آپ کو مبارک ہو، آ پ عورت ہیں !

خواتین کا عالمی دن تصویر کے کاپی رائٹ AFP

خواتین کا عالمی دن آٹھ مارچ کو آیا اور رات 12 بجے سے ہی فون پہ پیغامات کی گھنٹی بجنا شروع ہو گئی۔ پہلے دو تین پیغامات کے جواب تو دے دیے، مگر جوں جوں رات ڈھلتی گئی اور پیغامات بڑھتے گئے، کھسیاہٹ بڑھ کر جھلاہٹ اور پھر تریاہٹ میں بدل گئی۔ اب تریاہٹ تو آپ جانتے ہی ہیں پھر بات کہاں سے کہاں تک لے جاتی ہے۔

ایک دو پیغامات، ان خواتین کی طرف سے تھے جو واقعی دل سے خواتین کی آزادی اور احترام کی داعی ہیں۔ اس کے بعد ان خواتین اور حضرات نے پیغامات بھیجے جو صرف اتنا جانتے ہیں کہ یہ کوئی نیا فیشن ہے اور اسے نہ اپنانے والا 'پینڈو' رہ جائے گا۔

یہاں تک بھی مجھے کوئی خاص اعتراض نہ تھا لیکن جب 'پریم چوپڑا' اور 'امریش پوری' کے ادا کیے ہوئے کرداروں کے حقیقی مالکان نے یہ پیغامات بھیجنے شروع کیے تو ماتھا ٹھنکا۔

یہ جینا بھی کیا جینا!

مریم اور بشریٰ زندہ باد، محبت پائندہ باد!

’شریف‘ کون ہوتا ہے!

جب ان پیغامات کو غور سے پڑھا تو ایک مخصوص تمسخر نظر آیا۔ مثلاً 'آپ ایک عورت ہیں، آپ خاص ہیں، آپ دنیا میں سب سے اعلیٰ ہیں، آج آپ کا دن ہے۔‘ ایک اور جملہ سنیے: ’آنسوؤں اور خوشیوں میں میرے ساتھ رہنے کا شکریہ، خواتین کا عالمی دن مبارک ہو!‘،اور یہ ’ایک لڑکی نظر آئیں، ایک خاتون کی طرح پیش آئیں، ایک مرد کی طرح سوچیں اور ایک باس کی طرح کام کریں۔‘

اس جملے نے تو دماغ میں کچھ ایسے تتیے گھسائے کہ مارے غصے کے کچھ سمجھ نہ آیا سوا اس کے کہ فون بند کر کے سو جایا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اگلی صبح بیسیویں ترس کھاتے، رال ٹپکاتے، نام نہاد ہمت بندھاتے جملے پھر سے موجود تھے۔ جانے بوجھے احباب ایسے مبارک باد دے رہے تھے، جیسے انھپں رات 12 بجے ہی معلوم ہوا ہو کہ اتنے عرصہ جس شخص سے بحث کرتے، لڑتے جھگڑتے، اسے غلط، خود کو درست ثابت کرتے اور کبھی خود ہار مانتے گزرا ہے، ایک عورت ہے اور چونکہ اب یہ بات پتہ چل ہی گئی ہے تو اس کے گلے میں ایک کشکول ڈال کر اس میں ایک ہمدردی بھرا جملہ ڈالنا لازمی ہے۔

یہاں تک بھی خیر تھی لیکن ایک ایسے صاحب نے بھی جو مدت سے میری مزدوری دبائے بیٹھے ہیں اور تقاضے پہ سوال کرتے ہیں کہ کہیں آپ 'سنگل مدر' تو نہیں؟ عورتوں کے عالمی دن کی مبارک باد دے دی۔

خدا گواہ ہے کہ میرا ارادہ ان کو نہ ہی فون کرنے کا تھا اور نہ ہی کچھ کہنے کا لیکن ان کے نمبر سے مسلسل چار اونگے بونگے پیغامات کے بعد جب ایک ٹیڑھی سی مسکراہٹ جتاتا 'ایموٹیکون' آیا تو اس کے بعد جو کچھ پیش آیا اسے خوفِ فسادِ خلقِ خدا کے پیشِ نظر یہاں درج نہیں کر رہی لیکن آپ سب سے جو شدومد سے عورتوں کی آزادی، ان کی برابری اور دیگر بھلائیوں کے خواہش مند ہیں کچھ گزارشات کرنا چاہوں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
  1. خواتین بھی آپ کی طرح انسان ہیں، ان پہ ترس نہ کھائیں، اگر ترس کھانے کو بہت جی چاہ رہا ہو تو آئینہ دیکھیں، انشاء اللہ افاقہ ہو گا۔
  2. اجنبی خواتین سے بات کرنے کے لیے ایک ضابطۂ اخلاق کا پابند ہونا چاہیے۔ ضروری نہیں کہ ہر خاتون، ہر وقت آپ سے بات کرنا اور آپ کی بات کا جواب دینا چاہیے۔
  3. اگر قسمت سے آپ کے معاشرے میں کچھ خواتین نے پر اعتماد اور مضبوط رہنے کا ارادہ کر لیا ہے تو خدارا یہ ارادہ کر کے گھر سے نہ نکلا کریں کہ ان کو بھی باقی خواتین کی طرح خوفزدہ کر کے گھر میں بٹھائیں گے۔
  4. خواتین کی برابری کا مقصد قطعاً یہ نہیں کہ ان کو سخت حالات میں جھونک دیا جائے اور ان کا احترام نہ کیا جائے اور سوال کرنے پہ کہا جائے کہ جب برابری کی بات کی ہے تو بھگتیں۔
  5. مردوں اور عورتوں کی مزدوری برابر ہونا چاہیے، بلکہ عورت کی مزدوری مرد سے دگنی ہونا چاہیے کیونکہ وہ مرد کی نسبت جسمانی طور پہ کمزور ہونے کے باوجود بھی اس کے برابر اور بعض اوقات اس سے زیادہ کام کرتی ہے۔
  6. عورتوں کی تنخواہ اور ان کی خدمات کی ادائیگی مرد کارکنوں کے ساتھ ہی بغیر کسی سوال جواب کے ادا کی جائے۔
  7. اگر کسی خاتون سے کسی تقریب میں ملاقات ہو جائے اور وہ آ پ کو دیکھ کر اخلاقاً مسکرا دے تو ازراہِ کرم اسے فوراً فیس بک فرینڈ ریکوئسٹ نہ بھیجیں۔
  8. دورانِ سفر اگر ایک خود اعتماد خاتون ساتھ آ بیٹھیں تو ان سے بلاوجہ گفتگو سے پرہیز کریں، یہ بد تمیزی کے زمرے میں آتا ہے۔
  9. خواتین کے کام کی تعریف کیجیے، ان کی شخصیت اور جسمانی خدو خال کی تعریف کر کے اپنے لیے مانگی جانے والی بد دعاؤں اور خواتین کی مشکلات میں اضافہ مت کیجیے۔

کہنے کو تو ابھی بہت کچھ ہے لیکن وہ اگلے سال تک کے لیے اٹھا رکھا۔ فی الحال اتنا ہی کہ اس دن کی لفظی مبارک باد دینے کی بجائے اپنے عمل سے اپنی گفتار سے اور اپنے انداز سے ثابت کیجیے کہ آپ عورتوں کی آزادی اور خود مختاری کے قائل ہیں۔ وگرنہ یہ لفاظیاں ہمارے کسی کام کی نہیں بقول حمیدہ شاہین:

منافق پھول بھی لائے تو کانٹے ساتھ ہوتے ہیں

اٹھا اپنا یہ گلدستہ، ہمارے سامنے مت آ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اصولاً تو یہ تربیت گھر ہی میں اور بہت کم عمری میں انجام پانی چاہیے لیکن گوناگوں حالات کی وجہ سے کچھ لوگوں کی مائیں ان کی تربیت بھی نہ کر پائیں اور ایسے لوگ آج خواتین کے عالمی دن کے بورڈ لیے باہر نکل آئے۔ ازراہِ کرم یہ بورڈ رکھ دیجیے، ہمیں معلوم ہے کہ خواتین کا عالمی دن ہے اور ہمیں یہ دن مبارک ہو۔ آپ بس بانچھوں سے بہتی رال پونچھ لیں۔ شکریہ!

اسی بارے میں