’سعودی کمپنیوں سے زبردستی نہیں کی جا سکتی‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
سعودی عرب سے واپس بھیجے گئے پاکستانی مزدور بقایا جات کے منتظر

بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں سے متعلق وزرات کے حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام جلد سعودی عرب جا کر پاکستانی مزدوروں کی واپسی کے معاملے پر سعودی حکام سے بات کریں گے اور سعودی حکام نے مزدوروں کے واجبات کی ادائیگی کی بھی ضمانت دی ہے۔

بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں سے متعلق وزرات میں ڈی جی ویلفیئر ساجد محمود قاضی نے بی بی سی کو بتایا کہ وزیر برائے سمندر پار پاکستانی سید صدرالدین شاہ راشدی جلد سعودی عرب جا رہے ہیں جہاں وہ اس معاملے پر سعودی حکام سے بات کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جب بھی پاکستانی مزدور واپس آتے ہیں تو ہمیں علم ہوتا ہے کہ کتنے پاکستانی واپس آئے ہیں اور ان کے کتنے واجبات ہیں۔ ہمارے حکام ان کمپنیوں کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں۔ تاہم یہ سب نجی کمپنیاں ہیں۔‘

اسی بارے میں

’سات ملکوں کے لوگ نکالے،بس پاکستانیوں کو حقوق نہیں دیے‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکام سارا وقت سعودی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں اور کوشش کی جا رہی ہے پاکستانی مزدوروں کی واپسی کا عمل کم سے کم ہو۔

ساجد محمود قاضی کا نے بتایا کہ ’سعودی حکام نے بھی ہم سے کہا تھا کہ چونکہ یہ نجی کمپنیاں ہیں اس لیے سعودی حکومت ان پر زبردستی نہیں کر سکتی۔ لیکن یہ ضمانت ضرور دیتے ہیں کہ یہ لوگ بھاگیں گے نہیں اور اپنی مالی حالت بہتر ہوتے ہیں یہ ادائیگیاں کر دیں گے تاہم اس کے لیے وقت کا تعین نہیں کر سکتے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’سعودی حکام نے یہ بھی کہا کہ اگر حکومتِ پاکستان چاہے تو ان کمپنیوں کو عدالت میں بھی لے جا سکتی ہے۔‘

ساجد محمود قاضی نے بتایا کہ ’اسلام آباد آنے والے مظاہرین کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اوور سیز کے دفتر آئیں اور ہم انہیں کو سمجھائیں گے کہ معاملات کس طرح حل ہو سکتے ہیں۔‘

انہوں نے اس دعوے کو بھی رد کیا کہ دیگر ممالک کے لوگوں کو ادائیگیاں کر دی گئی ہیں لیکن صرف پاکستانیوں کو نہیں کی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکام اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ ان لوگوں کی مدد کی جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ڈی جی ویلفیئر کا کہنا تھا کہ ’کئی لوگ تنخواہ نہ ملنے کے بعد بھی انہی کمپنیوں کے ساتھ اب بھی کام کر رہے ہیں کیونکہ انہیں 20 سال سے زیادہ کام کرنے کے بعد اندازہ ہے کہ ان کے واجبات ادا ہو جائیں گے۔‘

ساجد محمود نے بتایا کہ ’پچھلی بار بھی جب منسٹر صاحب سعودی عرب گئے تو سعودی حکام نے انپیص بتایا کہ واپس جانے والے لوگ انڈیا، سری لنکا، بنگلہ دیش اور فلپائن اور دیگر ممالک کے بھی تھے لیکن جتنا ردِ عمل پاکستان کے چھ سات ہزار افراد سے ملا ہے اس کی وجہ سے ان پر دباؤ ہے اور کہا کہ وہ تو سوچ رہے ہیں کہ پاکستان سے لیبر کم ہی منگوائی جائے۔‘

واجبات کے لیے پریشان پاکستانی

’سعودی حکام کا کہنا تھا کہ ہم وہاں سے ہی لیبر منگواتے ہیں جہاں سے تعاون بہتر ہو۔‘

واضح رہے کہ سعودی آجر کمپنی کے دیوالیہ ہونے کے دو سال بعد بھی پاکستان لوٹنے والے بہت سے ملازمین اب تک اپنے بقایاجات کی ادائیگی کے منتظر ہیں۔

ان تمام متاثرین نے مل کر کراچی اور اسلام آباد میں احتجاج کرنے کا ارادہ کیا ہے جو پانچ مارچ کو کراچی پریس کلب کے سامنے اور اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے سامنے کیا جائے گا۔

یہ 2016 کی بات ہے جب یکے بعد دیگر سعودی عرب میں موجود کمپنیوں نے خود کو دیوالیہ قرار دے دیا جس سے دمام، ریاض، طائف اور جدہ میں کام کرنے والے تقریباً 12000 پاکستانی متاثر ہوئے۔

ان کام کرنے والوں میں زیادہ تر تعداد الیکٹریشن، رنگ کرنے والوں اور مکہ اور اس کے اطراف میں فرش کی تزیئن کرنے والوں کی تھی۔ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق پنجاب اور سندھ کے شہر کراچی سے ہے۔

اسی بارے میں