ڈاکٹر شاہد مسعود کے معافی مانگنے کا وقت اب گزر چکا ہے: چیف جسٹس

شاہد مسعود تصویر کے کاپی رائٹ BBC urdu
Image caption عدالت کا کہنا تھا کہ اینکر پرسن ڈاکٹر شاہد مسعود نے اپنے پروگرام کے ذریعے سنسنی پھیلائی

پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے قصور میں آٹھ سالہ زینب قتل کیس کے حوالے سے جھوٹے انکشافات کرنے پر نجی ٹی وی چینل نیوز ون کے اینکر پرسن ڈاکٹر شاہد مسعود سے کہا ہے کہ معافی مانگنے کا وقت اب گزر چکا ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اگر آپ نے معافی مانگی تو پھر دیکھیں گے کہ کیا کرنا ہے۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے زینب قتل کیس کے بارے میں ڈاکٹر شاہد مسعود کے دعووں کے بارے میں از خود نوٹس کی سماعت کی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ڈاکٹر شاہد مسعود نے عدالت میں پیش ہو کر معافی کی درخواست کی تھی۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

زینب قتل کیس: ٹی وی اینکر شاہد مسعود کے دعوے جھوٹے ثابت

شاہد مسعود کی 'میں نہ مانوں'

اس سے پہلے سپریم کورٹ سے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اپنے ان دعووں پر عدالت سے معافی مانگیں گے جس پر شاہد مسعود کا کہنا تھا کہ اس بارے میں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔

عدالت نے اینکر پرسن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے زینب قتل کیس کے بارے میں جو انکشافات کیے تھے اس میں سے ایک بھی درست ثابت نہیں ہوا۔

خیال رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ایف آئی اے کی اس حوالے سے جو رپورٹ عدالت میں جمع کروائی گئی ہے اس میں ان تمام دعووں کی نفی کی گئی ہے جو ڈاکٹر شاہد نے اپنے ٹی وی پروگرام میں کیے تھے۔

چیف جسٹس نے ڈاکٹر شاہد مسعود کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اپنے ٹی وی پروگرام میں چیف جسٹس کو بارہا مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس کا نوٹس لیں اور اس کے علاوہ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ان کے دعوے جھوٹے ثابت ہوئے تو بے شک انھیں پھانسی چڑھا دیا جائے۔

Image caption رپورٹ بھی مل جائے گی اور اگر انھوں نے اس رپورٹ کو چیلنج کیا تو پھر نتائج بھی بھگتنا ہوں گے: چیف جسٹس کے ریماکس

ڈاکٹر شاہد مسعود نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے جو دعوے کیے تھے اس کی جانچ پڑتال اور تحقیقات کرنا ایف آئی اے کے بس کی بات نہیں ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ مذکورہ اینکر پرسن نے اپنے پروگرام کے ذریعے سنسنی پھیلائی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ڈاکٹر شاہد مسعود عوامی طور پر تسلیم کریں کہ انھوں نے غلطی کی ہے۔

ڈاکٹر شاہد مسعود کے وکیل شاہ خاور نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل نے یہ انکشافات پنجاب کے ایک اور شہر سرگودھا میں ہونے والے واقعے کے تناظر میں کیے تھے جس میں ایک پیر نے اپنے متعدد مریدوں کو قتل کر دیا تھا جس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل کو چاہیے تھا کہ انکشافات کرنے سے پہلے معاملے کی چھان بین بھی کر لیتے۔

شاہ خاور نے کہا کہ ابھی تک انھیں ایف آئی اے کی رپورٹ نہیں ملی جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ بھی مل جائے گی اور اگر انھوں نے اس رپورٹ کو چیلنج کیا تو پھر نتائج بھی بھگتنا ہوں گے۔

ڈاکٹر شاہد مسعود کے وکیل کا کہنا تھا کہ وہ اس رپورٹ کو چیلنج کرنے کی بات نہیں کر رہے بلکہ صرف یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس رپورٹ میں کیا لکھا ہے؟

عدالت نے نجی ٹی وی چینل (نیوز ون) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اگلے دو روز میں جواب طلب کر لیا ہے۔

عدالت نے اس از خود نوٹس کی سماعت 12 مارچ تک ملتوی کردی۔

عدالت میں پیش ہونے سے پہلے سپریم کورٹ سے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے زینب قتل کیس کے بارے میں جو دعوے کیے تھے ان کی تحقیقات کرنے والی ٹیم نے کہا ہے کہ یہ دعوے ثابت نہیں ہوئے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دعوے جھوٹے ہیں۔

اسی بارے میں