ایف اے ٹی ایف: ’چین اور عرب ممالک نے حمایت واپس لے لی،پاکستان واچ لسٹ میں شامل‘

ایف اے ٹی ایف تصویر کے کاپی رائٹ fatf
Image caption ایف اے ٹی ایف کے قوانین کے مطابق صرف ایک ملک کی مخالفت قرارداد کی منظوری میں حائل نہیں ہو سکتی

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ اقوام متحدہ کی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے پیرس میں منعقدہ اجلاس میں پاکستان کو دہشت گرد تنظیموں کے مالی معاملات پر کڑی نظر نہ رکھنے اور ان کی مالی معاونت روکنے میں ناکام رہنے یا اس سلسلے میں عدم تعاون کرنے والے ممالک کی واچ لسٹ میں شامل کرنے کی قرارداد منظور کر لی گئی ہے۔

امریکہ کی جانب سے پیش کی جانے والی اس قرارداد کو برطانیہ کی حمایت حاصل تھی۔ اس قرارداد کے بارے میں باضابطہ اعلان جمعے کی شام متوقع ہے۔

پیرس میں تنظیم کے اجلاس میں منگل کو اس معاملے پر چین، ترکی اور خلیج تعاون کونسل کے ممالک کی مخالفت کی وجہ سے اتفاق رائے نہیں ہو سکا تھا تاہم سفارتی ذرائع کے مطابق جمعرات کو چین اور خلیج تعاون کونسل کی نمائندگی کرتے ہوئے سعودی عرب نے پاکستان کی حمایت کا فیصلہ واپس لے لیا اور صرف ترکی پاکستان کے ساتھ رہ گیا۔

ایف اے ٹی ایف کے قوانین کے مطابق صرف ایک ملک کی مخالفت قرارداد کی منظوری میں حائل نہیں ہو سکتی۔ ذرائع کے مطابق یوں پاکستان کو 'گرے لسٹ' میں شامل کرنے کی قرارداد کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور ہو گئیں اور پاکستان اس فہرست میں تین برس بعد ایک بار پھر شامل کر لیا گیا۔

پاکستان 2012 سے 2015 تک بھی اس فہرست میں شامل رہ چکا ہے۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس فہرست میں شمولیت کی وجہ سے پاکستان کو جن مالی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے ان کا نفاذ جون سے ہو گا۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے اس خبر کی تصدیق نہیں کی گئی اور کہا گیا ہے کہ اس اجلاس کہ نتیجے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

تاہم دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے نئے طریقۂ کار پر اعتراضات ہیں اور امریکہ کی جانب سے جو اعتراضات اٹھائے گئے ہیں ان میں سے بیشتر پر پاکستان پہلے ہی اُس وقت عمل کر چکا ہے جب اسے جون 2015 میں گرے لسٹ سے نکالا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

پاکستان کے وزیر داخلہ احسن اقبال کی جانب سے ٹوئٹر پر پیغام میں ایف اے ٹی ایف کے اجلاس کا حوالہ دیے بغیر ترکی کا شکریہ ادا کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ مشکل وقت میں ساتھ کھڑےرہنے پر وہ ترکی کے شکر گزار ہیں اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دونوں ملک ایک ہیں اور پاکستان کو ترکی جیسے بھائی پر فخر ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان کے وزیرِ خارجہ خواجہ آصف نے منگل کو ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ان کی کوششیں رنگ لے آئی ہیں۔ پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنے کے حوالے سے تین ماہ کی مہلت تجویز کی گئی ہے اور ایشیا پیسفک گروپ سے ایک اور رپورٹ مانگی جائے گی جس پر جون میں دوبارہ غور ہوگا۔

خواجہ آصف نے اس حوالے سے پاکستان کی حمایت کرنے والے دوست ممالک کا شکریہ بھی ادا کیا تھا۔

مزید پڑھیے

ایف اے ٹی ایف کا اجلاس اور پاکستان کی مشکلات

اقوام متحدہ کی فہرست میں شامل تنظیمیں پاکستان میں کالعدم

فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے خلاف کریک ڈاؤن شروع

امریکی جارحانہ بیانات سود مند ثابت نہیں ہوں گے: پاکستان

تاہم امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیدر نوریٹ نے منگل کو بھی اس کی تصدیق سے انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کے پاس کوئی مصدقہ اطلاع نہیں کہ فیصلہ وقت سے پہلے کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اس اجلاس سے قبل پاکستان میں ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ان تمام تنظیموں کو کالعدم قرار دے دیا گیا تھا جنھیں اقوامِ متحدہ نے دہشت گرد قرار دیا ہوا ہے۔

اس آرڈیننس کے نفاذ کے بعد ملک میں انڈیا اور امریکہ کو مطلوب شدت پسند رہنما حافظ سعید سے منسلک تنظیم جماعت الدعوۃ اور اس کے فلاحی ونگ فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن کے خلاف کریک ڈاؤن بھی کیا گیا۔

فلاح انسانیت فاؤنڈیشن سنہ 2012 سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تحت کالعدم قرار دی گئی تھی لیکن پاکستان میں اس تنظیم کے تحت سینکڑوں ایمبولینسز ملک کی مختلف علاقوں میں کام کر رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فلاح انسانیت فاؤنڈیشن سنہ 2012 سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تحت کالعدم قرار دی گئی ہے

پاکستان کو کیا نقصان ہو سکتا ہے؟

اس معاملے پر مالیاتی و اقتصادی امور کے ماہر عابد سلہری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'اس گرے لسٹ میں نام آنا پاکستان کے لیے اقتصادی، سفارتی اور سماجی دھچکا ہو گا۔

'سب سے بڑا اثر تو پاکستان کے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعلقات پر پڑے گا، پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ، پاکستانی کی مالی ساکھ، ان سب کو بڑا دھچکا لگے گا۔ اس کے علاوہ پاکستان کے تاثر کو بھی نقصان پہنچے گا۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان امن بحال ہونے کے بعد سرمایہ کاروں کو اپنے یہاں لانے کی جو کوشش کر رہا ہے، انھیں زک پہنچے گی۔ اس کے علاوہ پاکستان کی طرف جو بھی پیمنٹ، یا سافٹ لون آنے والے ہوں گے اس کی زیادہ کڑی چھان بین ہو گی۔ اس موقعے پر اس فہرست میں آنے کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔'

عابد سلہری کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس سال جولائی میں نیپال میں ایشیا پیسیفک گروپ کا اجلاس ہو گا جس میں پاکستان شمولیت کے عمل سے گزر رہا ہے۔ اگر پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی فہرست میں آیا تو شمولیت خطرے میں پڑ جائے گی۔

یہ بھی پڑھیے

کیا دہشتگردوں کی مالی معاونت کو روکنا ممکن ہے؟

منی لانڈرنگ:حکومت کے لیے ایک 'ویک اپ کال'

ایف اے ٹی ایف کیا ہے؟

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) ایک بین الحکومتی ادارہ ہے جس کا قیام 1989 میں عمل میں آیا تھا۔

اس ادارے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی نظام کو دہشت گردی، کالے دھن کو سفید کرنے اور اس قسم کے دوسرے خطرات سے محفوظ رکھا جائے اور اس مقصد کے لیے قانونی، انضباطی اور عملی اقدامات کیے جائیں۔

اس تنظیم کے 35 ارکان ہیں جن میں امریکہ، برطانیہ، چین اور انڈیا بھی شامل ہیں، البتہ پاکستان اس تنظیم کا رکن نہیں ہے۔

اس ادارے کی ویب سائٹ کے مطابق یہ ایک 'پالیسی ساز ادارہ' ہے جو سیاسی عزم پیدا کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔

اس کے ارکان کا اجلاس ہر تین برس بعد ہوتا ہے جس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کی جاری کردہ سفارشات پر کس حد تک عمل درآمد ہو رہا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں