’خاتون ہندو یا مسلمان، نشانہ بنانا آسان ہوتا ہے‘

خواتین کو ہراساں کیے جانے کے خلاف گزشتہ برس کوسووو میں ہونے والا ایک سٹریٹ شو تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان میں کئی مسلمان والدین اپنی بچیوں کے ملازمت کرنے کے یا تو حق میں ہی نہیں ہوتے ہیں یا پھر ان کے لیے ایسی ملازمت کو ترجیح دیتے ہیں جن میں ان کا واسطہ مردوں سے کم ہی رہتا ہو۔ ایسی ملازمتیں گنی چنی ہی ہوتی ہیں جیسا کہ ٹیچنگ وغیرہ۔ لیکن جو لڑکیاں اپنی پسند کی تعلیم یا ملازمت میں جانا چاہتی ہیں ان کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

کراچی میں سوشل سیکٹر میں کام کرنے والی ایک ہندو خاتون پشپا کماری نے بتایا کہ ایک مسلمان ملک میں رہنے کی وجہ سے انھیں محتاط رہنا پڑتا ہے۔ انھیں لگتا ہے کہ خاتون ہونے کے علاوہ ہندو بھی ہونے کی وجہ سے ان کے لیے راستے محدود ہو جاتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران انھوں نے اپنے مذہب کے بارے میں کافر لفظ کے استعمال کی وجہ سے شرمندگی محسوس کی۔

یہ بھی پڑھیے

خواتین کا عالمی دن تصاویر میں

'میں چاہتی ہوں 20 برس بعد تم کو یہ معلوم ہو'

’سیاسی جماعتوں میں خواتین کی نمائندگی میں اضافہ کیا جائے‘

پشپا کہتی ہیں کہ 'ایک تو خاتون اور وہ بھی ہندو اقلیت سے تعلق رکھنے کی وجہ سے وہ آسانی سے ٹارگیٹ بنا ہوا محسوس کرتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں خواتین کے مساوی حقوق کے لیے مظاہرہ کیا گیا۔

’میں نے دیکھا ہے کہ اقلیت سے تعلق رکھنے والی خاتون کو لوگ آسانی سے ہراساں بھی کر لیتے ہیں۔میں نے جہاں کہیں بھی کام کیا ہے کہ اکثریت سے تعلق رکھنے والی خواتین کو اتنے ڈر کا سامنا نہیں ہوتا ہے جتنا ڈر اقلیت کی خواتین محسوس کرتی ہیں۔‘

ایسے کپڑے جو دوسروں کو صحیح لگیں

دلی میں رہنے والی سمبل مشہدی نے بی بی سی کو بتایا کہ جب انھوں نے سکول کی تعلیم مکمل کی اور یونیورسٹی جانے کی تیاری شروع کی تو ان کی ماں نے ان سے کہا کہ انہیں اپنے لیے ایسے کپڑے خریدنے ہوں گے جو اسلامی معاشرے کے مطابق ہوں کیوں کہ انھوں نے ایک مسلم ادارے میں داخلہ لیا تھا۔

وہ کہتی ہیں کہ کپڑوں کا انتخاب ایک نجی پسند کی بات ہے لیکن لڑکیوں کو آج بھی ان کے پہناوے پر پرکھا جاتا ہے جو کہ صحیح بات نہیں ہے۔ مردوں کو اس مسئلے کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

برطانیہ کے علاقے میں ایشیائی نژاد خواتین سیاستداں منتخب کیوں نہیں ہوتیں؟

صوفی درگاہوں میں خواتین کی گائیکی

بر صغیر کے ممالک، خاص طور پر انڈیا اور پاکستان میں خواتین کو مردوں کی نسبت عموماً زیادہ مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ لیکن مبصرین کے بقول مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی خواتین کے ساتھ ان مسائل میں اور بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔

سمبل نے بتایا کہ جب وہ انڈین ریاست پنجاب میں نوکری کر رہی تھیں تو ان کے ساتھ کام کرنے والا ایک شخص کھانے کے وقت باقی سبھی کولیگز کے ڈبے سے کھانا کھا لیتا تھا لیکن ان کے ڈبے سے نہیں کھاتا تھا۔ یہ بات انہیں مناسب نہیں لگتی تھی۔ انہیں لگتا ہے ایسا خاص طور پر اس لیے ہوتا تھا کیوں کہ وہ مسلمان ہیں۔

اسی بارے میں