پشاور: تعلیمی اداروں میں حکومت کی سکیورٹی پالیسی ناکام

پشاور آرمی پبلک سکول تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 16 دسمبر سنہ 2014 میں طالبان شدت پسندوں نے پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملہ کر کے 140 سے زیادہ افراد کو ہلاک کر دیا تھا جن میں اکثریت طلبا کی تھی

پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد تعلیمی اداروں میں اساتذہ کو اسلحے کے استعمال کی تربیت، اسلحہ رکھنے کی اجازت اور اسلحہ لائسنس جاری کرنے کی حکومتی پالیسی ناکام رہی جبکہ صوبے میں تعلیمی اداروں کی سکیورٹی کے حوالے سے بھی حکومتی توجہ کم ہو گئی ہے۔

سرکاری سکولوں کے اساتذہ اور سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں میں سکیورٹی کے نام پر اسلحہ رکھنا یا اساتذہ کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دینا حکومت کی ناکامی ہے کیونکہ شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران جب خیبر پختونخوا میں سکولوں پر آئے روز حملے ہو رہے تھے تو ان دنوں اساتذہ اپنے ساتھ اسلحہ بھی سکول لے جایا کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

چارسدہ یونیورسٹی حملے کے ایک سال بعد

باچاخان یونیورسٹی میں سکیورٹی انتظامات بہتر، طلبا ناخوش

آرمی پبلک سکول حملہ: 'وہ ایسا منظر تھا جسے شاید لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا'

ایک سرکاری سکول کے استاد مختیار خان نے بتایا کہ وہ خود اس پالیسی کے خلاف ہیں کہ استاد اپنے ساتھ اسلحہ سکول لائیں کیونکہ اس کے طلبا پر منفی اثرات پر پڑتے ہیں اور یہ خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب حکومت نے اساتذہ کو اپنے ساتھ اسلحہ رکھنے کی اجازت دی تھی تو ان کے سکول میں کچھ استاد اسلحہ لایا کرتے تھے لیکن وہ خود بھی اس سے مطمئن نہیں تھے اور ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے اور بچوں کی حفاظت کے لیے مجبوراً اسلحہ ساتھ لاتے ہیں۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران پاکستان کے قبائلی علاقوں اور صوبہ خیبر پختونخوا میں متعدد سکولوں کو نشانہ بنایا گیا اور ان کی تعداد 800 سے 1200 کے درمیان بتائی جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption باچا خان یونیورسٹی چارسدہ پر شدت پسندوں کے حملے میں 14 طلبہ سمیت 18 افراد ہلاک ہو گئے تھے

پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد حکومت نے تعلیمی اداروں کی سکیورٹی کے لیے مختلف منصوبے بنائے جن میں ایک یہ بھی تھا کہ اساتذہ کو اسلحے کے استعمال کی تربیت دی جائے گی اور انھیں اسلحہ لائسنس بھی جاری کیے جائیں گے۔

پشاور کے ایک استاد ارشاد خان نے بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا کہ حکومت کی اسلحہ ساتھ رکھنے کی پالیسی ناکام رہی کیونکہ یہ صرف اعلان تک محدود رہی اور صرف چند سکولوں میں اساتذہ کو تربیت دی گئی اور اس کے بعد یہ سلسلہ روک دیا گیا تھا۔

صوبائی حکومت نے اساتذہ کو اسلحے کے استعمال کی تربیت اور انھیں اسلحہ فراہم کرنے کی پالیسی ناکام ہونے کے بعد تعلیمی اداروں میں سکیورٹی اقدامات بہتر کرنے کے لیے تربیت یافتہ گارڈز تعینات کرنے، تعلیمی اداروں کی دیواریں اونچی کرنے، خاردار تاریں بچھانے کے علاوہ کیمروں اور واکر تھرو گیٹ نصب کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ اس حکم نامے پر چند تعلیم اداروں نے تو عمل کیا لیکن بیشتر اس پر عمل نہیں کر سکے اور اب یہ پالیسی بھی ناکام ہوتی نظر آ رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

دفاعی امور کے ماہر بریگیڈییر ریٹائرڈ سعد نے بی بی سی کو بتایا کہ اس طرح کے اقدامات کرنے سے حکومت خود اپنی ناکامی تسلیم کرتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور جب حکومت شہریوں سے کہے کہ وہ خود اپنی حفاظت کریں تو اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ حکومت اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر سکتی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ 16 دسمبر سنہ 2014 میں آرمی پبلک سکول پر حملے میں 150 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ سکیورٹی کے ان انتظامات کے بعد جب سنہ 2016 میں شدت پسندوں نے باچا خان یونیورسٹی چارسدہ پر حملہ کیا تھا اس وقت جانی نقصان آرمی پبلک سکول کی نسبت کافی حد تک کم ہوا تھا جس سے یہ واضح ہوا تھا کہ ان سکیورٹی انتظامات کے کسی حد تک مثبت اثرات برآمد ہوئے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں