سپریم کورٹ نے دانیال عزیز پر توہین عدالت کے مقدمے میں فرد جرم عائد کر دی

دانیا عزیز تصویر کے کاپی رائٹ NAtional Assembly
Image caption دانیال عزیز نے صحت جرم سے انکار کیا ہے

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے نجکاری کے وفاقی وزیر دانیال عزیز پر توہین عدالت کے مقدمے میں فرد جرم عائد کر دی ہے۔

عدالت نے اس مقدمے کی کارروائی کو مزید آگے بڑھانے کے لیے آئندہ سماعت پر شہادتیں طلب کر لی ہیں۔

منگل کو جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے دانیال عزیز کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت کی تو بینچ میں موجود جسٹس مشیر عالم نے دانیال عزیز کی موجودگی میں فرد جرم پڑھ کر سنائی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اس فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ دانیال عزیز نے گذشتہ برس ستمبر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے خلاف احتساب عدالت میں مقدمات کی نگرانی کرنے والے سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن نے نیب کی ٹیم کو لاہور میں بلا کر نواز شریف کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے بارے میں کہا تھا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

دانیال عزیز بھی ’عدلیہ مخالف تقاریر‘ پر سپریم کورٹ طلب

’نہال، طلال اور اب دانیال‘

’چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، معاف نہ کیا گیا تو مر جاؤں گا‘

عدلیہ پر تنقید نواز شریف کو توہین عدالت کے نوٹسز

اس فرد جرم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین کی نااہلی کے بارے میں کہا گیا تھا کہ عدالت عظمیٰ کا اصل ایجنڈا عمران خان کو بچانا ہے۔

Image caption طلال چوہدری پر بھی اعلیٰ عدلیہ کی توہین کا الزام ہے

اس فرد جرم میں مزید کہا گیا ہے کہ دانیال عزیز نے نہ صرف انصاف کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی بلکہ ججز اور سپریم کورٹ کے ججز کو سکینڈلائز کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔

دانیال عزیز نے صحت جرم سے انکار کیا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے عدالت میں وفاقی وزیر کی طرف سے جمع کروائے گئے جواب کو سپریم کورٹ نے غیر تسلی بخش قرار دیا تھا۔ اس مقدمے کی سماعت 26 مارچ تک ملتوی کردی گئی ہے۔

داخلہ امور کے وزیر مملکت طلال چوہدری کے خلاف بھی توہین عدالت کے مقدمے میں فرد جرم 14 مارچ کو عائد کی جائے گی۔

اس کے علاوہ توہین عدالت کے مقدمے میں سزا پانے والے سابق سینیٹر نہال ہاشمی کے خلاف توہین عدالت کے ایک اور مقدمے میں فرد جرم 26 مارچ کو عائد کی جائے گی۔

اسی بارے میں