’معشوقی تب تک ہی چلتی ہے جب تک جوانی ہے‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
چند ماہ پہلے تک بجلی کا روپ دھارنے والے ثاقب اب ناچ گانا ترک کرنے کا کیوں سوچ رہے ہیں؟

آج سے چند ماہ قبل ثاقب نے جب کامرس میں ایم اے پاس کیا تو اپنے باقی ہم جماعتوں کے برعکس وہ اچھی نوکری کی تلاش میں نہیں گئے۔

ثاقب کے بقول’یہاں مرد اور خواتین کو نوکریاں نہیں ملتی ہیں، ہم جیسوں کو کہاں سے ملیں گی؟‘

یہ سوچ ابتدا ہی سے ان کے ذہن میں قائم ہے تاہم وہ اس کی منطق بھی پیش کرتے ہیں۔

ثاقب صوبہ پنجاب کے شہر سرگودھا کے رہائشی ہیں اور پیدائشی مخنث ہیں۔ گذشتہ کچھ عرصہ تک خواجہ سراؤں کے حلقے میں کافی سرگرم تھے اور ایک ’مورت‘ کے ساتھ ساتھ ’معشوق‘ کا درجہ بھی رکھتے تھے اور بجلی کے نام سے جانے جاتے تھے۔

معشوق خواجہ سراؤں کے حلقے میں اس کو کہا جاتا ہے جو خوش شکل ہونے کے ساتھ ناچنا گانا جانتا ہو۔ ایسے ہی خواجہ سراؤں کو شادی بیاہ جیسے مواقع پر دعوت یا پھر ان کی زبان میں ’فنکشن‘ ملتے ہیں۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

’میری شناخت بحیثیت خواجہ سرا ہے‘

ببلی کا جوبن کیفے بند کیوں ہوا؟

’یہ اردوغان کا ملک نہیں‘

ثاقب تاہم مکمل طور پر ’معشوقی‘ ترک کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تین ماہ قبل انہوں نے 50 ہزار روپے کے قرضِ حسنہ سے سرگودھا شہر میں ایک بوتیک اور ایک سلائی کی دکان میں شراکت اختیار کی ہے۔ آگے چل کر وہ اپنا ذاتی کاروبار قائم کرنا چاہتے ہیں۔

اپنی زلفیں دن بھر اونی ٹوپی میں ڈھانپ کر رکھتے ہیں۔ کاٹی اس لیے نہیں کہ کبھی کبھار اب بھی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ ’جب بہت ہی اچھا کوئی فنکشن مل جائے تو پکڑ لیتا ہوں۔‘

Image caption خاندان والے ایسے بچوں کو چھپاتے پھرتے ہیں، تو گھر سے باہر لوگ انہیں چھیڑتے ہیں: ثاقب

خواجہ سراؤں کے اس حلقے میں بہت کم افراد ثاقب جیسے تعلیم یافتہ ہیں۔ وہ نصبتاً خوشحال گھرانے سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔ تو وہ خواجہ سراؤں کے حلقے میں پہنچے کیسے؟ اب اسے چھوڑنا کیوں چاہتے ہیں؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ’ہمارے اندر یہ (نسوانی) روح قدرتی طور پر موجود ہوتی ہے۔ بچپن ہی میں سامنے آنا شروع ہو جاتی ہے۔ کبھی بہنوں کی سُرخی لگانا، کبھی ان کے کھیل کھیلنا۔‘

انھوں نے بتایا کہ خاندان والے ایسے بچوں کو چھپاتے پھرتے ہیں، تو گھر سے باہر لوگ انہیں چھیڑتے ہیں۔

ان سماجی رویے سے تنگ ثاقب جیسے افراد چھوٹی ہی عمر میں گھر سے بھاگ کر خواجہ سراؤں کے ڈیروں پر پہنچ جاتے ہیں۔ اپنے جیسے لوگوں میں انہیں دوستی، توجہ اور اہمیت ملتی ہے۔

مگر یہاں بھی وہ معاشرے کی نظروں سے محفوظ نہیں۔ خواجہ سرائی کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ اس بارے میں عمومی تاثر ہے کہ یہ ناچنے گانے والے اور غلط کاریوں میں ملوث لوگ ہیں۔

ایسے ہی ایک ڈیرے پر ثاقب کی ملاقات بھولی سے ہوئی۔ پرانی اور ’استاد‘ ہونے کے طور پر وہ انہیں ’ماں‘ کہہ کر بھی پکارتے ہیں۔

بھولی اپنا حقیقی نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ جب ڈیروں پر آ جائیں تو ان کے گھر والے بھی انہیں واپس لانے کے لیے زیادہ تگ و دو نہیں کرتے۔

’میرے سگے تایا کا انتقال ہو گیا، میں اتنا رویا، میں اسے دیکھنا چاہتا تھا۔ میری ماں بولی خبردار جو تو نے گھر کا رُخ کیا یہاں لوگ کیا کہیں گے کہ اِن کی اولاد ہیجڑا ہے۔ بعد میں برقع پہن کر قبرستان گیا اور وہاں عورت بن کر میں نے اپنے تایا کا آخری دیدار کیا۔‘

Image caption ثاقب اور بھولی خواجہ سرائی ترک کر چکے تاہم وہ اب بھی محتاط نظر آتے ہیں، جیسے صورتحال کو تول رہے ہوں۔

’اپنی طرف سے تو انہوں نے بیٹا پیدا کیا ہوتا ہے۔ انہیں مایوسی بھی ہوتی ہے اور پھر لوگ بھی نہیں جینے دیتے۔‘

تاہم ڈیروں پر بھی نہ تو ان کا حال محفوظ ہے، نہ مستقبل۔’ابھی چند روز پہلے ایک ڈیرے پر ایک مورت کا قتل ہو گیا تھا، پتہ نہیں کیوں اسے کسی تماشبین نے چھت سے نیچے پھینک دیا۔‘

ثاقب کہتے ہیں ’معشوقی تب تک ہی چلتی ہے جب تک جوانی ہے۔ اس کے بعد خواجہ سراؤں کو بھیک مانگنی پڑتی ہے۔‘

اس بات پر وہ خود ہی اتنا ہنسے کہ ہنستے چلے گئے۔

’اس کام میں شروع میں بڑا آسان پیسہ ہے، اسی لیے ہر کوئی اس طرف آتا ہے۔ مگر مستقبل نہیں ہے اس میں۔‘

جو مستقبل کے بارے میں فکر مند ہوں ان کے پاس ایک ہی راستہ بچتا ہے کہ وہ یہ طرزِ زندگی ترک کر دیں۔ بہت کم اتنی ہمت پیدا کر پاتے ہیں۔ جو یہ فیصلہ کر لیں ان کے پاس زیادہ مواقع نہیں بچتے۔ یا تو سلائی سیکھ لیں یا بیوٹیشن کا کام۔

ثاقب اور بھولی انہی میں سے ہیں۔ حال ہی میں کمشنر سرگودھا نے خواجہ سراؤں کے لیے ایک پروگرام ترتیب دیا۔ انہیں تین ماہ کے سلائی اور بیوٹیش کے کورس پنجاب ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی کے ذریعے کروائے گئے۔

Image caption ’(نسوانی) روح قدرتی طور پر موجود ہوتی ہے جو بچپن ہی میں سامنے آنا شروع ہو جاتی ہے‘

ان میں کم پڑھے لکھے افراد کو تعلیمِ بالغاں کے تحت بنیادی تعلیم بھی دی گئی۔ بھولی وہاں سے کامیاب ہونے والوں میں سے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پروگرام کے حوالے سے کمشنر سرگودھا ندیم محمود کا کہنا تھا کہ ’اس کا مقصد ان لوگوں کو ایک ایسا موقع فراہم کرنا تھا جس سے یہ ہنر سیکھ سکیں اور ایک باوقار زندگی گزار سکیں۔‘

چھوٹی عمر ہی سے ڈیروں پر زندگی بسر کرنے اور ’معشوقی‘ کرنے والا بھولی اب گذشتہ چند ماہ سے ایک سرکاری کپمنی میں ملازمت کر رہے ہیں۔ والد کے انتقال کے بعد وہ گھر کے کفیل بھی تھے۔

’نوکری میں پیسہ خواجہ سرائی سے کم ہے مگر میں خوش ہوں کیونکہ میرے گھر والے خوش ہیں۔‘

اس بارے میں مزید پڑھیے

’مکّے مدینے جانا تو ہمارا خواب ہوتا ہے‘

خواجہ سراؤں کے بنیادی حقوق، درخواست پر نوٹس جاری

خالی پیٹ، تھیٹر کی پرورش

بھولی نے اب ہلکی داڑھی بڑھا لی ہے اور بال کٹوا لیے ہیں۔ اب بھی کسی وقت بات کرتے ہوئے ان کا ہاتھ تاہم فرضی بالوں کو جھٹکے سے پیچھے ہٹانے چلا جاتا ہے۔

’بال کاٹنے بہت مشکل کام ہوتا ہے، پھر کہاں آئیں گی ایسی زلفیں۔ مگر اب وہ سب کچھ چھوڑ جو دیا۔‘

Image caption سرگودھا میں خواجہ سراؤں کو تین ماہ کے سلائی اور بیوٹیش کے کورس پنجاب ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی کے ذریعے کروائے گئے

ثاقب اور بھولی خواجہ سرائی ترک کر چکے تاہم وہ اب بھی محتاط نظر آتے ہیں، جیسے صورتحال کو تول رہے ہوں۔

ان کی برادری کی طرف سماجی رویے اب بھی زیادہ تر ویسے ہی ہیں جن سے تنگ آ کر وہ بھاگے تھے۔ اور پھر بھولی کہتے ہیں ان کے اندر کی ’روح‘ بھی بے چین کرتی ہے۔

’کبھی کبھار جب ناچنے کا بہت من کرے تو بند کمرے میں اکیلے دو چار ٹھمکے لگا لیتا ہوں۔‘

اسی محتاط انداز میں وہ جھنجھلا کر یہ سوال ضرور پوچھتے ہیں کہ انہیں معاشرے میں برابر کا درجہ کیوں نہیں دیا جاتا۔

’ہمارے پاس بھی عقل ہے، ہم بھی سب کچھ کر سکتے ہیں، تو ہمارے کام کو قبول کیوں نہیں کیا جاتا۔‘

ساتھ ہی وہ دونوں ہاتھوں سے مخصوص انداز میں تالی بجاتے ہیں۔ ڈیروں پر سیکھے انداز بھلانے میں یقیناً وقت لگے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں