’میں نے کیا سعودیوں کا ٹھیکہ لے رکھا ہے؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پچھلے ایک برس میں کوئی مہینہ نہیں جاتا کہ سعودی عرب سے سر چکرا دینے والی خبر نہ آتی ہو

جب 70 کے عشرے میں ماؤزے تنگ کے تطہیری ثقافتی انقلاب کی سخت زمین سے دینگ ژاؤ بینگ کا یہ نعرہ پھوٹا کہ امیر ہونا کوئی بری بات نہیں اور پھر چینی کیمونزم کے بازو میں تھوڑی سی سرمایہ داری کا انجیکشن لگاتے ہوئے یہ دلاسہ دیا گیا کہ بلی سیاہ ہے کہ سفید، کیا فرق پڑتا ہے اگر وہ چوہے پکڑ رہی ہے۔

اس پر دائیں بازو کے دوستوں نے بائیں بازو کے چین نوازوں سے یہ بدتمیزی شروع کر دی کہ کامریڈ کیا اب بھی تم ترمیم پسندی مردہ باد، ماؤ ازم زندہ باد کا نعرہ لگاتے رہو گے؟

جب گوربچوف نے سوویت یونین میں پریسترائیکا (تعمیرِ نو) اور گلاسنوسٹ (کھلے پن) کا علم اٹھایا اور 70 برس بعد نجی ملکیت کا سور حلال قرار دے دیا تو دائیں بازو کے دوستوں نے ماسکو نوازوں پر رکیکیئت شروع کردی۔

کامریڈ کیا اب بھی ماسکو میں سردی پڑی تو تم کراچی میں اوورکوٹ پہن لو گے؟

اس بارے میں مزید پڑھیے

سعودی عرب میں تفریحی صنعت کے لیے 64 ارب ڈالر مختص

’سعودی خواتین کو عبایہ پہننے کی ضرورت نہیں‘

خواتین پہلی بار سٹیڈیم میں، ’شاندار تبدیلی اور رنگوں کا دھماکہ‘

میرے کئی بنیاد پرست کیمونسٹ، سوشلسٹ دوست تو چین کے بدعت پن اور سوویت یونین ٹوٹنے سے اتنے دل بر داشتہ ہوئے کہ کچھ این جی او سیکٹر میں چلے گئے، کچھ تبلیغی ہوگئے، بہت سے کونہ پکڑ کے بیٹھ گئے اور مارکس کا یہ تجزیہ بھی ذہن سے کھرچ دیا کہ ہر نظام کا تضاد اسی نظام کے اندر سے ابھرتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ضیا الحق نے سعودی علما کے مشورے سے وہ قانون سازی کی جس کے ثمرات آج ہر طرف لہلہا رہے ہیں

دائیں بازو کے دوستوں نے چین میں آنے والی گہری تبدیلیوں اور سوویت یونین کے خاتمے کو پہلے تو مکافاتِ عمل سمجھا اور پھر یہ یقین کر لیا کہ بیجنگ اور ماسکو کے بعد اب واشنگٹن کی باری ہے۔ پہلے کیمونزم مردہ باد، اب لبرل ازم سیکولر ازم مردہ باد۔ خالص اسلام زندہ باد۔

اور خالص اسلام کی مثال میں سعودی ریاست کو پیش کیا گیا۔ قوانین اگر وہی ہو جائیں جیسے سعودی عرب میں ہیں تو پاکستان بھی انہی فیوض و برکات سے مالامال ہو جائے گا۔ چنانچہ ضیا الحق نے سعودی علما کے مشورے سے وہ وہ قانون سازی کی جس کے ثمرات آج ہر طرف لہلہا رہے ہیں۔

خوبصورت مساجد، کثیر منزلہ مدارس، ان مدارس سے نکلنے والے سعودی نظریاتی متاثرین کے لیے فنڈنگ، سکالر شپس، ہم خیال علماِ کرام پر نوازشات و انعامات کی بارش، حج و عمرے کے کوٹے، ہر فوجی و سویلین حکمران کی ریاض کی چوکھٹ پر حاضری، ہر درخواست حکم کا درجہ، یہ لیجیے فوجی دستے، یہ لیجیے مزدور، یہ لیجیے ناپسندیدہ لوگ، آپ ہمارے نظریاتی و روحانی مرشد، ہم آپ کے جانثار مرید، کسی نے میلی آنکھ سے دیکھا تو ڈھیلا نکال کے ہاتھ پر دھر دیں گے۔

سعودی اسلام زندہ باد، لِبرل سیکولر فاشسٹو پاکستان چھوڑ دو اور مغربی آقاؤں کے تلوے چاٹو۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سعودی خواتین جون سے گاڑیوں سے لے کر ٹرک بھی چلا سکیں گی

پھر ایک دن کرنا خدا کا یہ ہوا کہ سعودی عرب میں محمد بن سلمان نامی دینگ ژاؤ بینگ اور میخائیل گوربچوف کا جنم ہوا اور گلاسنوسٹ و پریسترائیکا کا بھوت سعودی ویژن 2030 کے نام سے سامنے آگیا۔

کہاں ملکہِ برطانیہ کو بھی بادشاہ سے ملاقات کے لیے حجاب اور گاؤن پہننا پڑتا تھا اور کہاں مسز ڈونلڈ ٹرمپ اور صاحبزادی ایوانکا خادمِ حرمین کے آگے سے بال جھٹکتے ہوئے گزر گئیں۔

پچھلے ایک برس میں کوئی مہینہ نہیں جاتا کہ سعودی عرب سے سر چکرا دینے والی خبر نہ آتی ہو۔

کہاں عورتوں کی ڈرائیونگ سے کنوار پنے کو خطرہ بتایا جاتا تھا اور کہاں اب عورتیں کار چھوڑ موٹر سائیکل اور ٹرک چلا سکتی ہیں، سٹیڈیم میں میچ دیکھ سکتی ہیں، فتویٰ ہو گیا ہے کہ عبایہ پہننا ضروری نہیں بس معقول حجاب کافی ہے، خواتین بیشتر شعبوں میں ملازمت کر سکتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ولی عہد محمد بن سلمان نے اصلاحات متعارف کرائی ہیں

چار سعودی لڑکیوں کے پاپ گروپ خمسہ الضیا نے یو ٹیوب پر تباہی مچا دی۔ ریاض میں پہلے اوپرا ہاؤس کی تعمیر شروع اور لاس ویگس جیسے تفریحی شہر کی تعمیر کا منصوبہ، مارچ میں پہلا عرب فیشن وویک ریاض میں منعقد ہوگا۔

اگلے 12 برس میں تین سو سینیما ہاؤس تعمیر ہوں گے۔ سعودی فلمسازوں کو اب ملک کے اندر فلمیں بنانے کی اجازت،انٹرٹینمنٹ پر اگلے 10 برس میں 64 ارب ڈالر خرچ ہوں گے۔

ولی عہد محمد بن سلمان کے بقول ’ہماری 70 فیصد آبادی کی عمر 30 سال سے کم ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان کے لیے سعودی عرب پھر سے ایسا اعتدال پسند ملک بن جائے جس میں تمام مذاہب، ثقافتوں اور لوگوں کے لیے راہیں کھلی ہوں۔‘

میں نے روس اور چین کو مکافاتِ عمل سے گزارنے والے چار جئید دوستوں کو فون کیا۔ تین نے فون ہی نہیں اٹھایا۔ چوتھے نے کہا یہ سعودی عرب کا اندرونی معاملہ ہے مجھ سے کیا پوچھتے ہو، میں نے کیا ٹھیکہ لے رکھا ہے ان کا۔ وما علینا الالبلاغ ۔۔۔

اسی بارے میں