سیاسی رہنما یا سویلین آمر؟

پاکستانی پارلیمان

پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے 52 نئے سینیٹروں کے انتخاب کے بعد اب بھی لے دے جاری ہے۔ پہلے اگر مبینہ طور پر رقوم کی لین دین تھی تو آج وعدے ہو رہے ہیں۔ سب اپنا فائدے اور ساکھ دیکھ رہے ہیں۔

جمہوریت بظاہر کسی کی ترجیح نہیں ہے۔ ماضی کا تجربہ یا اہلیت کوئی معنی نہیں رکھتی۔

پاکستان کی تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کے اب تک کے ردعمل کو دیکھ کر یہ تاثر ملتا ہے کہ ان جماعتوں کو ’سویلین آمر‘ چلا رہے ہیں۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا سب سے بڑا ہدف مسلم لیگ ن کو سینیٹ چیئرمین شپ سے دور رکھنا ہے۔ اگر مسلم لیگ ن کسی ایسے امیدوار کو سینیٹ کا چیئرمین نامزد کرتی ہے جو جمہوری اور عوامی نقطۂ نظر سے بہترین ہے تو کیا اسے محض اس لیے مسترد کر دیا جائے گا کہ وہ مسلم لیگ ن کا نامزد کردہ ہے؟

پی ٹی آئی نے بظاہر بہت جلد اپنی ریڈ لائن کھینچ لی ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

چیئرمین سینیٹ: 'نواز شریف رضا ربانی کے حامی مگر زرداری انکاری'

سینیٹ الیکشن: پیپلز پارٹی کی غیر متوقع فتح پر زرداری کی 'بلے بلے' یا جمہوریت کو نقصان

سینیٹ انتخابات 2018: پنجاب میں مسلم لیگ ن

دوسری جانب پیپلز پارٹی کے آصف علی زرداری کی اب تک کی منطق عجیب دکھائی دیتی ہے۔ سب سے زیادہ حیرت کی بات اس جماعت کا سینیٹ انتخابات میں ’بادشاہ گر‘ بن جانا ہے۔ جو کچھ بلوچستان میں ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ اس ’کامیابی‘ کے بعد تو جیسے آصف زرداری کے پاؤں زمین پر نہیں ٹک رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انھوں نے اپنی جماعت کے تین منجھے ہوئے پارلیمنٹیریئنز کو بظاہر ناراض کر دیا ہے۔ اس جماعت کے اندر اختلاف دکھائی دے رہے ہیں لیکن سینیٹ کے دو عہدوں کے لالچ میں وہ اپنے انتہائی قریبی اور با اعتماد ساتھیوں کی بھی نہیں سن رہے۔

ایسا لگتا ہے کہ وقتی سیاسی مفادات اصولوں پر ایک مرتبہ پھر حاوی کر دیے گئے ہیں۔

مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد میاں نواز شریف کا اپنی جماعت کے اندر آمرانہ رویہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ چوہدری نثار علی خان کے علاوہ کسی کی مجال نہیں کہ ان کے آگے کوئی بات کر سکے۔ پارٹی کے ٹکٹ کس طرح بانٹے جاتے ہیں یہ اس کی ایک مثال ہے۔ ہر رہنما کی ذاتی پسند و ناپسند جماعت کے اندر فیصلوں میں کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔

پاکستان کا مقابلہ جرمنی میں ہونے والے حالیہ انتخابات کے بعد اتحادی حکومت بنانے کی کوششوں کے دوران دیکھا جا سکتا ہے۔ انگیلا میرکل کے ساتھ اتحاد کے لیے گفتگو کے آغاز کے لیے بھی ایس پی ڈی جماعت کے رہنما مارٹن شولز کو تمام جماعت سے ووٹ لینا پڑا۔ اس میں کئی ماہ کا وقت لگ گیا لیکن جماعت کے اندر رائے کو اہمیت دی گئی۔

پاکستان میں سیاسی جماعت کے اندر کسی سے رائے لینے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی جاتی۔ لیڈر اور اس کے دائیں بائیں چند افراد ہی اپنی صوابدید کے مطابق اہم فیصلے کرتے رہے ہیں اور اگر کوئی اختلافی نوٹ دے تو ’سویلین آمر‘ ان کے دشمن ہو جاتے ہیں۔

پاکستانی اسٹیبلشمنٹ پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کو ملانے کے لیے بظاہر بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کو پل کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ پی ٹی آئی نے پہلے ہی آنکھیں بند کر کے اپنے اراکین ان کے حوالے کر دیے ہیں۔

فاٹا کے سینیٹروں کی اکثریت نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا، لیکن بظاہر وہ بھی شاید انھی کی جانب جائیں گے جنھیں اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی حاصل ہو گی۔ کھیل ابھی جاری ہے لیکن اس کا نتیجہ کسی حد تک ابھی سے واضح ہے۔

اسی بارے میں