بلوچستان: سینیٹ انتخابات میں مختلف اور دلچسپ مقابلہ

بلوچستان اسمبلی تصویر کے کاپی رائٹ Government of Balochistan

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں سینیٹ کے انتخابات وفاق اور دیگر صوبوں کے مقابلے میں کئی حوالوں سے دلچسپ اور مختلف ہوں گے۔

ان میں سے ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اسمبلی میں ن لیگ کو بڑی پارٹی ہونے کے باوجود کم نشستیں ملنے کا امکان ہے جبکہ اسمبلی میں نمائندگی کے باوجود ق لیگ کا کوئی امیدوار نہیں۔

بلوچستان اسمبلی میں ن لیگ 22 اراکین کے ساتھ سب سے بڑی جماعت جبکہ ق لیگ پانچ اراکین کے ساتھ پانچویں بڑی جماعت ہے۔

اس سال کے اوائل میں ن لیگ کے اراکین کی اکثریت نے نہ صرف پارٹی کی مرکزی اور صوبائی قیادت سے انحراف کیا بلکہ اس کے نتیجے میں پارٹی کی قیادت میں بلوچستان میں قائم مخلوط حکومت کا خاتمہ ہوا۔

ن لیگ کے 22اراکین میں سے 17 سے زائد کے انحراف کے نتیجے میں ن لیگ کی مرکزی قیادت بلوچستان سے سینیٹ کے لیے صرف تین امیدواروں کو نامزد کر سکی جن میں پارٹی کے صوبائی جنرل سیکریٹری نصیب اللہ بازئی بھی شامل ہیں۔

جہاں ن لیگ کے منحرف اراکین نے آزاد امیدواروں کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا وہاں ق لیگ کے اراکین نے بھی یہی فیصلہ کیا۔

بعض مبصرین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ ق لیگ کی جانب سے کوئی امیدوار سامنے نہیں لایا گیا۔

ن لیگ کے منحرف اراکین اور ق لیگ کے اراکین جن آزاد امیدواروں کو ووٹ دینا چاہتے تھے ان میں سے دو امیدواروں حسین اسلام اور محمد عبد القادر کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے۔

اس صورت حال کے باعث ن لیگ کے منحرف اراکین نے پارٹی کے جنرل سیکریٹری نصیب اللہ بازئی کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا۔

بلوچستان سے سینیٹ کی خالی ہونے والی 11نشستوں پر انتخاب ہو رہا ہے جن میں جنرل نشستوں کی تعداد سات جبکہ ٹیکنو کریٹس اور خواتین کی دو دو نشستیں ہیں۔

ان 11نشستوں کے لیے23 امیدوار میدان میں ہیں جن میں سے 15 امیدوار جنرل، تین ٹیکنوکریٹس اور پانچ خواتین کی نشستوں پر مد مقابل ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے

سینیٹ کی اہمیت اور اہم قانون سازی

سینیٹ الیکشن: ایم کیو ایم میں امیدواروں پر اختلافات

ان میں سے نو امیدوار آزاد حیثیت سے انتخاب لڑ رہے ہیں جبکہ باقی امیدواروں کا تعلق پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی، جے یو آئی (ف)، بلوچستان نیشنل پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی سے ہے۔

ن لیگ کے منحرف اراکین اور ق لیگ کے اراکین کی آزاد حیثیت سے انتخاب لڑنے والے امیدواروں کو ووٹ دینے کے فیصلے کے پیش نظر بلوچستان سے اس مرتبہ آزاد امیدواروں کی ایک بڑی تعداد کے کامیاب ہونے کا امکان ہے جس کا سب سے زیادہ نقصان ن لیگ کو ہو گا۔

ماضی میں بھی بلوچستان سے آزاد امیدوار پیسے کے بل بوتے پر کامیاب ہوتے رہے ہیں تاہم بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی کا دعویٰ کہ بلوچستان اسمبلی کے اراکین اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دیں گے۔

اسی بارے میں