غوطہ سے دو پاکستانی شہریوں کا انخلا

پاکستانی تصویر کے کاپی رائٹ EPA

شام کے دارالحکومت دمشق کے مضافات میں باغیوں کے کنٹرول میں مشرقی غوطہ سے عمر رسیدہ پاکستانی جوڑے کو نکال لیا گیا ہے اور یہ میاں بیوی مشرقی غوطہ سے نکالے جانے والے سب سے پہلے شہری ہیں۔

شام کی ہلال احمر کے مطابق عمر رسیدہ میاں بیوی کو مشرقی غوطہ سے نکال کر دمشق منتقل کر دیا گیا۔

ہلال احمر کے مطابق مشرقی غوطہ سے 73 سالہ محمد فضل اکرم اور ان کی 62 سالہ اہلیہ صغراں بی بی ہیں۔

شام: جنگ بندی کے وقفے کے دوران گولہ باری

مشرقی غوطہ میں ’500 افراد ہلاک‘

شام: باغیوں کے زیرانتظام علاقے میں بمباری، ’سو سے زیادہ ہلاکتیں‘

ہلال احمر کے مطابق ’میاں بیوی کو مشرقی غوطے سے نکال کر دمشق میں واقع پاکستانی سفارتخانے کے حوالے کر دیا گیا ہے۔‘

شامی ہلال احمر کا مزید کہنا ہے کہ ان دونوں میاں بیوی کو نکالنے میں غوطہ میں جاری تصادم میں شامل تمام پارٹیوں نے تعاون کیا۔

یاد رہے کہ 18 فروری کو شامی سکیورٹی فورسز نے روسی تعاون سے غوطہ پر بمباری شروع کی تھی۔

ہلال احمر اور میڈیا رپورٹس کے مطابق فضل اکرم اور ان کی اہلیہ 70 کی دہائی میں بہتر زندگی کے لیے شام منتقل ہوئے تھے۔

تاہم جب شام میں خانہ جنگی کا آغاز ہوا تو دونوں میاں بیوی نے مشرقی غوطہ ہی میں رہنے کا فیصلہ کیا۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق مشرقی غوطہ میں باغی گروپ ایش الاسلام نے بھی فضل اکرم اور ان کی اہلیہ صغراں بی بی کی مشرقی غوطہ سے انخلا کی تصدیق کر دی ہے۔

جیش الاسلام کے ترجمان محمد علوش نے ٹویٹر پر کہا ’ایک پاکستانی خاندان جس میں میاں بیوی ہیں کا علاقے سے انخلا ہو گیا ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں