قیامِ پاکستان سے اب تک احمدیوں کا ریکارڈ طلب

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اسلام آباد ہائی کورٹ نے قیام پاکستان سے لے کر سنہ 2017 میں ہونے والی مردم شماری میں ملکی آئین کے تحت غیر مسلم قرار دیے جانے والے احمدیوں سے متعلق ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالتِ عالیہ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے یہ حکم منگل کو آئین میں ختم نبوت شق کی مبینہ تبدیلی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران دیا۔

یہ بھی پڑھیے

’آخر احمدیوں کو تحفظ کون فراہم کرے گا؟‘

’فوج میں اعلیٰ عہدوں پر فائز احمدی ملک کے لیے خطرہ ہیں‘

’کسی مذہب سے ہو، وردی پہننے کے بعد پاکستانی سپاہی ہے‘

عدالت کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو دیکھنا ہو گا کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک کتنے احمدی پاکستان میں رہ رہے ہیں۔

جج نے درخواست گزار مولانا اللہ وسایا کو ذاتی حثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ عدالت نے ان سے مذہبی حوالے سے کچھ سوالات کرنے ہیں۔

اس کے علاوہ جسٹس صدیقی نے درخواست گزار وکیل حافظ عرفات کو تحریری جواب جمع کرانے کی بھی ہدایت کی ہے۔

سماعت کے دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشد محمود کیانی نے احمدی برادری سے تعلق رکھنے والے ان چھ ہزار افراد کی فہرست عدالت میں پیش کی جو گذشتہ کچھ عرصے میں ملک سے باہر گئے ہیں۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی اے کے اہلکار اس ضمن میں ریکارڈ کی چھان بین کر کے مزید تفصیلات اکٹھی کر رہے ہیں۔

اس درخواست کی سماعت کے دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’احمدیوں کو پاکستان میں رہنا ہے تو غیرمسلم شہری بن کر رہیں اور اسلام پر نقب نہ لگائیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ احمدی برادری کے بارے میں کوئی فتوٰی نہیں دے رہے لیکن ملک کا آئین احمدیوں کو مسلمان نہیں مانتا۔

اُنھوں نے کہا تھا کہ زیادہ تر افراد نے سرکاری ملازمت کے لیے بطور مسلمان شناختی کارڈ حاصل کیا اور ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچنے کے بعد دوبارہ احمدی ہو گئے۔

خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ہی شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے میں تبدیلی کو عدالتی حکم سے مشروط کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے احمدی برادری سے تعلق رکھنے والے ان دس ہزار افراد کی فہرست پیش کرنے کا حکم دیا تھا جو گذشتہ کچھ عرصے کے دوران پاکستان چھوڑ کر بیرون ملک سکونت اختیار کر چکے ہیں۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے الیکشن ایکٹ سنہ 2017 کے حوالے سے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی کارروائی کی سربمہر رپورٹ عدالت میں پیش کی جبکہ اس معاملے پر ہونے والی قومی اسمبلی کی کارروائی کی رپورٹ سات مارچ کو عدالت میں جمع کروائیں گے۔

اسی بارے میں