لاہور: ’ساجد مسیح پر تشدد نہیں کیا، تحقیقات کے خوف سے کھڑکی سے کود گیا‘

ساجد مسیح

پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے لاہور میں تحقیقات کے دوران چوتھی منزل سے کود جانے والے ساجد مسیح کے ان الزامات کر تردید کی ہے جس میں تشدد کا نشانہ بنانے اور تایا زاد بھائی کے ساتھ ’نازیبا حرکات‘ پر مجبور کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

لاہور کے رہائشی ساجد مسیح کے تایا زاد بھائی پطرس مسیح پر الزام ہے کہ انہوں نے فیس بک پر گستاخانہ مواد شائع کیا تھا۔

نامہ نگار حنا سعید کے مطابق لاہور میں 19 فروری کو لبیک یا رسول اللہ جماعت کے کارکن محمد اویس نے شاہدرہ پولیس سٹیشن میں توہین رسالت کی دفعہ 295 سی کے تحت پطرس مسیح کے خلاف رپورٹ درج کروائی تھی۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

’موقع مت دو انصاف كرو بابا‘

ایک قدم آگے اور دو قدم پیچھے

پاکستان میں توہین مذہب کے قوانین پر اقدامات کی سفارش

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ’پطرس نے فیس بک پر ایک صحفہ بنا رکھا ہے جس پر انہوں نے ایسی تصاویر شیئر کی ہیں جو توہین رسالت کے زمرے میں آتی ہیں‘۔

مقامی افراد کے مطابق ایف آئی آر درج ہونے کی بعد ہجوم کی شکل میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس علاقے میں پہنچی اور پطرس کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

مقامی پولیس نے پطرس کو گرفتار تو کر لیا لیکن سوشل میڈیا سے منسلک تفتیش ایف آئی اے کے سائبر کرائم سیل میں کی جاتی ہے، اس لیے عدالت نے معاملہ ایف ائی اے کو بھجوا دیا۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر خواجہ حماد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’23 فروری کو مقامی عدالت میں ایف آئی اے کی ٹیم کی موجودگی میں عدالت میں ہنگامہ آرائی ہوئی اور مدعی گروپ نے ملزم کو تھپڑ بھی مارے‘۔

ڈپٹی ڈائریکٹر خواجہ حماد نے بتایا کہ ایف آئی اے نے ملزم پطرس کے موبائل ڈیٹا کا فارنزک چیک کروایا ہے اور فیس بک کو بھی اس حوالے سے درخواست کی ہے، ابھی ان کا جواب آنا باقی ہے۔

’دوران تفتیش پطرس نے اپنے تایا زاد بھائی ساجد مسیح کا نام لیا تو ایف آئی نے ساجد کو بھی بلایا۔ ایف آئی اے کے دفتر کی چوتھی منزل پر فارنزک ڈیپارٹمنٹ ہے جہاں ساجد سے ان کا موبائل مانگا گیا تو انہوں نے دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ان کے فون میں کچھ نہیں۔‘

ڈپٹی ڈائریکٹر خواجہ حماد کے مطابق ’تفتیش کے ڈر سے پہلے ساجد نے اپنا موبائل کھڑکی سے باہر پھینکا اور پھر ہمیں ڈرانے کے لیے خود لٹک گئے۔ اسی دوران ساجد کا ہاتھ پھسلا اور وہ ساتھ والی ایک منزلہ عمارت کی چھت پر گر گیا۔

’ریسکیو 1122 ساجد کو ہسپتال لے گئی اور ان کی دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئی ہیں۔ ہسپتال میں وہ پولیس کی زیر نگرانی ہیں لیکن اب پہلے سے بہتر ہیں۔‘

ہسپتال میں زیر علاج ساجد مسیح نے ایک ویڈیو میں الزام لگایا ہے کہ ایف آئی اے کے اہلکاروں نے ان پر تشدد کیا اور ان کو مجبور کیا کہ وہ پطرس کے ساتھ ’نازیبا حرکات‘ کریں۔ جس کے جواب میں ان کے پاس عمارت سے کودنے کے علاوہ کوئی راستہ نہ تھا۔

ڈپٹی ڈائریکٹر خواجہ حماد نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

ساجد مسیح کے خلاف تھانہ سول لائنز میں اقدام خودکشی کے جرم میں ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہے۔

ایف آئی نے پطرس سے تفتیش مکمل کر کے انہیں سنیچر کو مقامی عدالت کے مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا۔

پطرس نے عدالت میں دعویٰ کیا کہ تفتیش کے دوران ان پر تشدد کیا گیا ہے جس پر عدالت نے ملزم کا میڈیکل کروانے کا حکم دیا۔ میڈیکل کی رپورٹ کے مطابق پطرس کے جسم پر تشدد کے کوئی نشانات موجود نہیں۔

مجسٹریٹ نے ملزم کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجتے ہوئے ایف آئی اے کو ہدایت کی ہے کہ ملزم کے خلاف چالان جلد پیش کریں۔ حکام کے مطابق یہ چالان منگل کو پیش کیا جائے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں