ملک میں پارلیمانی تبدیلی کا آغاز اور بلوچستان

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سینیٹ چیئرمین کے لیے 12 مارچ کو انتخابات ہوں گے

پاکستان میں سینیٹ کے انتخابات سے لیکر چیئرمین سینیٹ کی نامزدگی تک بلوچستان کا نام زیر گردش ہے، ملک میں پارلیمانی تبدیلی کا آغاز بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی سے ہوا جس کے بعد وہاں سینیٹرز کے انتخاب میں حکمران مسلم لیگ ن ایک بھی نشست حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے تجویز پیش کی ہے کہ سینیٹ کا چیئرمین بلوچستان اور وائس چیئرمین فاٹا سے ہونا چاہیے، جمعے کو کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد انھوں نے واضح کیا کہ ان کے سینیٹرز پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ووٹ نہیں دیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

سیاسی رہنما یا سویلین آمر؟

چیئرمین سینیٹ:’نواز شریف رضا ربانی کے حامی مگر زرداری انکاری‘

بلوچستان: سینیٹ انتخابات میں مختلف اور دلچسپ مقابلہ

عمران خان کی پریس کانفرنس سے چند گھنٹے قبل پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما قیوم سومرو نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لیے مطلوبہ ووٹس حاصل ہوچکے ہیں، جن کی تعداد 57 ہے۔

انھوں نے تحریک انصاف، جمعیت علما اسلام، عوامی نیشنل پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور مسلم لیگ فنکشنل کا حوالہ دیا تھا، تاہم عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما زاہد خان نے اس تاثر کو مسترد کیا جبکہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے پریس کانفرنس کرکے اپنی پوزیشن واضح کردی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے تجویز پیش کی ہے کہ سینیٹ کا چیئرمین بلوچستان اور وائس چیئرمین فاٹا سے ہونا چاہیے

متحدہ قومی موومنٹ کے دونوں دھڑوں کے رہنماؤں ڈاکٹر فاروق ستار اور خالد مقبول صدیقی سے مسلم لیگ نے کے رہنما مشاہداللہ خان اور گورنر زبیر احمد نے ملاقات کرکے سینیٹ میں مدد کی درخواست کی تھی تاہم کوئی واضح جواب حاصل نہیں کرسکے ہیں۔

سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ خالد مقبول صدیقی گروپ کو 5 سینیٹرز کی حمایت حاصل ہے اور ان کا خیال ہے کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حمایت کریں گے، اس حوالے سے نثار کھوڑ کی قیادت میں پیپلز پارٹی کی قیادت ان سے ملاقات کرچکی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے فاٹا کے 6 اراکین نے ملاقات کی ہے جن کے بارے میں پیپلز پارٹی کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے حمایت کا اعلان کیا ہے جبکہ ڈاکٹر قیوم سومرو کا دعویٰ ہے کہ جمعیت علما اسلام ف ایک دو روز میں ان کی حمایت کا اعلان کرے، ڈاکٹر قیوم جو خود بھی جے یو آئی اے میں شامل رہے ہیں جے یو آئی کی جانب سے ان کے دعوے کی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔

تجزیہ نگار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے بلوچستان سے چیئرمین اور فاٹا سے وائس چیئرمین کے امیدوار کی تجویز آصف علی زرداری کے لیے مشکلات پیدا کرسکتی ہیں۔

’آصف علی زرداری اگر اس تجویز سے اتفاق کرتے ہیں تب تو اس بات کے امکانات ہیں کہ مشترکہ امیدوار سامنے آئے لیکن وہ پیپلز پارٹی کا حمایت یافتہ امیدوار تو ہوسکتا ہے لیکن ان کا نامزد کردہ امیدوار نہیں ہوگا، اگر زرداری حمایت نہیں کرتے تو پھر یہ سہ فریقی انتحاب ہوگا۔‘

بلوچستان کے سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار شہزادہ ذوالفقار کا کہنا ہے کہ عمران خان کا موقف بلوچستان کے حق میں ایک اچھا دباؤ ہے، یہ ایک اچھی بات ہے کہ جو 6 سینیٹرر کامیاب ہوئے ہیں انھوں نے عمران خان سے بات کی اس کے بعد آصف علی زرداری سے ملاقات کی، جس میں ان کی اطلاعات کے مطابق زرداری نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی پیشکش کی ہے تاہم انھوں نے چیئرمین شپ کامطالبہ کیا ہے۔

’یہ اچھی روایت ہے کہ بلوچستان کی جانب سے چیئرمین شپ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ کچھ غیر تصدیق شدہ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ مسلم لیگ ن حاصل بزنجو کو نامزد کردے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بلوچستان سے چیئرمین اور فاٹا سے وائس چیئرمین کے امیدوار کی تجویز آصف علی زرداری کے لیے مشکلات پیدا کرسکتی ہیں

پاکستان میں ماضی میں سینیٹ کی چیئرمین شپ چھوٹے صوبوں کو دینے کے مطالبات سامنے آتے رہے ہیں، تجزیہ نگار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ بعض معاملات میں چھوٹے صوبے کے لیے پوزیشن لینا مشکل نظر آتا ہے جس طرح ڈاکٹر عبدالمالک یا ثنا اللہ زہری کی حکومت کو دیکھا گیا، لہذا چیئرمین سینیٹ کے لیے یہ ہی ہونا کافی نہیں کہ اس کا تعلق چھوٹے صوبے سے ہو۔

’جس طرح بلوچستان حکومت میں بغاوت ہوئی ہے اور جو سینیٹرز منتخب ہوکر آئے ہیں وہ کن اخلاقی اقدار پر منتخب ہوئے ہیں یہ چیزیں بھی سامنے رکھنی پڑیں گی۔ ‘

سینئر صحافی اور تجزیہ نگار ضیاالدین احمد کا کہنا ہے کہ جس طرح سے بلوچستان کی حکومت کو گرایا گیا اور قدوس بزنجو کو لایا گیا جن کے پاس چار یا پانچ اراکین تھے اسی وقت سے لگتا تھا کہ یہ سینیٹ کے انتخابات کے لیے کام ہو رہا ہے۔

’موجودہ وقت بھی لگتا ہے کہ کچھ خفیہ ہاتھ کام کر رہے ہیں اور یہ ہھی کوشش ہو رہی ہے کہ مسلم لیگ ن کو سینیٹ کی چیئرمین شپ اور ڈپٹی چیئرمین شپ سے روکا جائے، اس میں بلوچستان کے آزاد اراکین، تحریک انصاف اور آصف علی زرداری انتہائی سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں حالانکہ مسلم لیگ ن کے پاس اتنے اراکین ہیں کہ وہ اپنا چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین منتخب کرلے۔‘

سوال یہ ہے کہ کیا اپوزیشن جماعتوں پر ایسا کوئی امیدوار ہے جس پر تمام جماعتوں کا اتفاق ہے، سینیئر تجزیہ نگار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ بلوچستان سے تو ایسا کوئی امیدوار نظر نہیں آرہا جس پر تمام ہی جماعتیں اتفاق کرتی ہوں، جو متفقہ امیدوار ہوسکتا تھا وہ موجودہ چیئرمین رضا ربانی تھے جن کو لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی نے ڈمپ کردیا ہے۔

سینیئر صحافی ضیاالدین احمد کا کہنا ہے کہ اس وقت کوشش یہ بھی ہے کہ انوار الحق کاکڑ کو چیئرمین سینیٹ بنا دیا جائے جو اسٹیبشلمنٹ کے انتہائی قریب ہیں لیکن زرداری کے بارے میں آخری وقت تک کچھ یقین سے نہیں کہا جاسکتا۔

یاد رہے کہ سینیٹ چیئرمین کے لیے 12 مارچ کو انتخابات ہوں گے، سینیئر صحافی شہزادہ ذوالفقار کا خیال ہے کہ بلوچستان کے سینیٹرز کا پیپلز پارٹی کے لیے نرم گوشہ ہے وہ اکٹھا ہوکر مسلم لیگ ن کا مقابلہ کریں گے۔

اسی بارے میں