سکوٹی عروج کے لیے خود مختاری اور آزادی کی علامت

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
عروج فاطمہ کے لیے دو پہیوں کی سواری خود مختاری اور آزادی کی علامت ہے

اگر آپ صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں رہتے ہیں تو آپ نے کبھی نہ کبھی لال سکوٹی پر سوار ایک لڑکی کو ضرور دیکھا ہو گا۔ اس سکوٹی کی ڈرائیور عروج فاطمہ ہیں۔

جب میں پہلی دفعہ عروج سے ملی تو میں نے سوچا یہ چھوٹی سی پونی والی کم عمر لڑکی یقیناً کسی کالج میں پڑھتی ہو گی لیکن ملنے پر معلوم ہوا کہ زندگی کو جتنے قریب سے عروج نے دیکھا ہے، ان کا چہرہ اس کی عکاسی نہیں کرتا۔

پاکستانی خواتین بائیکرز کی کہانیاں

فاصلہ رکھیں، آپ ایک خاتون کے ساتھ سوار ہیں!

’ہمت اور گھر والوں کا ساتھ ہو تو کچھ ناممکن نہیں‘

’ہراساں کیے جانے سے تنگ آ کر بائیک چلائی‘

عروج کی زندگی کا محور ان کی سکوٹی اور چار سالہ بیٹا محد ہے۔

شوہر سے علیحدگی کے بعد عروج نے محد کی ذمہ داری اکیلے اٹھائی، تو محسوس کیا کہ تیز رفتار زندگی میں اگر جاب کے ساتھ محد کو بھی وقت دینا ہے تو سفر کے لیے سکوٹی کا چناؤ کرنا ہو گا۔

`سکوٹی کی وجہ سے میں بہت ساری چیزوں میں وقت بچا پاتی ہوں۔ میں سیلز کی جاب کرتی ہوں تو کلائنٹ کے پاس اگر گاڑی پر جاؤں اور واپس آؤں تو تب تک میرے پاس اتنا ٹائم ہی نہیں بچتا کہ اپنے بیٹے کو مارکیٹ یا فٹبال کلب لے جا سکوں۔ لاہور کی ٹریفک، یہ بسیں، گاڑیاں، زیر تعمیر سڑکیں، ان سب کے جھمیلوں میں آپ کی فیملی اور نوکری کا تو بس خدا حافظ ہے۔ ایسے میں موٹرسائیکل یا سکوٹی ہی بہترین آپشن تھا۔`

Image caption عروج کو لاہور میں سکوٹی چلاتے ہوئے تقریبا ایک سال ہونے والا ہے

عروج کا کہنا ہے کہ سکوٹی ان کے لیے خود مختاری اور آزادی کی علامت ہے۔ وہ چاہتی ہیں کہ ابھی سے اپنے بیٹے محد کی ایسی پرورش کریں کہ وہ نقل و حرکت اور چیزیوں کی افادیت کو صنف یا جنس سے نہ جوڑے۔

`میرے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے کہ کل کو میرا بیٹا یہ نہ کہے کہ میرے ابو ہوتے تو وہ مجھے بائیک پر لے کر جاتے۔ تو آخر باپ ہی کیوں؟ جب مائیں گاڑی میں بچوں کو لے جا سکتی ہیں تو ماں بائیک پر بھی لے جا سکتی ہے۔ ماں سب کچھ کر سکتی ہے۔‘

’میں نے تہیہ کر لیا کہ میں اسے ایک اچھی اور خود مختار ماں بن کر دکھاتی ہوں تاکہ محد زندگی میں کبھی مجھے یا کسی بھی لڑکی کو دیکھ کر یہ نہ سوچے کی لڑکیاں یہ کام نہیں کر سکتیں۔‘

چار سالہ محد اپنی امی کے ساتھ سکوٹی پر بیٹھ کر خوش ہوتا ہے یا ڈرتا ہے، اس کا جواب عروج نے کچھ یوں دیا۔ ’محد سکوٹی پر بیٹھ کر بہت خوش ہوتا ہے، بہت کودتا ہے اور اسے کنٹرول کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ دراصل جب میں نے یہ سکوٹی خریدی تو انھی دنوں محد کو بھی تین پہیوں والی سکوٹی لے کر دی، تو ہم دونوں مل کر ہنستے تھے کہ ہم دونوں کے پاس اب سکوٹی آ گئی ہے۔‘

پاکستانی معاشرے میں اور خصوصا لاہور جیسے تیز رفتار شہر میں ایک لڑکی کے لیے سکوٹر چلانا چیلنج تو ہے لیکن عروج کہتی ہیں کہ ’لوگ آپ کے چہرے کو پڑھتے ہیں، اگر چہرے پر خوف ہے تو وہ آپ کو ڈرائیں گے ورنہ عزت سے راستہ دیں گے۔‘

Image caption عروج کا کہنا ہے کہ سکوٹی ان کے لیے خودمختاری اور آزادی کی علامت ہے

ان کا کہنا ہے کہ `اگر مجھے کوئی بائیک پر کٹ مار کر جاتا ہے تو میں کہتی ہوں بھائی پہلے آپ چلے جائیں۔‘

’زیادہ مسئلہ ہے مزدور برادری کا کیونکہ ان کے لیے ایک بہت الگ اور نئی بات ہے کہ `اوہو کڑی بائیک تے`۔ اسی وجہ سے ایک دفعہ میری چھوٹی سی ٹکر بھی ہوئی۔ ایک چاچا جی موٹرسائیکل پر جا رہے تھے تو مجھے دیکھ کر انھیں یقین نہیں آیا کہ لڑکی سکوٹر چلا رہی ہے اور ہماری ٹکر ہو گئی۔ شکر ہے بچت ہو گئی۔‘

عروج کو لاہور میں سکوٹی چلاتے ہوئے تقریبا ایک سال ہونے والا ہے لیکن آج بھی لوگ ان سے سوال کرتے ہیں کہ وہ گاڑی ہونے کے باوجود سکوٹی کیوں چلاتی ہیں؟ عروج کا جواب صاف ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ سکوٹی ان کا شوق ہے اور سہولت بھی۔

`میرے لیے سکوٹی آزادی ہے، زندگی ہے اور زندگی کی رفتار کو قابو میں رکھنا اور کتنا بڑھانا ہے یا کتنا کم کرنا ہے، اسکا اوزار ہے۔ میں مانتی ہوں کہ آپ کی زندگی کی کمان اور رفتار آپ کے ہاتھ میں ہونی چاہیے، اسی طرح سواری چننا اور اسے چلانے کا حق بھی آپ کا ہے۔ لڑکیوں کو چاہیے کہ اپنے حق کا استعمال کریں اور سڑک پر اپنی جگہ بنائیں۔‘

٭ بی بی سی اردو کچھ ایسی پاکستانی خواتین بائیکرز کی کہانیاں پیش کر رہا ہے جنھوں نے موٹر بائیک کو اپنے زندگی بدلنے کے لیے استعمال کیا۔ ان کہانیوں کو آپ بی بی سی اردو کی ویب سائٹ کے علاوہ ٹی وی اور ریڈیو پروگرامز میں دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ ‫اس کے علاوہ آپ اس سیریز کو بی بی سی اردو کی ویب سائٹ، فیس بُک، ٹوئٹر اور انسٹا گرام پر ہیش ٹیگ #BBCURDUWomenBikers کے ساتھ فالو کر سکتے ہیں۔

اسی بارے میں