ایف اے ٹی ایف کا اجلاس جاری حتمی اعلامیے کا انتظار

تصویر کے کاپی رائٹ fatf
Image caption ایف اے ٹی ایف کے قوانین کے مطابق تمام فیصلے اتفاق رائے سے کیے جاتے ہیں

اقوام متحدہ کی فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کا پیرس میں اجلاس جاری ہے اور پاکستان کا نام اس ادارے کی 'واچ لسٹ' میں شامل کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں حتمی اعلان جمعہ کی شام تک متوقع ہے۔

امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں نے پاکستان کا نام دہشت گرد تنظیموں کے مالی معاملات پر کڑی نظر نہ رکھنے اور ان کی مالی معاونت روکنے میں ناکام رہنے یا اس سلسلے میں عدم تعاون کرنے والے ممالک کی واچ لسٹ میں شامل کرنے کی قرارداد پیش کر رکھی ہے جس پر اس اجلاس میں غور کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیے

ایف اے ٹی ایف کا اجلاس اور پاکستان کی مشکلات

اقوام متحدہ کی فہرست میں شامل تنظیمیں پاکستان میں کالعدم

فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے خلاف کریک ڈاؤن شروع

امریکی جارحانہ بیانات سود مند ثابت نہیں ہوں گے: پاکستان

برسلز میں موجود صحافی خالد حمید فاروقی نے تنظیم کے ترجمان الیکزندر دانیالے سے بات کر کے بی بی سی کو بتایا کہ ابھی تک حتمی اعلان نہیں کیا گیا ہے اور ذرائع ابلاغ میں جو خبریں گردش کر رہی ہیں وہ محض قیاس آرائیاں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کے علاوہ ایران اور شمالی کوریا کا نام بھی اس 'گرے لسٹ' میں شامل کرنے کی قرار داد زیر غور ہے لیکن حتمی اعلانیہ جاری نہیں کیا گیا ہے۔

دریں اثنا پاکستان کے وزیر داخلہ احسن اقبال نے ایک ٹوئٹ میں پاکستان کی حمایت کرنے پر ترکی کا شکریہ ادا کیا۔ دو دن قبل پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے ایک بیان میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی تھی کہ تنظیم کی طرف سے حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ انھوں نے اس پیغام میں یہاں تک کہا کہ ان کی کوششیں رنگ لے آئیں۔

لیکن جمعہ کی صبح ایک بھارتی اخبار کا حوالہ دے کر برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے یہ خبر دی کہ پاکستان کا نام گرے لسٹ میں شامل کر لیا گیا ہے جس سے پاکستانی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے مقامی ذرائع ابلاغ کو ان خبروں کے رد عمل میں ایک محتاط بیان دیتے ہوئے کہا کہ ابھی حتمی اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا ہے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے کہا کہ اس اجلاس کے نتیجے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا ہے کہ پاکستان کو فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس کے نئے طریقہ کار پر اعتراضات ہیں اور امریکہ کی جانب سے جو اعتراضات اٹھائے گئے ہیں ان میں سے بیشتر پر پاکستان پہلے ہی اُس وقت عمل کر چکا ہے جب اسے جون 2015 میں گرے لسٹ سے نکالا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ترجمان امریکی محکمۂ خارجہ ہیدر نوریٹ کا کہنا تھا کہ ان کے پاس اس بات کی کوئی مصدقہ اطلاع نہیں کہ کوئی فیصلہ وقت سے پہلے کیا گیا ہے

پاکستان 2012 سے 2015 تک بھی اس فہرست میں شامل رہ چکا ہے۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس فہرست میں شمولیت کی وجہ سے پاکستان کو جن مالی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے ان کا نفاذ جون سے ہو گا۔

تاہم امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیدر نوریٹ نے منگل کو بھی اس کی تصدیق سے انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کے پاس کوئی مصدقہ اطلاع نہیں کہ فیصلہ وقت سے پہلے کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

خیال رہے کہ فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس کے اس اجلاس سے قبل پاکستان میں ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ان تمام تنظیموں کو کالعدم قرار دے دیا گیا تھا جنھیں اقوامِ متحدہ نے دہشت گرد قرار دیا ہوا ہے۔

اس آرڈیننس کے نفاذ کے بعد ملک میں انڈیا اور امریکہ کو مطلوب شدت پسند رہنما حافظ سعید سے منسلک تنظیم جماعت الدعوۃ اور اس کے فلاحی ونگ فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن کے خلاف کریک ڈاؤن بھی کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فلاح انسانیت فاؤنڈیشن سنہ 2012 سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تحت کالعدم قرار دی گئی ہے

فلاح انسانیت فاؤنڈیشن سنہ 2012 سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کے تحت کالعدم قرار دی گئی تھی لیکن پاکستان میں اس تنظیم کے تحت سینکڑوں ایمبولینسز ملک کی مختلف علاقوں میں کام کر رہی ہیں۔

ایف اے ٹی ایف کیا ہے؟

فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) ایک بین الحکومتی ادارہ ہے جس کا قیام 1989 میں عمل میں آیا تھا۔

اس ادارے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی نظام کو دہشت گردی، کالے دھن کو سفید کرنے اور اس قسم کے دوسرے خطرات سے محفوظ رکھا جائے اور اس مقصد کے لیے قانونی، انضباطی اور عملی اقدامات کیے جائیں۔

یہ بھی پڑھیے

کیا دہشتگردوں کی مالی معاونت کو روکنا ممکن ہے؟

منی لانڈرنگ:حکومت کے لیے ایک 'ویک اپ کال'

اس تنظیم کے 35 ارکان ہیں جن میں امریکہ، برطانیہ، چین اور انڈیا بھی شامل ہیں، البتہ پاکستان اس تنظیم کا رکن نہیں ہے۔

اس ادارے کی ویب سائٹ کے مطابق یہ ایک 'پالیسی ساز ادارہ' ہے جو سیاسی عزم پیدا کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔

اس کے ارکان کا اجلاس ہر تین برس بعد ہوتا ہے جس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کی جاری کردہ سفارشات پر کس حد تک عمل درآمد ہو رہا ہے۔

اس معاملے پر مالیاتی و اقتصادی امور کے ماہر عابد سلہری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'اس گرے لسٹ میں نام آنا پاکستان کے لیے اقتصادی، سفارتی اور سماجی دھچکا ہو گا۔

'سب سے بڑا اثر تو پاکستان کے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعلقات پر پڑے گا، پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ، پاکستانی کی مالی ساکھ، ان سب کو بڑا دھچکا لگے گا۔ اس کے علاوہ پاکستان کے تاثر کو بھی نقصان پہنچے گا۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان امن بحال ہونے کے بعد سرمایہ کاروں کو اپنے یہاں لانے کی جو کوشش کر رہا ہے، انھیں زک پہنچے گی۔ اس کے علاوہ پاکستان کی طرف جو بھی ادائیگیاں، یا نرم شرائط پر قرضے ملنے والے ہوں گے اس کی زیادہ کڑی چھان بین ہو گی۔ اس موقعے پر اس فہرست میں آنے کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔'

عابد سلہری کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس سال جولائی میں نیپال میں ایشیا پیسیفک گروپ کا اجلاس ہو گا جس میں پاکستان میں پاکستان رکنیت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی فہرست میں آیا تو شمولیت خطرے میں پڑ جائے گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں