اینکر پرسن ڈاکٹر شاہد مسعود کا اپنے دعووں پر عدالتی جواب میں ندامت کا اظہار

شاہد مسعود تصویر کے کاپی رائٹ BBC urdu
Image caption عدالت کا کہنا تھا کہ اینکر پرسن ڈاکٹر شاہد مسعود نے اپنے پروگرام کے ذریعے سنسنی پھیلائی

پاکستان میں نجی ٹی وی چینل نیوز ون کے اینکر پرسن ڈاکٹر شاہد مسعود نے سپریم کورٹ میں اپنا جواب داخل کرایا ہے جس میں زینب قتل کیس میں اپنے ’جھوٹے‘ دعووں پر ندامت کا اظہار کیا ہے۔

گذشتہ دنوں پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے زینب قتل کیس کے حوالے سے ڈاکٹر شاہد مسعود کے دعووں کے بارے میں از خود نوٹس کی سماعت میں انھیں کہا تھا کہ معافی مانگنے کا وقت اب گزر چکا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کیس میں ڈاکٹر شاہد مسعود کے وکیل شاہ خاور نے اپنے موکل کی جانب سے دستخط شدہ جواب سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

’شاہد مسعود کے معافی مانگنے کا وقت اب گزر چکا ہے‘

زینب قتل کیس: ٹی وی اینکر شاہد مسعود کے دعوے جھوٹے ثابت

شاہد مسعود کی 'میں نہ مانوں'

ڈاکٹر شاہد مسعود نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ ان کی دعووں کی جانچ پڑتال اور تحقیقات کے حوالے ایف آئی اے کی رپورٹ کو چلینج کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے ہیں کیونکہ اس تحقیقاتی کمیٹی کو عدالت نے قائم کیا تھا تو اس مرحلے پر وہ اس کی سچائی پر سوال نہیں اٹھائیں گے۔

اپنے جواب میں ڈاکٹر شاہد مسعود نے اپنے دعووں کے بارے میں مزید لکھا کہ انھوں نے اپنے دعووں میں جو کچھ بھی کہا تھا خلوص کے ساتھ کہا اور کسی کو گمراہ کرنے کی نیت سے نہیں اور یہ سب بے ساختہ تھا۔

’اس سے عدالت کو بھی زحمت ہوئی اور باقی جو لوگ اس سے متاثر ہوئے اور ان کی دل آزاری ہوئی اس پر میں ندامت کا اظہار کرتا ہوں اور اس کے ساتھ عدالت کو اس بات کی یقین دہانی کراتا ہوں کہ آئندہ کوئی بھی ایسی بات کرنے سے پہلے ضروری احتیاط کا مظاہرہ کروں گا۔‘

خیال رہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا تھا کہ ملزم عمران علی کے پاکستان میں غیر ملکی کرنسی کے 37 اکاونٹس ہیں اور ان کا تعلق بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے والے کسی بین الاقوامی گینگ سے ہے۔

اس پر سپریم کورٹ میں اپنے جواب میں ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ زینب قتل کیس کے وقت وہ ایک صحافی کے طور پر نہیں بلکہ ایک والد اور شہری کے طور پر بہت زیادہ جذباتی ہو گئے تھے اور انھیں اس پر بہت زیادہ تشویش تھی۔

انھوں نے مزید وضاحت پیش کی کہ ان کے پاس کچھ ایسی معلومات تھیں کہ یہاں ایک بین الاقوامی گینگ سرگرم ہے جو بچوں پر جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کی ویڈیوز کو براہ راست ڈارک ویب پر نشر کرتا تھا اور زینب کے کیس میں سامنے آنے والے حقائق و شواہد ’میری معلومات سے بہت زیادہ مطابقت رکھتے تھے۔‘

خیال رہے کہ اس سے پہلے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ایف آئی اے کی اس حوالے سے جو رپورٹ عدالت میں جمع کروائی گئی تھی اس میں ان تمام دعووں کی نفی کی گئی جو ڈاکٹر شاہد نے اپنے ٹی وی پروگرام میں کیے تھے۔

گذشتہ بدھ کو ہونے والی سماعت میں عدالت کا کہنا تھا کہ اگر آپ نے معافی مانگی تو پھر دیکھیں گے کہ کیا کرنا ہے۔

ڈاکٹر شاہد مسعود نے عدالت میں پیش ہو کر معافی کی درخواست کی تھی۔

بدھ کو اس سے پہلے سپریم کورٹ سے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اپنے ان دعووں پر عدالت سے معافی مانگیں گے جس پر شاہد مسعود کا کہنا تھا کہ اس بارے میں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔

Image caption رپورٹ بھی مل جائے گی اور اگر انھوں نے اس رپورٹ کو چیلنج کیا تو پھر نتائج بھی بھگتنا ہوں گے: چیف جسٹس کے ریماکس

گذشتہ سماعت میں ڈاکٹر شاہد مسعود کے وکیل شاہ خاور نے کہا تھا کہ ابھی تک انھیں ایف آئی اے کی رپورٹ نہیں ملی جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ بھی مل جائے گی اور اگر انھوں نے اس رپورٹ کو چیلنج کیا تو پھر نتائج بھی بھگتنا ہوں گے۔

ڈاکٹر شاہد مسعود کے وکیل کا کہنا تھا کہ وہ اس رپورٹ کو چیلنج کرنے کی بات نہیں کر رہے بلکہ صرف یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس رپورٹ میں کیا لکھا ہے؟

عدالت نے نجی ٹی وی چینل (نیوز ون) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اگلے دو روز میں جواب طلب کر لیا ہے۔

عدالت نے اس از خود نوٹس کی سماعت 12 مارچ تک ملتوی کر دی تھی۔

اسی بارے میں