ضمنی انتخابات: ضلع دیر کے ایک حلقے میں میں خواتین کے ووٹوں کا تناسب مردوں سے زیادہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مقامی صحافی شیر محمد کا کہنا تھا کہ ملک میں 1971 کے عام انتخابات میں بھی بڑی تعداد میں اسی حلقے کی خواتین نے ووٹ ڈالا تھا اور اس کے بعد منعقد ہونے والے انتخابات میں خواتین کے ووٹ نہ ہونے کے برابر رہے ہیں۔

ضلع دیر کے علاقے تیمرگرہ میں واقع ایک حلقے میں کئی برسوں کے بعد خواتین نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا ہے اور مقامی لوگوں کے مطابق ایسا 48 سال میں پہلی دفعہ ہوا ہے۔

اطلاعات کے مطابق متعدد ایسے حلقوں میں جہاں گذشتہ انتخابات میں خواتین کے ووٹوں کا تناسب صفر تھا، اس بار خواتین نے بڑی تعداد میں ووٹ دیے ہیں۔

یاد رہے کہ 45 نشستوں کے لیے خیبر پختونخوا کے 9 اضلاع میں ضمنی بلدیاتی انتخابات ہوئے ہیں جن میں سے 17 نشستیں ضلع دیر کی بھی ہیں۔

مقامی صحافی شیر محمد کا کہنا تھا کہ ملک میں 1971 کے عام انتخابات میں بھی بڑی تعداد میں اسی حلقے کی خواتین نے ووٹ ڈالا تھا اور اس کے بعد منعقد ہونے والے انتخابات میں خواتین کے ووٹ نہ ہونے کے برابر رہے ہیں۔

ماضی میں یہ علاقہ اس بنا پر خبروں کی زینت رہا ہے کہ یہاں کی صوبائی نشست پی کے 95 کے انتخاب کے دوران خواتین کو ووٹ ڈالنے سے منع کیا گیا تھا۔ اس بات کا بعد میں الیکشن کمیشن نے نوٹس لیا اور پشاور ہائی کورٹ میں بھی اس کے نتائج کو چیلینج کیا گیا تھا۔

حالیہ ضمنی انتخابات میں ایک حلقہ ایسا بھی ہے جہاں پر پچھلے انتخابات میں خواتین کا ایک ووٹ بھی نہیں ڈالا گیا تھا لیکن اس بار میں اسی حلقے میں خواتین کی ووٹوں کا تناسب مردوں سے زیادہ رہا۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق سب سے زیادہ خواتین کے ووٹ تحصیل خلیل شلفلم میں ڈالے گئے جہاں پر 496 رجسٹرڈ خواتین ووٹرز میں سے 247 نے ووٹ ڈالا جن کا تناسب مردوں کے مقابلے میں زیادہ تھا۔

اسی حلقے میں خواتین ووٹروں کا ٹرن آؤٹ 55 فیصد جبکہ مردوں کا 52 فیصد سے زیادہ رہا۔

ضلع دیر کے الیکشن کمشنر آفیسر نور سید خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ خواتین اس بار ووٹ ڈالنے کے لیے نکلی ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ اب بھی کچھ حلقوں میں خواتین نے ایک ووٹ بھی نہیں ڈالا ہے تو انہوں نے بتایا کہ قانون کے مطابق اگر کسی نے اس کے خلاف الیکشن کمیشن میں دوبارہ پیٹیشن دائر کردی تو یہ انتخابات انھی حلقوں میں دوبارہ منسوخ ہوسکتے ہے۔

تحصیل کونسل شاہی خیل میں حالیہ ضمنی انتخاب میں خواتین کے ڈالے گئے ووٹوں کا تناسب 13 فیصد رہا جبکہ منسوخ کیے گئے انتخاب میں یہ تناسب صفر تھا۔

ایک اور حلقے لاجبوک میں حالیہ ضمنی انتخاب میں عورتوں کے ووٹوں کا تناسب 22 فیصد سے زیادہ رہا جبکہ اس حلقے میں بھی پچھلے انتخابات میں یہ تناسب صفر تھا۔

تاہم حالیہ انتخابات میں بھی 10 حلقے ایسے رہے جہاں پر یا تو الیکشن کے گذشتہ نتائج منسوخ کرنے کی وجہ سے پارٹیوں نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا اور یا کسی بھی خاتون نے ووٹ نہیں ڈالا ہے۔

ضلع دیر سے تعلق رکھنے والی سماجی کارکن شاد بیگم نے بی بی سی کو بتایا کہ کل کے انتخابات میں پولنگ سٹیشنز میں خواتین کے ووٹ کے لیے سیاسی جماعتوں میں باقاعدہ مقابلے کا رجحان دیکھا گیا۔

انہوں نے کہا کہ 'اگر سیاسی جماعتیں ایمانداری کا مظاہرہ کریں اور خواتین کو ووٹ کے عمل میں معاونت کریں تو خواتین کو ووٹ کے حق سے کوئی محروم نہیں کر سکتا۔'

انہوں نے مزید بتایا کہ زیادہ تر دیہی علاقوں میں یہی رجحان ہے کہ عورتیں گھر میں بیٹھی ہیں اور سیاست کو صرف مردوں تک محدود کر دیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین کی 2013 کے انتخابات پر جاری کی گئی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق خواتین کے ووٹ کا تناسب مجموعی ووٹوں کا 40 فیصد تھا۔

اسی بارے میں