عابدہ حسین: ’بےنظیر کے بارے میں کوئی منفی بات نہیں کی‘

تصویر کے کاپی رائٹ OUP
Image caption عابدہ حسین کہتی ہیں کہ انھوں نے 'کوئی منفی بات نہیں کی اور (کتاب میں) زیادہ تر بے نظیر کی تعریف لکھی ہے'

پاکستان کی سابق وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو کی بیٹی بختاور بھٹو کی جانب سے قانونی نوٹس ملنے کے بعد سیاستدان عابدہ حسین اپنے وکیل کی مدد سے اس قانونی نوٹس کا جواب تیار کر رہی ہیں۔

بختاور بھٹو کی جانب سے ان کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کتاب کی مصنفہ عابدہ حسین، آکسفرڈ یونیورسٹی پریس کی مینیجنگ ڈائریکٹر اور کراچی لیٹریچر فیسٹیول کی بانی امینہ سید اور سلمٰی عادل کو قانونی نوٹس بھیجے تھے۔

اس قانونی نوٹس میں عابدہ حسین پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ انھوں نے بے نظیر سے اپنی وابستگی ظاہر کر کے ان کے بارے میں غلط تاثر دینے اور پاکستان پیپلز پارٹی کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہےـ

اس بارے می مزید پڑھیے

بختاور کا قانونی نوٹس، ب

'بلاول یا زرداری بن جائیں یا پھر بھٹو'

پیرانِ سیاست کے پیر

بی بی سی کی نامہ نگار سحر بلوچ کے مطابق بختاور بھٹو کے بھیجے گئے قانونی نوٹس کی کاپی میں عابدہ حسین کی کتاب ’سپیشل سٹار: بینظیر‘ پر نو اعتراضات کیے گیے ہیں۔

ان اعتراضات میں عابدہ حسین کی بے نظیر بھٹو سے اپنی ’جھوٹی وابستگی‘ ظاہر کرنا ہے جس کے بارے میں فاروق ایچ نائیک نے واضح کیا ہے کہ ’بے نظیر کسی بھی دور میں عابدہ حسین کی دوست نہیں تھیں۔‘

132 صفحوں پر مشتمل اس کتاب کے آٹھ باب ہیں جن میں بینظیر کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

ان میں عابدہ حسین کی بے نظیر سے سنہ 1975 میں ہونے والی پہلی ملاقات سے لے کر ان کی راولپنڈی کے لیاقت باغ کے جلسے میں خود کش بم حملے میں ہلاکت سے کچھ لمحے پہلے تک کی تفصیلات موجود ہیں۔

قانونی نوٹس کے متن کے مطابق کتاب میں ماضی میں لگنے والے کئی الزامات جو ثابت نہیں ہوئے تھے، ان کو کتاب دوبارہ سے بیان کیا گیا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے سازش کارفرما ہے۔

قانونی نوٹس کے مطابق کتاب میں کئی ایسے الزامات ہیں جن کے بارے میں جانتے ہوئے بھی کہ وہ غلط ہیں ان کو چھپوایا گیا اور منظرِ عام پر لایا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بے نظیر بھٹو 27 دسمبر سنہ 2007 میں اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی میں انتخابی جلسے کے بعد ایک خودکش حملے میں ہلاک ہو گئیں تھیں

دوسری جانب عابدہ حسین کہتی ہیں کہ انھوں نے ’کوئی منفی بات نہیں کی اور (کتاب میں) زیادہ تر بے نظیر کی تعریف لکھی ہے۔‘

کتاب کے دیباچے میں عابدہ حسین لکھتی ہیں کہ وہ پہلے بے نظیر کے خلاف تھیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ ان کو بہتر سمجھنے لگیں جس سے انھیں ان کے دکھوں کا اندازہ ہوا۔

کتاب میں بے نظیر کی پہلی حکومت اوراس دور میں ان پر لگنے والے کرپشن کے الزامات کا تذکرہ بھی موجود ہے اور ساتھ ہی ان کے اور سابق صدر آصف علی زرداری کی املاک کے بارے میں بھی مختصراً لکھا گیا ہے۔

عابدہ حسین کی اس کتاب میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور پیپلز پارٹی سے منسلک باقی ارکان پر عائد کیے گئے کرپشن کے الزامات بھی شامل کیے گیے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے ایک سینیئر رکن نے کہا کہ ’بے نظیر کے بچے اور صنم بھٹو اس کتاب کی وجہ سے کافی پریشان اور حساس ہیں کیونکہ وہ نہیں سمجھ پا رہے کہ کتاب اس وقت شائع کرنے کا مقصد کیا ہے؟ کتاب میں کئی باتیں من گھڑت لگتی ہیں جن کا نہ تو کوئی ریفرنس ہے اور نہ ہی کوئی منطق۔‘

اسی بارے میں