’اپنے دشمن کو کبھی مت چھیڑو جب وە غلطیاں کر رہا ہو'

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سوشلستان میں کہیں ماتم ہے تو کہیں شادیانے بجائے جا رہے ہیں۔ اس سب کے درمیان بہت ساری کنفیوژن ہے۔ بڑے عرصے کے بعد کیلبری فونٹ ایک بار پھر پاکستانی ٹرینڈز میں سامنے آیا جبکہ پی ایس ایل کے ٹرینڈز اس کے علاوە ہیں۔

مگر سابق وزیراعظم نواز شریف کی اپنی جماعت کی صدارت کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر آنے والا ردِ عمل دونوں جانب سے بہت شدید تھا اور ہم اسی پر بات کریں گے۔

مزید پڑھیے

’موقع مت دو انصاف كرو بابا‘

’کیا چاہتے ہو پورے پاکستان کو لٹکا دیا جائے؟‘

’35 پنکچر بھی موصُوف نے ایجاد کیے تھے‘

نواز شریف کو مسلم لیگ ن کی صدارت سے نااہل قرار دیے جانے کے فیصلے پر پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے بہت خوشی کا اظہار کیا گیا اور اس معاملے میں پہل کرنے والوں میں جماعت کے نااہل قرار دیے جانے والے رہنما جہانگیر ترین تھے۔

جہانگیر ترین نے لکھا 'پوری قوم عزت مآب سپریم کورٹ کو اس تاریخی فیصلے پر سلیوٹ پیش کرتی ہے جس میں نواز شریف کو ان کی جماعت کی صدارت کے عہدے سے نااہل قرار دیا گیا ہے۔ نواز شریف جیسے لٹیرے کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے قید کاٹنی چاہیے نہ کہ ایک سیاسی جماعت کی سربراہی کر کے مجھے کیوں نکالا کی رٹ۔ سلام ہے سپریم کورٹ کو۔'

تحریکِ انصاف ہی کے ایک اور رہنما اسد عمر نے لکھا 'میاں صاحب اور درباریوں کی دھمکیاں اور دباؤ ناکام۔ فیصلہ آخر کار قانون کے مطابق ہی آیا۔ اسی لیے کہتے ہیں جج اپنے فیصلوں سے بولتے ہیں۔ کرتے رہو تقریریں۔ سو لوہار کی ایک سُنار کی۔'

مگر اتنی ہی تعداد میں لوگ ایسے بھی تھے جنھوں نے اسے ایک ایسا فیصلہ قرار دیا جس کے مضمرات آنے والے وقتوں میں تمام سیاسی جماعتوں کو بھگتنے پڑیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اخبار ڈیلی ٹائمز کے ایڈیٹر رضا رومی نے لکھا: 'پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ عوام میں مقبول سیاست دانوں کو قانونی موشگافیوں سے شکست نہیں دی جا سکتی۔ بھٹو صاحب کو ہی دیکھ لیجیے۔ اس سے نا انصافی کا بیانیہ تقویت پاتا ہے۔ جن کو 'ان پڑھ اور جاہل'عوام کہا جاتا ہے وہ دراصل با شعور ہیں اور پاکستانی سیاست اور ریاستی نظام کو خوب سمجھتے ہیں۔'

صحافی اور روزنامہ پاکستان کے مدیر مجیب الرحمٰن شامی نے لکھا: ’یحییٰ خان کو سپریم کورٹ نے غاصب قرار دیا لیکن ان کے اقدامات کو کالعدم قرار نہیں دیا گیا تھا۔ سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر سمیت ایمرجنسی کو رد نہ کرنے والے تمام ججوں کے خلاف فیصلے میں ان کے کیے گئے فیصلے بھی ختم نہیں کیے گئے، نواز شریف کے خلاف اس منفرد فیصلے سے سیاسی عمل کو شدید دھچکا لگا ہے۔'

نیوز اینکر اور صحافی طلعت حسین نے سپریم کورٹ کے فیصلے اور اس کے اثرات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا 'اگر نواز شریف نے وزیراعظم کو اہم عہدوں پر تعیناتی کا مشورہ دیا جیسا کہ بحریہ کے سربراہ یا نیب کے چیئرمین؟ پھر کیا ہو گا اگر ایسی دستاویزات ہوں ثابت کرنے کے لیے کہ نواز شریف نے یہ اور ایسے کئی اور احکامات حکومت کو جاری کرنے کے لیے لکھا ہو؟ اوە ڈیئر'

سوشل میڈیا پر ایسے بہت سے لوگ موجود ہیں جو اس فیصلے کے دور رس اثرات پر تبصرہ کر رہے ہیں جن کے مطابق اس کے نتیجے میں عوام میں مسلم لیگ ن سے ہمدردی بڑھ جائے گی۔

صحافی اور اینکر ضرار کھوڑو نے لکھا 'سپریم کورٹ نواز شریف کی انتخابی مہم چلانے جیسا کام کر رہی ہے۔ اور نواز شریف اینڈ کمپنی کے لیے نپولین کا ایک جملہ کہ اپنے دشمن کو کبھی مت چھیڑو جب وە غلطیاں کر رہا ہو۔'

عاطف توقیر نے لکھا 'آئندہ انتخابات شاید وہ پہلے ہوں جب قوم نواز شریف کو ووٹ ان سے محبت، حمایت یا پالیسیوں سے اتفاق کی بنا پر نہیں بلکہ کچھ عدالتی فیصلوں اور جرنیلوں کو مسترد کرنے کے لیے دے گی۔ یہ انتخابات طے کریں گے کہ ملکی اقتدار پر جرنیلوں یا مخصوص فیصلوں کو قابض نہیں ہونے دیا جائے گا۔'

سوشل میڈیا پر ایک طبقے نے اس سارے معاملے میں پاکستان پیپلز پارٹی اور ماضی میں مسلم لیگ ن کے رویے کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔

مگر پارٹی کے رہنما اور قائدِ حزبِ اختلاف سید خورشید شاہ کے برعکس جماعت کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے نواز شریف کو پارٹی صدارت سے ہٹانے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا۔

اور کامیڈین جیریمی میک کلن نے چٹکلا چھوڑتے ہوئے لکھا 'نواز شریف اس سے زیادہ بار نااہل قرار دیے جا چکے ہیں جتنی شادیاں عمران خان نے کی ہیں۔'

اسی بارے میں