یہ جینا بھی کیا جینا!

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

ہندوستان کی مشہور اداکارہ، سری دیوی، پچھلے دنوں حادثاتی طور پہ ہوٹل کے غسل خانے میں پانی سے بھرے ٹب میں ڈوبنے سے سورگ باشی ہو گئیں۔ ہندی کا یہ لفظ میں نے اس لیے استعمال کیا کہ اس کے متبادل اردو لفظ لکھنے کی صورت میں فسادِ خلقِ خدا کا خوف ہے۔

سری دیوی کے چاہنے والوں کا ایک بہت بڑا حلقہ ہے جو ان کی ناوقت موت سے شدید متاثرہوا۔ موت ایک پریشان کن حقیقیت ہے، لیکن بہر حال یہ ایک حقیقت ہے اور حقیقت اپنا آ پ منوا کر رہتی ہے۔ مجھے جانے کیوں یہ لگتا ہے کہ مشہور لوگ اگر حادثاتی موت نہ مریں تو وہ ایک طویل عمر جیتے ہیں۔

لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مشہور لوگ، حادثاتی موت مرتے ہیں تو بہت سے سوال جنم لیتے ہیں۔ خاص کر پاکستانی اور ہندوستانی اداکاراؤں کی حادثاتی موت اتنی سادہ نہیں ہوتی۔ دونوں معاشروں میں خوبصورت عورت، اور وہ عورت جو شوبزنس کے شعبے سے منسلک ہو، کس طرح کی غیر یقینی اور غیر محفوظ زندگی گزارتی ہے اس سے ہم سب بخوبی واقف ہیں۔

عورت کو آ زادی دلانے کے حامی، کبھی ان عورتوں کے حقوق کے لیے نہیں بولتے۔ آج ہندوستان اور پاکستان میں فلم انڈسٹری کو شروع ہوئے، کم و بیش سو برس ہو رہے ہیں لیکن ان خواتین کی طرف معاشرے کا رویہ وہی ہے۔ ایک بہت بڑا طبقہ ان پہ جی جان سے عاشق ہوتا ہے اور ان پہ زہر کھاتا ہے۔ ان کی تصویریں، سینت سینت کے رکھتا ہے اور ان کی ایک ایک ادا پہ قربان جاتا ہے۔

دوسرا طبقہ، جی ہی جی میں مرتا تو ہے لیکن، اعتراف کرتے ڈرتا ہے۔ کنکھیوں سے دیکھتا بھی ہے اور منہ پرے کر کے توبہ تلا بھی کرتا ہے۔ایک بہت بڑا طبقہ ان کو کھلم کھلا فاحشہ کہتا ہے اور جانے ان کے بارے میں کیا کیا کہانیاں کہتا اور ان پہ یقین رکھتا ہے۔

مگر، زیادہ تر دونوں ملکوں کی چوٹی کی اداکاراؤں کی نجی زندگیاں اتنی قابلِ رشک نہیں ہوتیں۔ اپنے گھر والوں، ماں، ماموں، باپ، بھائی، دور پار کے رشتے دار، تو، میں، جانے کس کس کا پیٹ پالنا پڑتا ہے۔ اور اس سفر میں کن کن راستوں سے گزرنا پڑتا ہے ان کا تصور بھی عام شخص کے لیے محال ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

ان خون چوسنے والے رشتے داروں سے بچ جائیں، تو نام نہاد عشاق بھی اسی مشن پہ قریب آ تے ہیں کہ، دولت، شہرت اور ان دو کے باعث حاصل اختیار کو کس طرح زیادہ سے زیادہ استعمال کر لیں۔ اگر ان میں سے کوئی رشتہ کسی طرح شادی تک پہنچ بھی جائے تو یہ شادیاں عجیب قسم کی گھریلو زندگی لے کر پروان چڑھتی ہیں۔

ان اداکاراؤں کے شوہر جو ان کی شہرت اور حسن کے باعث ہی ان کی طرف ملتفت ہوئے ہوتے ہیں، ان ہی دو چیزوں سے خائف ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور فلم چھوڑنے کا مطالبہ شروع ہو جاتا ہے۔ جو شوہر یہ مطالبہ نہیں کرتے وہ ہر وقت بیوی پہ چوکسی کرتے اور چلاتے نظر آ تے ہیں۔

فوٹو گرافر کا انہیں نظر انداز کر کے ان کی بیوی کی تصویر بنانا، کسی چاہنے والے کا بیوی سے آ ٹوگراف مانگ لینا، یہ سب شوہر کو جلا جلا کے نیم دیوانہ کر دیتے ہیں۔ بہت سی شادیاں، بمشکل، چند ماہ میں ہی برے انجام کو پہنچ جاتی ہیں۔

یہ صورت حال بھی خوش نصیب اداکاراؤں کے نصیب میں آ تی ہے۔ بہت سی بے چاریوں کی تو اپنی مرضی سے کسی سے ملنے یا حد سے زیاد ہ بات کرنے کی جازت بھی نہیں ہوتی۔ یہ صرف کمانے والی، گانے والی بلبلیں ہوتی ہیں، جن کے مال اور زندگی پہ دوسرے لوگوں کا اجارہ ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

وہ شوہر جو ان سے تارک الدنیا ہو کے کونہ پکڑ لینے کا مطالبہ کرتے ہیں، پہلے ہی کسی، کونا گھونس سے شادی کیوں نہیں کر لیتے ؟ اس رویے کے پیچھے کون سا عدم تحفظ یا فتح کر لینے کی خواہش چھپی ہوئی ہے ؟ ایک عورت محنت کر کے اپنا کیرئیر بناتی ہے اور ایک مرد اس سے اپنی محبت کا امتحان ایسے لیتا ہے کہ اس کی پوری زندگی ہی مانگ لیتا ہے ؟ آخر کیوں مردوں کو کسی فلمی اداکارہ کو شادی کے بعد گھر میں بند کر کے کامیابی کااحساس ہو تا ہے ؟

سوالات تو ان گنت ہیں۔ سری دیوی کی موت نے ان سب سوالات کو ایک بار پھر زندہ کردیا۔ میں سری دیوی کی زندگی پہ کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتی۔ لیکن بار بار ایک سوال ضرور اٹھتا ہے کہ ان عورتوں کو آخر کب حقیقی عزت اور محبت ملے گی؟ کب ان کی جائیداد، ان کی دولت، ان کے لیے موت کے پھندے نہیں رہیں گی؟ کب تک یہ حادثاتی موت مرتی اور بے یقینی کی زندگی جیتی رہیں گی؟

یہ تتلیاں، جو ہمیں تفریح فراہم کرتے کرتے اپنے لیے ایسے عذاب مول لیتی ہیں جو نہ زندگی میں انہیں چین سے جینے دیتے ہیں اور نہ مرنے پہ سکون لینے دیتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں