مسلم لیگ ن ختم تو ہو سکتی ہے لیکن نواز شریف سے الگ نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption جب تک نواز شریف کے بیانیے کو عوام میں پذیرائی ملتی رہے گی کوئی قوت ان کو سیاست میں بے معنی نہیں کر سکتی

سپریم کورٹ سے نااہلی تاحیات ہے یا نہیں اس کا فیصلہ ہونا تو باقی ہے لیکن مسلم لیگ ن نے نواز شریف کو تاحیات قائد منتخب کر کے اعلٰیٰ عدلیہ کے فیصلہ کو پھر مسترد کر دیا ہے۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قائد قائد ہوتا ہے اور اسے کسی عدالت سے صادق اور امین کے سرٹیفیکیٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔

مسلم لیگ ن کی مجلس عاملہ کے فیصلے کے قانونی اور اخلاقی پہلوؤں میں جائے بغیر یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ نواز شریف کو اگر تاحیات کے لاحقے کے ساتھ قائد مقرر نہ بھی کیا جاتا تب بھی وہ ہی پارٹی کے روح رواں ہیں اور رہیں گے کیونکہ یہ جماعت ہی ان کی ہے اور ان ہی کے نام سے موسوم ہے۔

قائد بن کر نواز شریف پارٹی کے اہم فیصلے تو کرتے رہیں گے اور پارٹی ان کی توثیق کرتی رہے گی لیکن عملی سیاست میں نواز شریف کے دوبارہ آنے کے بارے میں فی الوقت یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ ابھی آئین کی شق 62 کے تحت نااہلی کی مدت کا تعین ہونا باقی ہے اور اگر تاحیات کی شرط ختم بھی ہو گئی تو بدعنوانی کے مقدمات کی تلوار تو سر پر لٹک ہی رہی ہے۔

میاں صاحب کے سیاسی مخالفین تو بڑے یقین سے کہہ رہے کہ لندن فلیٹس کی خریداری کی کوئی رسید پیش نہیں کی گئی اس لیے نواز شریف کے حق میں فیصلہ آنا ممکن نہیں ہے۔

نواز شریف تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption قائد بن کر نواز شریف پارٹی کے اہم فیصلے تو کرتے رہیں گے اور پارٹی ان کی توثیق کرتی رہے گی

اس صورت حال میں یہ بات واضح نہیں ہے کہ پارٹی ان کے دوبارہ عملی سیاست میں فعال کردار ادا کرنے کی راہ کس طرح ہموار کر سکتی ہے۔ پاکستان میں مروجہ آئین اور قانون میں تو ایسا کوئی صابن یا شیمپو موجود نہیں ہے کہ جس سے نہا کر میاں صاحب دوبارہ صادق اور امین ہو جائیں۔

میاں صاحب جن مسائل میں گھرے ہیں ان میں کچھ ان کی پارٹی اور خاندان کے اندرونی معاملات سے متعلق بھی ہیں۔

اسی بارے میں مزید پڑھیں!

’ نواز شریف حاضر ہوں‘

نواز شریف کا متبادل کون؟

نواز شریف اور عدالتیں

شہباز شریف کو پارٹی کا مستقل بنیادوں پر سربراہ مقرر کرنے کے بجائے انھیں قائم مقام صدر منتخب کرنے کا فیصلہ بھی ان ہی اندرونی مسائل کی نشاندہی کرتا ہے۔ بلا شبہہ ’پاور پولیٹکس‘ بہت بے رحم کھیل ہے اس میں بھائی، بہن، ماں، باپ کسی پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستان کی سیاست میں آج جو بدعتیں موجود ہیں ان سب کا ذمہ دار مسلم لیگ نون کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ سیاسی جماعتوں میں جب جمہوری روایات کی بات ہوتی ہے تو سب ہی جماعتوں کا ایک ہی حال ہے۔ یہ جماعتیں ملک میں تو جمہوری نظام دیکھنا چاہتی ہیں لیکن اپنی صفوں میں جمہوری روایات کو فروغ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption میاں صاحب جن مسائل میں گھرے ہیں ان میں کچھ ان کی پارٹی اور خاندان کے اندرونی معاملات سے متعلق بھی ہیں

تاحیات قائد نامزد کرنے کی مثال پیپلز پارٹی قائم کر چکی ہے۔ مرحومہ بے نظیر بھٹو کو جب اپنے سگے بھائی میر مرتضی بھٹو کی طرف سے خطرہ پیدا ہوا تو انھوں نے اپنی والدہ کو پارٹی سے بے دخل کر کے تاحیات چیئرپرسن بننے کا اعلان کر دیا تھا۔

مسلم لیگ ن کی اپنی تاریخ میں بھی اس طرح کی ایک اور مثال موجود ہے جب سنہ 1999 میں جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے نواز شریف کو اقتدار سے علیحدہ کر کے ان پر مقدمات بنانے شروع کیے تو مشرف سے ڈیل کر کے ملک سے باہر چلے گئے۔ لیکن جاتے جاتے مشکل حالات میں صدر تو جاوید ہاشمی کو مقرر کردیا اور خود پارٹی کے رہبر بن گئے۔

نواز شریف چاہے ڈیل کر کے باہر جائیں یا لڑنے کے لیے میدان میں کھڑے ہو جائیں۔ چاہیے رہبر ہوں یا تاحیات صدر، جب تک ان کے بیانیے کو عوام میں پذیرائی ملتی رہے گی کوئی قوت ان کو سیاست میں بے معنی نہیں کر سکتی۔ عدلیہ کا کوئی بھی فیصلہ نواز شریف کو مسلم لیگ سے علیحدہ نہیں کر سکتا۔

مسلم لیگ ن ختم تو ہو سکتی ہے لیکن نواز شریف سے الگ نہیں ہو سکتی۔

اسی بارے میں