کیا پاکستان نے چینی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دیا؟

چین پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ AFP

دعویٰ: پاکستان نے چینی زبان کو سرکاری زبان قرار دیا ہے۔

حقیقت: غلط۔ پاکستانی پارلیمان نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں چینی زبان پاکستان میں پڑھانے کی 'تجویز' پیش کی گئی ہے، لیکن چینی زبان کو ملک کی سرکاری زبان قرار دینے کا ذکر نہیں ہے۔

پاکستان کے مقامی اردو نیوز چینل ’اب تک‘ نے سب سے پہلے خبر دی تھی چینی زبان کو ملک کی سرکاری زبان قرار دے دیا گیا ہے، اور اسے بریکنگ نیوز کے طور پر نشر کیا۔

اس بارے میں ٹی وی چینل نے پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں 19 فروری کو ایک قرارداد کی منظوری کا حوالہ دیا۔

سینیٹ نے واقعی ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں پاکستان چین اقتصادی راہداری میں شامل تمام افراد کے لیے ’سرکاری چینی زبان‘ کے کورسز متعارف کروانے کا مطالبہ کیا گیا تھا تاکہ ’ابلاغی رکاوٹیں‘ کم کی جا سکیں۔

پاکستان چین اقتصادی راہداری ایک بڑا منصوبہ ہے جس کے تحت چین پاکستان میں مختلف منصوبوں میں 62 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

جعلی خبر

اس غلط خبر کو کئی انڈین میڈیا کے اداروں بشمول خبر رساں ادارے اے این آئی، انڈیا ٹو ڈے اور فائنانشیل ایکسپریس نے نشر کیا اور پاکستان میں چین کی بڑھتی ہوئی چھاپ کی ایک مثال کے طور پر پیش کیا۔

کئی نامور شخصیات جیسا کہ سابق سفیر حسین حقانی نے بھی ’اب تک‘ کے غلط دعوے کو ری ٹویٹ کیا اور یہ خبر اتنی پھیلی کہ سینیٹ کو اس بارے میں وضاحت بھی جاری کرنا پڑی۔

کچھ انڈین اداروں نے اپنی غلطی تسلیم کی اور غلط خبروں کو ہٹا دیا۔

اس جعلی خبر کا چین میں بھی ردعمل دیکھا گیا۔ شنگھائی اکیڈمی آف سوشل سائنسز کے ہو ژیونگ نے اسے چین اور پاکستان کے درمیان تعلق میں کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا۔

سرکاری زبانیں

پاکستان کی قومی زبان اردو ہے لیکن زیادہ تر معاملات کے لیے انگریزی کو سرکاری زبان کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ بیشتر وزارتیں انگریزی کا استعمال کرتی ہیں اور ملک کی اشرافیہ انگریزی بولتی ہے۔

پاکستان میں کئی مقامی زبانیں ہیں؛ پنجابی زبان سب سے زیادہ بولی جاتی ہے (تقریباً 48 فیصد آبادی)، لیکن قانون میں اسے سرکاری زبان کا درجہ حاصل نہیں۔

اردو صرف آٹھ فیصد آبادی بولتی ہے اور وہ بھی زیادہ تر شہری علاقوں میں۔

کچھ مبصرین حکومت کو مقامی زبانیں نظرانداز کرنے پر تنقید کا نشانہ بھی بناتے ہیں، جن میں کئی زبانوں کے ناپید ہونے کا خطرہ ہے۔

22 فروری کو مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقعے پر کئی سیاسی جماعتوں اور ادبی تنظیموں کی جانب سے مظاہرے کیے گئے اور مطالبہ کیا گیا کہ ملک کی تمام بڑی زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ دیا جائے۔

بڑھتا ہوا اثرو رسوخ

نیوز میگزین ’آؤٹ لک‘ نے ’جعلی خبر‘ سے دستبردار ہوتے ہوئے لکھا تھا کہ چین اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے ابتدائی رپورٹ بہت سارے افراد کے لیے قابل یقین تھی۔

سی پیک پراجیکٹ چینی صدر شی جن پنگ کی ’ون بیلٹ ون روڈ‘ پالیسی کا حصہ ہے جس میں چینی کمپنیوں کی جانب سے ملک بھر میں شاہراؤں، بجلی گھروں اور صنعتی زونز کی تعمیر شامل ہے۔ ان کمپنیوں سے منسلک ہزاروں کی تعداد میں چینی افراد پاکستان آئے ہیں۔

اسلام آباد سے شائع ہونے والے چینی اخبار ’خوا شاں‘ کا دعویٰ ہے کہ یہ ’پاکستان اور چین کے درمیان تعاون کی بہتر تشہیر‘ کے لیے شروع کیا گیا ہے۔

دونوں مالک نے 24 گھنٹوں کی نشریات پر مشتمل ’دوستی‘ ریڈیو چینل بھی قائم کیا ہوا ہے جس میں ایک گھنٹے پر مشتمل چینی زبان سیکھنے کا پروگرام بھی شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ثقافتی ٹکراؤ

بڑھتے ہوئے تعلقات کے باوجود پاکستان میں چینیوں کے قیام سے معاشرتی و سماجی اثرات سے مقامی ثقافت اور کاروبار کے تحفظ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

اس کی حالیہ مثال انگریزی رونامے دی نیشن میں شائع ہونے والا ایک کالم ہے جس میں تنبیہ کی گئی ہے کہ سی پیک سے ثقافتی ٹکراؤ ’بڑھ سکتا ہے۔‘

دی نیوز میں ’ون بیلٹ ون روڈ پراجیکٹ‘ سے متعلق شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ ’چینیوں کے مقاصد کے بارے میں بہتان بازی جیسا کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ مشابہت یا پاکستان چین کی ایک سیٹلائٹ بن جانا، اوسان خطا کر دینے والی بات ہے۔‘

اسی بارے میں