کوئٹہ: دو حملوں میں چھ سکیورٹی اہلکار ہلاک

کوئٹہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ اور اس کے نواحی علاقے میں خود کش حملوں سمیت دو مختلف واقعات میں کم از کم چھ سکیورٹی اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔

ہلاک ہونے والے اہلکاروں میں چار کا تعلق فرنٹیئر کور اور دو کا تعلق پولیس سے تھا۔

فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کو کوئٹہ شہر کے مغرب میں نوحصار کے علاقے میں نشانہ بنایا گیا۔

ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ نوحصار کے علاقے میں ایف سی اور لیویز فورس کا ایک عارضی کیمپ تھا۔

اہلکار کے مطابق بدھ کی شب اس علاقے میں خود کش حملہ کیا گیا۔

اس حملے میں ایف سی کے چار اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔

اس سے قبل شہباز ٹاؤن کے علاقے میں پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔

اس حملے میں پولیس کے ڈی ایس پی پراسیکوشن حمید اللہ دستی کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔

ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ عبد الرزاق چیمہ نے جائے وقوعہ پر میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ حمید دستی اپنے گھر سے ہائیکورٹ کی جانب جارہے تھے۔

جب ان کی گاڑی شہباز ٹاؤن کے علاقے میں پہنچی تو تین مسلح افراد نے گاڑی پر حملہ کیا۔

ڈی آئی جی نے بتایا کہ اس حملے میں ڈی ایس پی محفوظ رہے تاہم ان کی گاڑی کے پچھلے حصے میں سوار دو پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔

ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ دونوں اہلکاروں کی ہلاکت سر میں گولیاں لگنے کی وجہ سے ہوئی۔

دو ہفتوں کے دوران کوئٹہ شہر میں سیکورٹی اہلکاروں پر یہ دو دوسرا حملہ تھا۔

اس سے قبل ریلوے سٹیشن کے قریب ریلوے لائن کی نگرانی پر مامور ایف سی اہلکاروں پر ہونے والے حملے میں چار اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

کوئٹہ شہر میں ایف سی اور دیگر سیکورٹی اہلکاروں پر رواں سال کے دوران اب تک نو حملے ہوئے ہیں۔

ان حملوں میں پولیس، ایف سی اور لیویز فورس کے 20 سے اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں