سپریم کورٹ کا عمران خان سے بنی گالہ گھر سے متعلق جواب طلب

عمران خان تصویر کے کاپی رائٹ AAMIR QURESHI
Image caption بنی گالہ میں گھر کی تعمیر کے بارے میں جو این او سی جمع کروایا گیا ہے وہ بنی گالہ یونین کونسل کا نہیں ہے: سابق سیکرٹری یونین کونسل

سپریم کورٹ نے بنی گالہ میں مبینہ طور پر متعلقہ حکام سے اجازت حاصل کیے بغیر گھر کی تعمیر پر تحریک انصاف کے سربراہ سے عمران خان سے ایک ہفتے میں جواب طلب کرلیا ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اسلام آباد کے مضافاتی علاقے بنی گالہ میں ناجائز تجاوزات سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی۔

عدالت نے عمران خان کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا متعلقہ علاقے کے پٹواری کا بیان آ گیا ہے جس پر فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ میڈیا پر تو بیان آگیا ہے لیکن انھیں ابھی تک نہیں ملا۔

عمران خان کے وکیل نے اس بیان کو مسترد کردیا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس بیان کی تردید باہر میڈیا پر جاکر کریں۔

واضح رہے کہ اس از خود نوٹس کی سماعت کے دوران بارہ کہو کی یونین کونسل کے سابق سیکرٹری محمد عمر نے عدالت میں بیان جمع کروایا ہے کہ عمران خان کی طرف سے بنی گالہ کی اراضی پر گھر کی تعمیر کے بارے میں جو این او سی جمع کروایا گیا ہے وہ ان کی یونین کونسل کا نہیں ہے۔

اس بیان میں کہا گیا تھا کہ سنہ دو ہزار تین میں جب یہ معاملہ اس یونین کونسل کے سامنے آیا تھا تو اُنھوں نے عمران خان سے گھر کی تعمیر سے متعلق نقشہ طلب کیا تھا جو فراہم نہیں کیا گیا۔

اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ سنہ 2003 میں ان کے دفتر میں کمپیوٹر کی سہو لت موجود نہیں تھی جبکہ عدالت میں جو ریکارڈ جمع کروایا گیا ہے اس سے بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہے۔

اس از خود نوٹس کی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ عدالت نے بنی گالہ میں لوگوں کو دی جانے والی سہولتوں کے بارے میں از خود نوٹس لیا تھا لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مفاد عامہ کے اس مقدمے کو ذاتی نوعیت کا مقدمہ بنایا جا رہا ہے۔

اُنھوں نے یونین کونسل کے سابق سیکرٹری کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے ان افراد کے بارے میں نہیں بتایا جنہیں بنی گالہ میں مکان کی تعمیر کے لیے این او سی جاری کیے گئے تھے۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت بنی گالہ کے رہائشیوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام اقدامات کرے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ کسی کا گھر بنے یا گرے یہ الگ معاملہ ہے لیکن اصل معاملہ لوگوں کی زندگیوں اور راول ڈیم کی صفائی کا ہے۔

عدالت نے سپریم کورٹ کے سنیئیر وکیل سردار اسلم کی سربراہی میں ایک ٹیم تشکیل دی ہے جو بنی گالہ کے قریبی علاقے میں واقع راول ڈیم سے جو پانی اسلام آباد اور راولپنڈی کے رہائشیوں کو دیا جارہا ہے اس کے معیار کے بارے میں عدالت کو آگاہ کرے گی۔