شریف خاندان کے خلاف ریفرنسز مکمل کرنے کی مدت میں دو ماہ کی توسیع

مریم نواز، حسن نواز، حسین نواز تصویر کے کاپی رائٹ EPA

پاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف احتساب عدالت میں زیر سماعت ریفرنسز کو مکمل کرنے کی مدت میں دو ماہ کی توسیع کر دی ہے۔

اس سے پہلے عدالت نے پاناما لیکس سے متعلق فیصلے میں احتساب عدالت کو ملزمان کے خلاف چھ ماہ میں ٹرائیل مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔

سپریم کورٹ کی جانب سے دی جانے والی مدت 13 مارچ کو ختم ہو رہی تھی۔

سپریم کورٹ نے نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف دائر ریفرنس کی سماعت میں توسیع نیب کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواست پر کی ہے۔

اس بارے میں پڑھیے

شریف خاندان ایک اور ڈیل کی تلاش میں ہے: سیاسی جماعتیں

اسحاق ڈار شریف خاندان کے لیے کیوں ناگزیر؟

نیب نے شریف خاندان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا

وزیراعظم نااہل، شریف خاندان کے خلاف مقدمے دائر کرنے کا حکم

پاناما لیکس: 'رپورٹ کی جلد نمبر چار شریف خاندان کے لیے خطرناک'

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ چونکہ ملزمان نواز شریف، حسن نواز، حیسن نواز، مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کے خلاف ان ریفرنس میں مذید شواہد سامنے آئے ہیں اس لیے مقررہ مدت تک یہ ریفرنسز نمٹائے نہیں جا سکتے لہزا ان میں توسیع کی جائے۔

جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بدھ کو اس درخواست کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران نیب کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈارکے خلاف بھی دائر ریفرنس میں کافی ثبوت ملے ہیں لہٰذا ان کے خلاف ریفرنس کا ٹرائل مکمل کرنے کے لیے بھی وقت درکار ہے۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسحاق ڈار تو مفرور ہیں اور ایک مفرور شخص کیسے سینیٹر بن گیا؟

انھوں نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن کو معلوم نہیں تھا کہ اسحاق ڈار عدالتی مفرور ہیں جس پر نیب کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ان کے کاغذات مسترد کیے تھے لیکن عدالت نے انھیں سینیٹ کے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی۔

دوسری جانب سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف دائر ریفرنس کی سماعت کرنے والے احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر سپریم کورٹ کو بتایا گیا ہے کہ ان کی توسیع کا نوٹیفکیشن ایک ہفتے میں جاری ہو جائے گا۔

یہ یقین دہانی سیکریٹر ی قانون نے پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کو کروائی جنھوں نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے سیکریٹری قانون کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

سیکریٹری قانون نے عدالت کو بتایا کہ وزیر قانون کی جانب سے منظوری کے بعد یہ سمری اب وزیر اعظم کو بھجوا دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ جج محمد بشیر کی احتساب عدالت میں تعینانی اگلے ہفتے ختم ہو رہی ہے۔

اسی بارے میں