مشال قتل کیس کے 25 مجرمان کی سزائیں معطل، ضمانتیں منظور

مشال تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption مشال خان کو گذشتہ برس یونیورسٹی کے طلبا اور عملے کے کچھ ارکان پر مشتمل مشتعل ہجوم نے توہینِ مذہب کا جھوٹا الزام لگا کر تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا تھا

پشاور ہائی کورٹ کے ایبٹ آباد بینچ نے مشال خان قتل کیس میں سزا پانے والے 25 مجرمان کی سزائیں معطل کرتے ہوئے ان کی ضمانت کی درخواستیں منظور کر لی ہیں۔

ملزمان کے وکلا کی ٹیم میں شامل افتخار مایار ایڈووکیٹ نے بی بی سی کے نامہ نگار اظہار اللہ کو بتایا کہ انھوں نے سزاؤں کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ضمانت کی درخواست کریمینل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 462 کے تحت دائر کی گئی تھی جس کے مطابق عدالت کسی مجرم کی سزا معطل کر کے اسے ضمانت پر رہا کر سکتی ہے۔

مشال خان قتل کیس کے بارے میں مزید پڑھیے

مشال خان قتل کیس میں سزاؤں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

مشال قتل کیس میں ایک مجرم کو سزائے موت،پانچ کو عمرقید

مشال خان قتل کیس کے اہم مجرمان کا پس منظر؟

’اتنی شہادتوں کے بعد 26 ملزمان کیسے رہا ہوگئے!‘

افتخار مایار نے کہا کہ ’مشال کیس میں قانونی پیچیدگیوں کو درست طریقے سے نہیں پرکھا گیا ہے اور ہمیں امید ہے کہ ابھی سزائیں معطل ہوئی ہے اور یہ ختم بھی ہو سکتی ہیں۔‘

ضمانت پر رہائی کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے مشال خان کے وکیل فضل خان ایڈوکیٹ نے کہا کہ انھیں عدالت کی جانب سے نوٹسز جاری کیے بغیر ضمانت کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہمیں دفاع کا موقع فراہم کیا جاتا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ اپیلیں پشاور ہائی کورٹ میں دائر کئے گئے ہیں اور ان کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ پشاور ہائی کورٹ ہی کر سکتی ہے نہ کہ ایبٹ آباد بنچ۔

فضل خان کے مطابق دوسری اہم بات یہ ہے کہ ملزمان کے خلاف انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج ہیں جس میں وہ سمجھتے ہیں کہ قانونی طور پر اس میں ضمانت نہیں ہو سکتی۔

مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی کے شعبۂ صحافت کے طالبعلم مشال خان کو گذشتہ برس یونیورسٹی کے طلبا اور عملے کے کچھ ارکان پر مشتمل مشتعل ہجوم نے توہینِ مذہب کا جھوٹا الزام لگا کر تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا تھا۔

حال ہی میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے اس مقدمۂ قتل کا فیصلہ سناتے ہوئے ایک مجرم کو سزائے موت، پانچ کو عمرقید اور 25 کو چار چار برس قید کی سزا دینے کا حکم دیا تھا جبکہ 26 افراد کو بری کر دیا گیا تھا۔

عدالت کے اس فیصلے کے خلاف مشال خان کے اہلخانہ کی جانب سے بھی پشاور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی ہے جس میں ملزمان کی بریت کو چیلنج کیا گیا ہے۔

مشال خان کے قتل کے جرم میں سزا پانے والے افراد کے حق میں مردان میں مظاہرے بھی ہوئے ہیں جبکہ بری ہونے والے افراد کے لیے خیرمقدمی جلوس نکالے گئے ہیں۔

اسی بارے میں