پارلیمان اور عدلیہ کے مابین اختیارات کے تعین کے لیے مذاکرات ضروری ہیں: رضا ربانی

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے چیئرمین میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ اور اعلی عدلیہ کے درمیان اختیارات کے تعین کے لیے چیف جسٹس سے مذاکرات ضروری ہیں۔

منگل کو سینیٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ تمام اداروں کو اپنی حدود میں رہتے ہوئے انھی اختیارات کو استعمال کرنا چاہیے جو آئین نے اُنھیں تفویز کیے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اگلے ہفتے سینیٹ کے نئے چیئرمین کے انتخاب کے بعد نیا چیئرمین اس معاملے پر چیف جسٹس سے ضرور بات چیت کرے۔

عدلیہ پر تنقید نواز شریف کو توہین عدالت کے نوٹسز

کیا نواز شریف نے انتقام لے لیا ہے؟

’عدالتی کارروائی کا حصہ نہیں بننا چاہتے تو ان کی مرضی‘

اُنھوں نے کسی اسمبلی کے سپیکر کا نام لیے بغیر کہا کہ اعلی عدلیہ کی طرف سے ایک سپیکر کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرنا قابل تشویش امر ہے۔

واضح رہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے اقلیتی رکن صوبائی اسمبلی کے حلف نہ اُٹھانے پر صوبہ خیبر پختونخوا کی اسمبلی کے سپیکر کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا ہے۔

رضا ربانی نے اپنے بیان میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی پارٹی صدارت کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا۔

انھوں نے کہا کہ یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے خود تحریر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سینیٹ میں اس معاملے پر جو قانونی سازی کے لیے کارروائی ہوئی تھی اس پر بھی سوالیہ نشان ہے۔

چیئرمین سینٹ کا کہنا تھا کہ تمام اداروں کا اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا ملک کے مفاد میں ہے اور اگر ایسا نہ ہوا تو پھر ملکی اداروں میں تصادم ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Supreme court of Pakistan

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے سینیٹ کے اجلاس میں عدلیہ کے رویے پر بات کی۔

اُنھوں نے کہا کہ پارلیمنٹ پر دوسرے ریاستی اداروں نے شب خون مارا ہے جس کے ذمہ دار خود ارکان پارلیمنٹ بھی ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اعلی عدلیہ کے ججز کی طرف سے اپنے فیصلوں میں آئین کا حوالہ دینے کی بجائے اشعار لکھنا تشویشناک امر ہے۔

فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ اعلی عدلیہ کے جج صاحبان اپنی تکریم کروانے کے لیے اپنے فیصلوں کا نہیں بلکہ توہین عدالت کے قوانین کا سہارا لیتے ہیں۔

توہین عدالت: نہال ہاشمی کو ایک ماہ قید اور نااہلی کی سزا

چیف جسٹس کے بیان پر شدید تنقید

اُنھوں نے کہا کہ اگر معزز جج صاحبان کا یہی رویہ رہا تو اُنھیں اندیشہ ہے کہ عام انتخابات کا محور ملک کی اقتصادی اور امن وامان کی صورت حال کے بجائے اعلی عدلیہ پر ریفرنڈم ثابت نہ ہو۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر کا کہنا تھا کہ اُنھیں اس بات پر بھی تشویش ہوتی ہے جب ملک کا چیف جسٹس قسم اُٹھا کر کہتا ہے کہ ان کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ریاست کے اندر ریاست بنائی جارہی ہے جس کا واضح ثبوت چند ماہ پہلے فیض آباد پر دیا جانے والا دھرنا تھا جس میں اصل (ڈی جیورو) حکومت کو جھکنا پڑا جبکہ (ڈی فیکٹو) کو کامیابی حاصل ہوئی۔

فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ اُنھیں اس بات پر بھی ندامت ہے جب ان کی جماعت سمیت پارلیمنٹ میں موجود دیگر سیاسی جماعتیں ججز اور جرنیلوں کو احتساب کے دائرے میں لانے میں ناکام رہیں ۔

اسی بارے میں