’ کئی جوتے پھینکے گئے، یہ ایک منظم واقعہ لگتا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جوتا مارنے والے کو فوراً گرفتار کر لیا

لاہور میں دینی درسگاہ جامعہ نعیمیہ میں اتوار کو سابق وزیر اعظم نواز شریف پر ایک نہیں کئی جوتے پھینکے گئے اور جوتے پھینکے والے طلباء لبیک لبیک کے نعرے لگاتے رہے۔

نواز شریف پر جامعۂ نعیمیہ میں جوتا پھینک دیا گیا

اکثر والدین کی بچوں کو مدارس بھیجنے کی وجہ مذہب

جامعہ نیعیمہ میں ہونے والی اس تقریب میں شریک سنیئر صحافی سہیل وڑائچ نے بی بی سی اردو سروس کے ریڈیو پروگرام سیربین میں بتایا کہ وہ اس واقع کے چشم دید گواہ ہیں اور انھیں لگا کہ یہ ایک منظم واقعہ تھا۔

بعد ازاں مفتی راغب نعیمی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے متعلقہ حکام اور سکیورٹی ایجنسیز سے مطالبہ کیا کہ وہ اس واقعہ کی مکمل تحقیقات کی جائے اور ان عناصر کو بے نقاب کیا جائے جو اس واقعہ میں ملوث ہیں۔

انھوں نے کہا کہ نواز شریف سے پہلے انھیں تقریر کے لیے بلایا گیا تھا اور اُس وقت تک یہ مجمع نہایت منظم نظر آ رہا تھا اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آنے کا کوئی اندیشہ نہیں تھا۔ انھوں نے کہا کہ جب نواز شریف کو تقریر کے لیے سٹیج پر مدعو کیا گیا تو اس وقت نواز لیگ کے چند کارکنوں نے نواز شریف کے حق میں نعرے لگانے شروع کر دیے۔

سہیل وڑائچ کے مطابق نواز شریف جیسے ہی تقریر کے لیے مائک کے سامنے کھڑے ہوئے اچاناک ایک طرف سے ایک جوتا پھینکا گیا جو نواز شریف کے کاندھے پر لگا اور اس کے ساتھ ہی دوسری طرف سے بھی ایک جوتا سٹیج کی طرف پھینکا گیا۔ اس کے بعد کئی اطراف سے یہ کوشش کی گئی۔

انھوں نے بتایا کہ جوتا پھینکے والے طلبا کو جب پکڑا گیا تو انھوں نے لبیک لبیک کے نعرے لگانا شروع کر دیے اور ہال میں موجود دیگر طلبا بھی اس نعرے بازی میں شریک ہو گئے۔

ان کے بقول یہ کیفیت کافی دیر تک جاری رہی جس کے بعد مفتی راغب نیعمی کو خود سٹیج پر آ کر بڑی سختی سے طلبا کو آرام سے بیٹھنے کے لیے کہا۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز ہی ملک کے وزیر خارجہ خواجہ آصف کے اپنے ہی حلقے میں ان پر ایک سیاسی تقریب میں سیاہی پھینکی گئی تھی۔

ان واقعات کے بارے میں ایک اور سوال پر انھوں نے کہا کہ یہ انفرادی واقعات ہیں لیکن ان کے پیچھے ایک سوچ نظر آتی ہے جو کہ ان کے مطابق رد عمل ہے مولانا خادم حسین رضوی کی تحریک کا جس سے لوگوں کے جذبات میں شدت پیدا ہوئی ہے۔

سہیل وڑائچ نے کہا کہ ملک میں بریلوی، حنفی اور سنی مدارس کے طلبا اور علما میں یہ جذبات زیادہ شدید نظر آتے ہیں اور ان مسالک کے عام لوگ ان کو اس طرح محسوس نہیں کر رہی۔

انھوں نے کہا کہ کئی مدارس کے مہتمم ان سے کہہ چکے ہیں انھیں اپنے طلبا اور علما کو نظم میں رکھنے اور کنٹرول کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ صورت حال بالکل ویسی ہی ہے جب طالبان تحریک شروع ہوئی تو دیوبندی مدارس کے طلبا بھی اپنے مدارس کے قابو میں نہیں رہے تھے۔

نواز شریف کو جوتا مارے جانے کے واقع کی وسیع پیمانے پر مذمت کی جا رہی اور تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی جاعتوں اور ان کے رہنماوں کی طرف سے اس کی مذمت کی جا رہی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں