ایف اے ٹی ایف: پاکستان کا نام ’گرے لسٹ‘ میں، دفتر خارجہ کی تصدیق

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف سے متعلق تمام معاملات وزارت خزانہ سرنجام دے گی
Image caption ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف سے متعلق تمام معاملات وزارت خزانہ سرنجام دے گی

پاکستان کے دفتر خارجہ نے دہشت گردوں کے معاون ممالک سے متعلق فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی 'گرے لسٹ' میں پاکستان کا نام شامل کرنے کی تصدیق کر دی ہے۔

بدھ کو اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ پاکستان کا نام جون میں گرے لسٹ میں شامل کر دیا جائے گا تاہم پاکستان کا نام 'گرے لسٹ' سے 'بلیک لسٹ' میں شامل کیے جانے کی خبریں درست نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کی ویب سائٹ میں واضح طور پر درج ہے کہ 'بلیک' لسٹ والے وہ ممالک ہیں جو معاونت نہیں کرتے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے تین روزہ اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں پاکستان کا نام ان ممالک کی فہرست میں شامل نہیں تھا جن کو منی لانڈرنگ اور دہشت گرد تنظیموں کو مالی وسائل کی فراہمی کو روکنے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں مزید پڑھیں

ایف اے ٹی ایف کا اجلاس اور پاکستان کی مشکلات

پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی فہرست میں شامل نہیں

’ساتویں منزل سے چھلانگ ممکن نہیں‘

جماعت الدعوۃ کے لیے عطیات اور چندہ جمع کرنے پر پابندی

ہفتہ وار بریفنگ میں ایک سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف سے متعلق تمام معاملات وزارت خزانہ سر انجام دے گی۔ انھوں نے ایف اے ٹی ایف کے اندرونی معاملات کو حساس قرار دیا اور کہا کہ وہ اس بارے میں مزید تبصرہ نہیں کر سکتے۔

ایف اے ٹی ایف کے مطالبات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ انھوں نے اینٹی منی لانڈرنگ (اے ایم ایل) اور کاؤنٹرنگ آف ٹیررسٹ فنانسنگ (سی ایف ٹی) کے فریم ورک میں خامیوں کی نشاندہی کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ FATF
Image caption فائنانشیل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) ایک بین الحکومتی ادارہ ہے جس کا قیام 1989 میں عمل میں آیا تھا

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ گذشتہ چند برسوں میں حکومت پاکستان نے ان معاملات پر توجہ دیتے ہوئے کئی اقدامات کیے ہیں جن میں قانون سازی، فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کا قیام اورجماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے حوالے سے یو این ایس سی کی شق1267 کے تحت پابندیاں شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا بقیہ خامیوں کو دور کرنے کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں نے پاکستان کا نام دہشت گرد تنظیموں کے مالی معاملات پر کڑی نظر نہ رکھنے اور ان کی مالی معاونت روکنے میں ناکام رہنے یا اس سلسلے میں عدم تعاون کرنے والے ممالک کی واچ لسٹ میں شامل کرنے کی قرارداد پیش کی تھی۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) ایک بین الحکومتی ادارہ ہے جس کا قیام 1989 میں عمل میں آیا تھا۔

اس ادارے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی نظام کو دہشت گردی، کالے دھن کو سفید کرنے اور اس قسم کے دوسرے خطرات سے محفوظ رکھا جائے اور اس مقصد کے لیے قانونی، انضباطی اور عملی اقدامات کیے جائیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں