کراچی میں رہائشی اور صنعتی علاقوں میں کچرا پھینکنے کو جرم قرار دے دیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کراچی میں روزانہ 12 ہزار ٹن یومیہ کچرا پیدا ہوتا ہے

پاکستان کے صوبہ سندھ میں کچرا رہائشی، صنعتی علاقوں اور خالی جگہوں پر پھینکنے کو جرم قرار دیا گیا ہے جس کی سزا ایک سے 6 ماہ تک قید ہوسکتی ہے۔

سندھ کے محکمہ داخلہ نے ایک نوٹیفیکیشن میں بتایا ہے کہ جسٹس ریٹائرڈ امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں قائم جوڈیشل واٹر کمیشن کی ہدایات کی روشنی میں یہ حکم جاری کیا گیا ہے۔

کمیشن نے عام شہریوں، میونسپل، سرکاری اور نجی اداروں کے ملازمین کی جانب سے گھریلو، صنعتی، تعمیراتی اور ہسپتالوں کا فضلہ رہائشی علاقوں میں پھینکنے کا سختی سے نوٹس لیا تھا اور کہا تھا کہ اس کچرے اور فضلے کو جلانے سے کئی ماحولیاتی اور صحت کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

مزید پڑھیئے

کراچی میں بدبو کی وجہ کیا تھی؟

کراچی کے سیویج نظام پر چیف جسٹس کی تنبیہ

حکومت سندھ نے اس ہدایت کی روشنی میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے جس کے تحت کوئی بھی شہری پھر چاہے وہ میونسپل ملازم ہو، کانٹریکٹر یا عام شہری کچرا اور فضلہ مختص مقامات کے علاوہ کہیں دوسری جگہ پر پھینک نہیں سکے گا اور نہ ہی اس کچرے کو جلایا جائیگا۔

محکمہ داخلہ کی جانب سے متعلقہ تھانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 188 کے تحت مقدمات درج کریں۔ اس جرم کی سزا ایک ماہ سے 6 ماہ قید اور دو سو روپے سے لیکر ہزارے روپے تک جرمانہ ہے۔

واٹر کمیشن کے رکن شہاب اوستو نے بی بی سی کو بتایا کہ کراچی سمیت پورے سندھ میں کچرا میدانوں ، فصلوں یا گاؤں کے قریب پھینکا جاتا ہے یا پھر جلایا جاتا ہے، جس میں ہسپتالوں کا فضلہ بھی شامل ہوتا ہے جس کی وجہ سے ماحول آلودہ رہتا ہے اور بہت ساری بیماریاں جنم لیتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کچرے کی وجہ سے سنگین آلودگی پیدا ہو رہی ہے

’جسٹس ریٹائرڈ امیر ہانی مسلم نے سالڈ ویسٹ بورڈ، متعلقہ پولیس افسران اور سیکریٹری داخلہ کو طلب کیا تھا جس میں یہ تجویز آئی کہ 144 نافذ کی جائے اور جو کچرا کھلے عام پھینکا جاتا ہے اس کو بھی نظام میں لایا جائے اور اس کے جلانے پر پابندی عائد ہو جس کی روشنی میں یہ حکم جاری ہوا۔‘

صوبہ سندھ میں کچرے کو ٹھکانے لگانے کے لیے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا، جس کے پاس اس وقت کراچی کے دو اضلاع سے کوڑا کرکٹ اٹھانے کی ذمہ داری ہے۔ بورڈ کی جانب سے چین کی کمپنی سے بھی کچرا اٹھانے کا معاہدہ کیا گیا ہے۔

واٹر کمیشن کے رکن شہاب اوستو کا کہنا ہے کہ اس ادارے کے قیام کو ڈھائی سال ہوگئے ہیں لیکن اداراہ کراچی کے دو اضلاع میں کام کر رہا ہے اور تیسرے ضلعے میں ابھی شروع کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں کہیں بھی لینڈ فلنگ سائیٹ نہیں ہے جس کی وجہ سے یہ کچرا جہاں جگہ ملے پھینک دیا جاتا ہے۔

کراچی میں روزانہ 12 ہزار ٹن یومیہ کچرا پیدا ہوتا ہے۔ شہر کے مضافات میں ایسے چار مقامات ہیں جہاں اس کو ٹھکانے لگایا جاتا ہے اور جہاں اس کو آگ لگائی جاتی ہے۔ ان علاقوں کے آس پاس کی آبادی اس سے لوہا، تانبہ، شیشہ اور پلاسٹک جمع کرکے فروخت کرتی ہے۔

کراچی میں شہری منصوبہ بندی کے ماہر عارف حسن کا ماننا ہے کہ مقدمات دائر کرنے کے احکامات کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکل سکتا کیونکہ ’کس کس پر مقدمہ چلائیں گے یہاں 17 لاکھ ہاؤٰسنگ یونٹس ہیں لوگ آخر کہاں کچرا پھینکیں، اس کو اٹھانے کا کوئی موثر انتظام ہونا چاہیے۔‘

’سندھ سالڈ ویسٹ نے کچھ کچرا اٹھانا شروع کیا ہے لیکن سارا نہیں اٹھایا جا رہا، یہ کے ایم سی کو اٹھانا پڑے گا یا تو پھر سارا نظام ہی سندھ سالڈ ویسٹ کے حوالے کردیا جائے، جو مہنگا پڑے گا اور اس کے پیسے کون دے گا۔‘

عارف حسن کا کہنا ہے کہ سمندر سے زمین حاصل کرنے کے لیے بھی کچرا سمندر میں پھینکا جا رہا ہے، جس کے باعث سنگین آلودگی پیدا ہو رہی ہے اس پر بھی پابندی کی ضرورت ہے۔

یاد رہے کہ کراچی میں بلدیاتی نظام کے علاوہ پانچ کنٹونمنٹ، ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی، بندرگاہوں اور سول ایوی ایشن کا اپنا اپنا علیحدہ نظام ہے اور تمام ادارے آزادانہ طور پر کام کرتے ہیں۔

اسی بارے میں