افغانستان میں سکیورٹی فورسز پر حملہ، 24 اہلکار ہلاک

افغان سکیورٹی فورسز تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حالیہ دنوں میں طالبان کے حملوں میں تیزی آئی ہے

افغانستان کے مغربی صوبے فرح میں سکیورٹی فورسز پر طالبان کے حملے میں کم از کم 24 اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

طالبان نے سکیورٹی فورسز کو اس وقت نشانہ بنایا جب اہلکار ضلع بالا بلوک میں ایک کارروائی کرنے کے لیے جمع ہو رہے تھے۔

اس موقع پر طالبان جنگجوؤں اور سکیورٹی فورسز میں شدید لڑائی شروع ہو گئی۔

یہ بھی پڑھیے

’طالبان افغانستان کے 70 فیصد علاقے کے لیے خطرہ‘

افغان طالبان کا ’آپریشن منصوری‘ کے آغاز کا اعلان

افغانستان کے مختلف حصوں میں حملے، 25 فوجی ہلاک

افغانستان میں حالیہ دنوں میں شدت پسندوں کے حملوں میں شدت آئی ہے اور ان حملوں میں زیادہ تر سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور ان کی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ایران کی سرحد سے ملحقہ افغانستان کا مغربی صوبہ فرح پوشت کی کاشت کا بڑا مرکز ہے۔

طالبان نے اس صوبے میں دو ہفتے قبل افغان فوج کے ایک اڈے کو بھی نشانہ بنایا تھا۔ اس حملے میں 22 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

افغان وزارتِ دفاع کےترجمان دولت وزیری نے روئٹرز نیوز ایجنسی کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز کے خصوصی دستوں کے چار اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

صوبائی کونسل کے سربراہ فرید بختاور نے کہا کہ ابتدائی حملے کے بعد ہونے والی لڑائی کے دوران فضائی حملے میں 25 طالبان جنگجو ہلاک ہو گئے ہیں۔

طالبان نے دعوی کیا ہے کہ اس حملے میں انھوں نے 53 فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔

بی بی سی کی طرف سے کرائے گئے ایک حالیہ سروے کے مطابق طالبان سنہ دو ہزار چودہ کے مقابلے میں جب نیٹو افواج کا انخلاء عمل میں آیا تھا اب ملک کے زیادہ بڑے رقبے پر قابض ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں