’شدت پسند تنظیموں کے خلاف بتدریج کارروائی ممکن ہے، ساتویں منزل سے چھلانگ نہیں لگائی جاسکتی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان پر الاًمام لگایا جاتا ہے کہ وہ کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی جانب سے پاکستان کا نام ادارے کی واچ لسٹ میں شامل نہیں کیا گیا ہے لیکن جمعہ کی صبح سے ہی ذرائع ابلاغ اور سماجی رابطوں کی سائٹس پر اس حوالے سے پاکستان مخالف خبریں گردش کر رہی تھیں۔

یہ بحث بھی جاری تھی کہ واچ لسٹ میں نام آنے کی صورت میں پاکستان سنگین معاشی بحران کا شکار ہوسکتا ہے۔ اگر پاکستان کا نام ادارے کی واچ لسٹ میں شامل کر لیا جاتا تو اس کے پاکستان کی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوتے۔

اس بارے میں سنئیر صحافی اور تجزیہ نگار ایم ضیاء الدین کا بی بی سی اردو کے ریڈیو پروگرام سیربین میں بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ 'پاکستان 2013 اور 2015 کے درمیان پہلے بھی ایف اے ٹی ایف واچ لسٹ پر رہا چکا اس زمانے میں آئی ایم ایف کا پروگرم بھی چل رہا تھا، اگر ماضی کے تجربے کو لیا جائے تو کوئی خاصل فرق نہیں پڑتا۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ زیادہ اندیشہ اس بات کا ہے کہ 'جو ممالک ہم پر پابندی لگوانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ ہماری دو طرفہ امداد بند یا اس میں کمی کریں دیں گے۔ اس حوالے سے امریکہ پہلے ہی کہا چکا ہے کہ وہ ہماری امداد بند کر رہا ہے۔'

ایم ضیا الدین نے بی بی سی کو بتایا کہ ماضی کے تجربے کو دیکھتے ہوئے تو یہی لگتا ہے کہ پاکستان میں جاری بین الاقوامی معاشی اداروں، جیسے آئی ایم ایف یا ایشین ڈیویلپمنٹ کے منصوبوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کچھ ممالک کا موقف ہے کہ پاکستان کی حکومت ملک میں موجود کالعدم تنظیموں اور ان کے رہنماؤں کی سرگرمیاں روکنے میں ناکام رہی ہے

اس سوال پر کہ کیا واچ لسٹ میں نام آنے سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ پر کوئی اثر پڑے گا؟ ان کا کہنا تھا کہ اچھی شرح سود پر بین الاقوامی تجارتی قرضے حاصل کرنے کے لیے کریڈٹ ریٹنگ بہت اہم ہوتی ہے لیکن پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ پہلے ہی کافی خراب ہے۔ اس لیے کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔

پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی واچ لسٹ میں ڈالنے کا مطالبہ کرنے والے ممالک کا موقف ہے کہ پاکستان کی حکومت ملک میں موجود کالعدم تنظیموں اور ان کے رہنماؤں کی سرگرمیاں روکنے میں ناکام رہی ہے۔

جب ضیاء الدین سے پوچھا گیا کہ کیا یہ غیر ریاستی عناصر پاکستان کے لیے اتنے اہم ہیں کہ پاکستان اتنا بڑا سفارتی دھچکا تک برداشت کرنے کے لیے تیار ہے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے یہ غیرریاستی عناصر بنائے تھے وہ ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔ ان عناصر پر پابندی لگانا آسان نہیں ہے، ان تنظموں کے فلاحی ادارے ہزاروں لوگوں کو روزگار اور غریبوں کو مفت سہولیات فراہم کرتے ہیں اور اگر حکومت انھیں اپنے قبضے میں لے بھی لے تو وہاں کام کرنے والوں کی ہمدردیاں انہی لوگوں کے ساتھ ہوں گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'اس بارے میں ایک اعلیٰ ریٹائرڈ فوجی افسر سے میری بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں پر فوری پابندی لگانا ساتویں منزل سے چھلانگ لگانے کے مترادف ہوگا، ہم سیڑھی کے ذریعے بتدریج نیچے اترنا چاہتے ہیں۔'

ایم ضیاء الدین کا کہنا تھا کہ ان تنظیموں پر پابندی لگانا اتنا آسان نہیں ایسے عناصرے کی حمایت معاشرے میں موجود ہے اور جلدبازی کوئی قدم اٹھانے کے منفی نتائج بھی نکل سکتے ہیں۔

اسی بارے میں