سیاسی جماعتیں امیدواروں کے ناموں پر ابہام کا شکار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سینیٹ کے چئیرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب پیر کو کیا جائے گا

پاکستان کی پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخابات میں چوبیس گھنٹے سے بھی کم وقت رہ جانے کے باوجود ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں اپنے امیدواروں کے ناموں پر حتمی فیصلہ نہیں کر پائی ہیں۔

بی بی سی اردو سروس کے ریڈیو پروگرام سیربین میں اسلام آباد سے سینیئر صحافی اور ایک اردو روز نامے کے مدیر راؤ خالد نے بتایا کہ ابھی تک صرف بلوچستان سے نو منتخب سینیٹر صادق سنجرانی کا نام کسی حد تک حتمی تصور کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ صادق سنجرانی کا نام وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی طرف سے ان کے مشترکہ امیدوار کے طور پر لیا جا رہا ہے۔

سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخابات اس وقت ملک کے ذرائع ابلاغ میں بحث کا ایک بڑا موضوع بنے ہوئے ہیں اور اس بارے میں گردش کرنے والی خبروں میں کئی امیدواروں کے نام لیے جا رہے ہیں۔

حکمران مسلم لیگ ن جس کے ارکان کی تعداد حالیہ انتخابات کے بعد سب سے زیادہ ہے اس کی طرف سے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما حاصل بزنجو کا نام سامنے آ رہا ہے۔ اس کے علاوہ راجہ ظفر الحق اور پرویز رشید کے نام بھی لیے جا رہے تھے۔

پیپلز پارٹی کی طرف سے سلیم مانڈلی والا کا نام لیا جا رہا ہے لیکن بعض حلقوں اور پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ پارٹی آخر میں رضا ربانی کے نام پر متفق ہو جائے۔

پیپلز پارٹی اور حزب اقتدار مسلم لیگ نواز کے امیداورں کے ناموں کے بارے میں انھوں نے کہا کہ قوی امکان یہی ہے کہ یہ دونوں جماعتوں انتخابات سے قبل پیر کی صبح ہی اپنے امیدواروں کے نام سامنے لائیں۔ انھوں نے کہا کہ کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بعد کاغذات واپس لیے جانے کا مرحلہ آتا ہے اور توقع یہی ہے کہ اُس وقت ہی اس اہم انتخاب کے حوالے سے صورت حال مکمل طور پر واضح ہو۔

تھر کے ہاری کی بیٹی سینیٹ کی امیدوار

امیدوارں کے ناموں کا فیصلہ کرنے میں تاخیر کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ یہ صورت حال دو دن قبل واضح ہو گئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی طرف سے اس اعلان نے کہ وہ پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ووٹ نہیں دیں گے اس صورت حال کو پیچیدہ بنا دیا۔

عمران خان کے اعلان کے بعد پیپلز پارٹی کے سرکردہ ارکان سر جوڑ کر بیٹھ گئے اور مشاورت کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو گیا جو تادم تحریر جاری تھا۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
سینیٹ کی 46 نشستوں کے لیے تین مارچ کو ہونے والے انتخابات میں ووٹ ڈالے جا رہے ہیں

اسی بارے میں