٭ نواز شریف مسلم لیگ ن کی صدارت کے لیے بھی نااہل

مسلم لیگ ن کی صدارت سے نااہل کیے جانے کے بعد نواز شریف نے بدھ کو لاہور میں پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف سے بھی تفصیلی ملاقات کی تھی۔

ادھر عدالت کے فیصلے کا جہاں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے خیرمقدم کیا گیا ہے وہیں پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنما پرویز رشید نے جمعرات کی صبح کہا کہ ’عوام کا حقِ حکمرانی چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’انجینیئرڈ الیکشن اور کنٹرولڈ ڈیموکریسی ہرگز قبول نہیں ہے‘ اور مسلم لیگ ن کی ’پارٹی قیادت وہی سنبھالے گا جسے نواز شریف اہل سمجھیں گے۔‘

اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ایک بیان میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو انصاف کے بنیادی تقاضوں کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوری تاریخ میں اس فیصلے کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

ترجمان مسلم لیگ (ن) کے ترجمان کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ ایک سیاسی جماعت سے اس کا سربراہ چننے کا جمہوری حق چھین لیا گیا ہے جو کہ پاکستان میں جمہوری اقدار کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے جنرل ایوب خان اور جنرل پرویز مشرف کا آمرانہ اور جمہوریت کش کالا قانون بحال ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

نواز شریف ایک بار پھر بلامقابلہ پارٹی صدر منتخب

نااہل شخص کی پارٹی صدارت، نواز شریف کو نوٹس جاری

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ماضی میں بھی ایسے متنازع فیصلوں سے سیاسی جماعتوں سے ان کی قیادت چھیننے کی کوشش کی جاتی رہی ہے اور ایسی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوئیں۔

’کیا پارٹی نواز شریف کو رہنما ماننا چھوڑ دے گی؟‘

نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے بھی ٹوئٹر پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’نوازشریف آپ جیت گئے ہیں۔ انصاف کے اعلیٰ ترین ادارے آپ کے خلاف فیصلے نہیں بلکہ آپ کی سچائی کی گواہی اور موقف کے حق میں ثبوت پیش کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’کیا اس فیصلے کے بعد پارٹی نواز شریف کو رہنما ماننا چھوڑ دے گی؟ اس فیصلے نے نواز شریف کے بیانیے کو تقویت دینے کے سوا کچھ نہیں کیا۔‘

بدھ کو چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بدھ کو انتخابی اصلاحات ایکٹ کے مقدمے کا مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا نہ اترنے والا شخص سیاسی جماعت کی صدارت بھی نہیں کر سکتا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت نے بطور پارٹی صدر نواز شریف کی طرف سے 28 جولائی کو سپریم کورٹ سے نااہلی کے بعد کیے جانے والے تمام فیصلوں کو بھی کالعدم قرار دے دیا۔

ان فیصلوں میں آئندہ ماہ ہونے والے سینیٹ کے انتخابات کے لیے ٹکٹوں کا اجرا بھی شامل ہے۔ مختصرعدالتی فیصلے میں سینیٹ کے انتخابات کے التوا کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن اس معاملے کو سامنے رکھتے ہوئے کوئی اقدام کرنے کا مجاز ہے۔

عدالت نے الیکشن کمیشن کو بھی حکم دیا ہے کہ نواز شریف کا نام پارٹی صدارت سے ہٹا دیا جائے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 17 سیاسی جماعت بنانے کا حق دیتا ہے جس میں قانونی شرائط موجود ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عدالت نے کہا ہے کہ جو شخص آئین کے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ پر پورا نہیں اترتا وہ پارٹی کا سربراہ کیسے بن سکتا ہے

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ کی شق 203 آئین کے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کے ساتھ ملا کر پڑھی جائے گی جو کہ کسی بھی رکن پارلیمان کے صادق اور امین ہونے کے بارے میں ہے۔

عدالت نے کہا ہے کہ جو شخص آئین کے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ پر پورا نہیں اترتا وہ پارٹی کا سربراہ کیسے بن سکتا ہے۔

تحریکِ انصاف کا ردعمل

فیصلے ہر ردعمل میں تحریکِ انصاف کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ فیصلہ ہر لحاظ سے تاریخی ہے اور تاریخ رقم کرنے کے لیے عدالتِ عظمیٰ کی تعریف کی جانی چاہیے۔ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس تاریخی فیصلے سے ایک اہم اصول طے کر دیا ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مسلم لیگ نواز نے پارٹی کی صدارت کے لیے نااہل شخص کا راستہ کھول کر سیاست کو داغدار کرنے کی کوشش کی تھی۔ مسلم لیگ ن کو نئی سازشیں کرنے کی بجائے اس فیصلے کو تسلیم کر لینا چاہیے اور نیا قائد منتخب کر کے آگے بڑھنا چاہیے۔

خیال رہے کہ جولائی 2017 میں سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما کیس میں نااہل قرار دیے جانے کے بعد نواز شریف کو وزارتِ عظمیٰ کے ساتھ ساتھ پارٹی کے سربراہ کا عہدہ بھی چھوڑنا پڑا تھا۔

اس کے بعد پارلیمان میں انتخابی اصلاحات سے متعلق آئینی ترمیم کی گئی تھی، جس کے تحت کوئی بھی نااہل شخص سیاسی جماعت کا سربراہ بن سکتا ہے۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ نے اس آئینی ترمیم کو دو تہائی اکثریت سے منظور کیا تھا۔

انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 کی منظوری کے بعد نواز شریف اکتوبر 2017 میں اپنی جماعت کے دوبارہ صدر منتخب ہوئے تھے تاہم اس انتخابی اصلاحات بل کو حزب مخالف کی جماعتوں پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں چیلینج کر دیا تھا۔

اسی بارے میں