فاصلہ رکھیں، آپ ایک خاتون کے ساتھ سوار ہیں!

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
رفعت شیراز پاکستان میں آن لائن ٹرانسپورٹ بکنگ کمپنی کریم سے وابستہ پہلی خاتون رائیڈر ہیں

لمبے بالوں کا جوڑا بنا کر سر پر سفید ہیلمٹ پہنے ایک خاتون لاہور کی سڑکوں پر ایسے موٹرسائیکل دوڑاتی ہے جیسے سڑک سے کوئی پرانی دوستی ہو اور کیوں نہ ہو، 12 سال کی عمر سے موٹرسائیکل ان کی بہترین دوست جو رہی ہے۔

لاہور سے تعلق رکھنے والی رفعت شیراز پاکستان میں آن لائن ٹرانسپورٹ بکنگ کمپنی کریم سے وابستہ پہلی خاتون موٹرسائیکلسٹ ہیں جو اپنی موٹر سائیکل پر لڑکے اور لڑکیوں دونوں کو رائیڈز دیتی ہیں۔

پاکستانی خواتین بائیکرز کی کہانیاں

’ہمت اور گھر والوں کا ساتھ ہو تو کچھ ناممکن نہیں‘

’ہراساں کیے جانے سے تنگ آ کر بائیک چلائی‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں اکثر لڑکوں کو دیکھتی تھی کہ وہ بائیک چلا رہے ہیں تو میرا بھی دل کرتا تھا۔ میں 12 سال کی تھی جب میں نے اپنے شوق سے بائیک چلانا سیکھی اور چلائی بھی لیکن مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ یہ شوق ایک دن مجھے اس ملک کی پہلی فیمیل کریم رائیڈر بنا دے گا۔

’دراصل میں کریم گاڑی چلانے کیلئے رجسٹریشن کروانے گئی تھی، وہاں بات نہیں بنی تو سوچا اپنا موٹرسائیکل ہے کریم بائیک میں قسمت آزما لوں۔ بس یہیں سے شروع ہوئی میری کہانی۔`

لاہور شہر کی بےہنگم ٹریفک میں جہاں گاڑی چلانا اپنے آپ میں ایک مشن ہے۔ ایسے میں ایک خاتون کے لیے ایسی ٹریفک میں مردوں کو اپنی موٹرسائیکل پر پیچھے بٹھا کر سواری دینا کتنا مشکل ہے اس کا خلاصہ رفعت کچھ یوں کرتی ہیں۔

Image caption لاہور شہر کی بےہنگم ٹریفک میں موٹرسائیکل چلانا اپنے آپ میں ایک مشن ہے

`موٹرسائیکل چلاتے ہوئے جب مجھے کوئی راستہ نہیں دیتا یا زبردستی اوورٹیک کرنے کی کوشش کرتا ہے تو پھر میں بھی کسی سے کم نہیں ہوں۔ میں بھی اپنی بیچ سے نکلنے کی کوشش کرتی ہوں۔‘

یہ بھی پڑھیے

طالبات کے لیے بائیک ٹو سکول منصوبہ

’زیادہ تر تو سکول کالج کے لڑکے ہوتے ہیں یا اب تھوڑی بہت لڑکیاں بھی آنا شروع ہو گئی ہیں۔ لیکن جب میرے ساتھ کوئی بڑی عمر کا آدمی سواری کی بکنگ کرتا ہے تو میں کشمکش میں پڑ جاتی ہوں۔ کچھ سمجھ نہیں آتا کہ کس طرح ان کو سمجھاؤں۔ پھر میں انھیں بھائی کہہ کر ذرا پیچھے ہٹاتی ہوں کہ فاصلہ رکھ کر بیٹھیں، آپ کسی مرد کے ساتھ نہیں، ایک خاتون ڈرائیور کے ساتھ سوار ہیں۔ بھائی اپنا فاصلہ برقرار رکھیں۔‘

رفعت کا کہنا ہے کہ کچھ ایسے لوگ بھی ملے جنھوں نے انھیں دیکھ کر موٹرسائیکل پر بیٹھنے سے انکار کر دیا اور رائیڈ ہی کینسل کر دی تو وہیں کچھ مرد حضرات کو انھیں سمجھانا پڑتا ہے کہ اگر انھیں رفعت کے موٹرسائیکل چلانے پر اعتراض ہے تو وہ خود موٹرسائیکل چلا لیں اور رفعت پچھلی سیٹ پر بیٹھ جائیں گی۔

اتنی مشکلات سے نمٹتے ہوئے رفعت موٹرسائیکل چلا کر پیسے کمانے کی کوشش تو کر رہی ہیں لیکن وہ کہتی ہیں یہ کام اتنا منافع بخش نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Alamy
Image caption رفعت موٹرسائیکل چلا کر پیسے کمانے کی کوشش تو کر رہی ہیں لیکن وہ کہتی ہیں یہ کام اتنا منافع بخش نہیں

’سارے کمائے ہوئے پیسے پٹرول اور بائیک کی مرمت میں لگ جاتے ہیں۔ کسی سواری کو دور دراز علاقے میں لے کر جاؤ اور واپسی پر سواری نہ ملے تو خالی ہاتھ آنا پڑتا ہے۔ اسی لیے میں نے دوپہر کو ایک اور کمپنی میں کام شروع کیا ہے۔ میں ان کی اکلوتی خاتون رائیڈر ہوں۔ اب صبح کریم کی بائیک چلاتی ہوں، دوپہر سے شام تک اس کمپنی میں کام اور پھر شام کو کریم کی بائیک چلاتی ہوں۔`

رفعت مانتی ہیں کہ پاکستان میں لڑکیوں کے لیے موٹرسائیکل چلانا مشکل نہیں، ضرورت ہے تو بس یہ کہ معاشرہ انہیں کھلے دل اور دماغ سے قبول کرے۔

ان کی خواہش ہے کہ ایک دن وہ اپنی موٹرسائیکل پر پورے پاکستان کا دورہ کر سکیں۔

٭ بی بی سی اردو رواں ہفتے کچھ ایسی پاکستانی خواتین بائیکرز کی کہانیاں پیش کر رہا ہے جنھوں نے موٹر بائیک کو اپنے زندگی بدلنے کے لیے استعمال کیا۔ ان کہانیوں کو آپ بی بی سی اردو کی ویب سائٹ کے علاوہ ٹی وی اور ریڈیو پروگرامز میں دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ ‫اس کے علاوہ آپ اس سیریز کو بی بی سی اردو کی ویب سائٹ، فیس بُک، ٹوئٹر اور انسٹا گرام پر ہیش ٹیگ #BBCURDUWomenBikers کے ساتھ فالو کر سکتے ہیں۔

اسی بارے میں