پاکستان میں سکھ ورثہ: ’گردوارہ جہاں مسلمان دیے جلاتے ہیں‘

سنگاپور میں مقیم مصنف اور فوٹوگرافر امردیپ سنگھ کی کتاب 'دی کوئسٹ کانٹنیوز، دی لاسٹ ہیرٹیج' میں آپ مصنف کے ساتھ ساتھ سفر کرتے ہیں، وہ جہاں جہاں جاتے ہیں وہاں لوگوں سے ملتے ہیں اور ان کی کہانی تاریخی پس منظر کے ساتھ بیان کرتے جاتے ہیں۔

وہ ایک سال قبل پاکستان آئے اور انھوں نے 90 شہروں، قصبوں اور دیہات کا دورہ کیا، دو ماہ کے مختصر قیام کے دوران انھوں نے ان شہروں میں سکھ ورثے کی عکس بندی کی اور اس سے وابستہ روایات اور تاریخ کو اپنی کتاب میں بیان کیا ہے۔

سکھ ثقافت اور ورثے کے حوالے سے یہ ان کے کام کا تسلسل تھا، اس سے قبل ان کی پاکستان میں سکھ ورثے سے متعلق کتاب 'دی لاسٹ ہیرٹیج' کے نام سے کتاب شائع ہوئی تھی، جس میں 36 ایسے ہی مقامات کا ذکر کیا تھا۔

51 سالہ امردیپ سنگھ کی حالیہ کتاب 'دی کوئسٹ کانٹنیوز، دی لاسٹ ہیرٹیج' نہ صرف پاکستان میں سکھ ورثے کا تعارف پیش کرتی ہے بلکہ یہاں بسنے والے ایسے مذہبی اقلیتی گروہوں سے بھی متعارف کرواتی ہے جو تقسیم ہند کے بعد تاحال اپنی شناخت قائم رکھے ہوئے ہیں۔

اس کتاب کو اگر دریائے سندھ کے سنگ سفر کی داستان کہا جائے تو بے جا نہیں ہو گا، کیونکہ اس میں وہ سکردو سے لے کر کراچی تک اس خطے کے ثقافتی ورثے اور تاریخی واقعات و مقامات کی داستانیں بھی بیان کرتے ہیں۔

سکھ دور میں کشمیر کے شمال مغربی علاقوں میں محاذ آرائی اور پھر قبائلی علاقہ جات میں سکھوں کی باقیات کے علاوہ بلوچستان اور سندھ میں سکھوں کے روحانی گرو بابا گرو نانک کے عقیدت مندوں کی کہانیاں اس کتاب کا حصہ ہیں۔

اسی بارے میں مزید پڑھیں

’والد مظفر آباد کی وادیوں کو یاد کرتے تھے‘

’شکر ہے کہ کرکٹ میں سکھ لڑکا سامنے آیا‘

ستر سال بعد گرودوارے کی بحالی

’پاکستان کی سرزمین ہمارے لیے مقدس ہے‘

امردیپ سنگھ نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مذہب کے نام پر لوگوں کی تقسیم ہوئی جبکہ وہ لوگوں کو جوڑنے کی بات کرتے ہیں جو بابا گرو نانک سمیت اس خطے کے صوفیا اور گروؤں کا پیغام تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان و ہندوستان کے دیگر علاقوں کے برعکس دریائے سندھ کے ارد گرد بسنے والی قوموں کی ایک منفرد شناخت رہی ہے۔

امردیپ سنگھ کا دعویٰ ہے کہ 'اس خطے میں بسنے والوں کا خدا کی واحدانیت پر یقین رہا ہے خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔'

تاریخی ورثے اور روایات سے جڑی ایسی ہی چند کہانیاں پیش ہیں جن کا ذکر امردیپ سنگھ نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔

Image caption پیر سبق میں واقع سمادھ اکالی پھولا سنگھ

گردوارہ جہاں مسلمان دیے جلاتے ہیں

امردیپ سنگھ صوبہ پنجاب کے ضلع اٹک میں واقع کوٹ فتح خان کے مقام پر واقع ایک قدیم گردوارہ بابا تھان سنگھ کی کہانی بیان کی گئی ہے۔

امردیپ سنگھ لکھتے ہیں کہ وہ اس گردوارے کو دیکھنے گئے تو ان کی ملاقات یہاں ایک مقامی بزرگ سے ہوئی۔ انھوں نے گردوارے میں بکھرے ہوئے سامان کو جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’جو کوئی بھی یہاں سے کچھ اٹھا کر لے جانے کی کوشش کرتا ہے اسے کسی نہ کسی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘

انھوں نے ایک دروازے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’لوگ یہ دروازہ لے گئے تھے لیکن بعد میں انھیں یہیں واپس رکھنا پڑا۔‘

امردیپ سنگھ بتاتے ہیں کہ انھوں نے دیواروں پر کندہ گرمکھی تحریریں پڑھیں لیکن ایسا بھی محسوس ہوتا تھا کہ گرمکھی کے نیچھے اردو زبان میں لکھی تحریروں کو سیاہ رنگ سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔

اس بزرگ سے انھوں نے اس بارے استفسار کیا تو انھوں نے بتایا کہ ’مقامی لوگ یہاں جمعرات کو دیے جلاتے ہیں اور اردو میں یہاں بابا تھان سنگھ لکھا ہوا تھا جنھیں اب لوگ سلطان تھان سنگھ سمجھتے ہیں۔‘

Image caption امردیپ سنگھ

نانک پنتھی اور وادیِ سوات کے سکھ

مصنف نے کتاب میں ان ثقافتوں اور زبانوں کا بھی ذکر کیا ہے جنھیں مذہبی حدوں میں قید کر دیا گیا ہے۔

امردیپ سنگھ لکھتے ہیں پاکستان کے علاقے ہزارہ ڈویژن اور وادیِ سوات میں بسنے والے سکھوں کے نام اور ظاہری حلیہ پنجابی سکھوں سے مختلف ہیں۔

ایسا ہی مسئلہ سندھ میں بسنے والے نانک پنتھی سکھوں کا ہے جو نانک کے عیقدت مند سمجھے جاتے ہیں لیکن سکھ مذہب میں ان کی شناخت کا مسئلہ درپیش ہے۔

اس بارے میں امردیپ سنگھ کا کہنا ہے کہ تقسیم ہند کے وقت پنجاب میں بسنے والے تقریباً تمام سکھ انڈیا منتقل ہو گئے لیکن نانک کو ماننے والے وادیِ سوات، ہزارہ اور اندرون سنگھ میں بسنے والے افراد یہیں کے ہو کر رہ گئے۔

ان کے خیال میں اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی ان علاقوں میں فسادات نہیں ہوئے اور انھوں نے یہیں قیام کرنا بہتر سمجھا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ افراد گرو نانک کے عقیدت مند ہیں لیکن ان کی ظاہری شباہت پنجاب کے سکھوں سے مختلف ہے۔

Image caption شبقدر قلعے میں زنجیروں میں جکڑا دروازہ

27 قلعے اور زنجیروں میں جکڑے دروازے

امردیپ سنگھ نے خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقہ جات میں سکھ دور کے 27 قلعوں کی نشاندہی کی ہے۔ ان میں کئی قلعوں کے نام و نشان بھی ڈھونڈنا مشکل ہے لیکن کئی ایک بہتر حالت میں ہیں جن میں اٹک، اکوڑہ خٹک، شب قدر، بالا حصار اور جمرود قلعہ شامل ہیں۔

امردیپ سنگھ شب قدر قلعے میں زنجیروں میں جکڑے ہوئے دو دروازوں کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں سنہ 1840 میں سکھ دورحکومت میں مہاراجہ شیر سنگھ نے یہاں کا دورہ کیا تو کچھ افغان جنگجو قلعے کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے تاہم انھیں پسپا کر دیا گیا۔

مصنف کے مطابق اس کے اگلے روز جب تفتیش کی گئی تو سکھ فوج کے ایک اطالوی جنرل جین بیپٹائسٹ وینٹورا اس قلعے کے کمانڈر تھے اور دفاع کی ذمہ داری بھی ان کے سپرد تھی تاہم مہاراجہ نے دفاع میں ناکامی کا ذمہ دار قلعے کے دروازے کو قرار دیتے ہوئے اسے 100 سال قید کی سزا سنائی۔

سنہ 1940 میں یہ سزا پوری ہو گئی لیکن آج بھی یہ دروازے ایک مینار کے ساتھ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Amardeep Singh

لاہوریے

اس کتاب میں لاہوریے کا قصہ انتہائی دلچسپ ہے۔ امردیپ لکھتے ہیں کہ سنہ 1814 میں انڈیا کا شہر دہرادون نیپالی سلطنت کا حصہ تھا۔ جب انگریز فوج نے اس علاقے میں نیپالی سلطنت کوشکست دی تو نیپالی کمانڈر بلبدھر کنور بھاگ کے لاہور آ گئے جہاں انھوں نے رنجیت سنگھ کی فوج میں شمولیت اختیار کر لی۔

مصنف کے مطابق رنجیت سنگھ کے کہنے پر بلبدھر کنور نے سکھ فوج میں گورکھا رجمنٹ کی بنیاد رکھی۔ نیپال میں بلندھر کنور کو ’لاہوریے‘ کا نام دیا گیا لیکن اہم پہلو یہ بھی ہے نیپال میں آج بھی غیرملکی فوج میں بھرتی ہونے والے کو ’لاہوریے‘ کہا جاتا ہے۔

مصنف بیان کرتے ہیں کہ سنہ 1824 میں دریائے کابل کے کنارے ضلع نوشہرہ کے علاقے پیر سبق میں درانیوں نے اعظم خان برکزئی کی قیادت میں سکھوں سے جنگ لڑی جس میں بلبدھر کنور اور ایک سکھ کمانڈر اکالی پھولا سنگھ مارے گئے۔

مصنف اس امر پر حیرانی کا اظہار کرتے ہیں کہ پیر سبق میں اکالی پھولا سنگھ کی سمادھی کے آثار آج بھی باقی ہیں لیکن وہ شخص جس نے انڈین فوج میں ایک اہم رجمنٹ کی بنیاد رکھی اس کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا اور اس کی سمادھی یا قبر کے کوئی اثار باقی نہیں ملتے۔ تاہم ’لاہوریے‘ کا لقب آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔

گردوارہ تصویر کے کاپی رائٹ Amardeep Singh

’ہندو اور سکھ واپس لوٹ آئیں‘

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع بھمبر میں علی بیگ کے مقام پر واقع گردوارہ سکھ دور کے فن تعمیر کی اعلیٰ مثال ہے۔

امردیپ سنگھ بتاتے ہیں کہ تقسیم ہند کے وقت جب مسئلہ کشمیر پیدا ہوا تو اس گردوارے میں سینکڑوں ہندو اور سکھ قیدیوں کو رکھا گیا تھا۔

وہ بتاتے ہیں یہیں ان کی ملاقات ایک 92 سالہ بزرگ راج محمد سے ہوئی جنھوں نے بتایا کہ اس گردوارے کے ساتھ ایک سکول بھی تھا، یہیں انھوں نے گرمکھی کی تعلیم حاصل کی تھی اور وہ آج بھی گرمکھی جانتے ہیں۔

امردیپ سنگھ نے بتایا کہ جب وہ واپس لوٹنے لگے تو راج محمد نے ان سے پوچھا کہ ’کیا آپ انڈیا جائیں گے؟‘ جس کے جواب میں انھوں نے اثبات میں سر ہلایا تو تاج محمد نے کہا کہ ’ہندوؤں اور سکھوں سے کہنا کہ وہ واپس لوٹ آئیں، مجھے معلوم ہے ان کے گھر کون کون سے تھے، ہم انھیں واپس کر دیں گے۔‘

اکھنور گاؤں میں واقع بابا سندر سکھ جی گردوارہ آج شکستہ حال اور بے آباد مقام ہے۔

اسی بارے میں