'قائد حزبِ اختلاف کا عہدہ پیپلز پارٹی کا حق ہے'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شیری رحمان بینظیر بھٹو کے قریبی ساتھیوں میں سے تھیں

پاکستان میں حزبِ اختلاف کی بڑی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ میں خاتون رہنما اور امریکہ میں پاکستان کی سابق سفیر شیری رحمان کو قائد حزبِ اختلاف کے طور پر نامزد کیا ہے۔

ان کی نامزدگی کا اعلان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کیا۔

شیری رحمان نے بی بی سی کی نامہ نگار فرحت جاوید سے بات کی اور کہا کہ خواتین کی حوصلہ افزائی ہمیشہ سے 'پیپلز پارٹی کے کلچر کا حصہ رہا ہے۔ جس کی ایک مثال خود بینظیر بھٹو کی زندگی ہے'۔

انھوں نے کہا کہ ان سے پہلے قائد حزبِ اختلاف اعتزاز احسن 'ایک مضبوط رکن پارلیمان رہے ہیں اور ان کی جگہ لینے کے لیے مجھے بہت تندہی سے کام کرنا ہوگا'۔

یہ بھی پڑھیے

سینیٹ کی اہمیت اور اہم قانون سازی

سینیٹ کے چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین کون ہیں؟

منتخب ہونے والی آٹھ خواتین سینیٹرز کون ہیں؟

اس سوال پر کہ کیا پاکستان تحریک انصاف بھی ان کی نامزدگی کی حمایت کرے گی، شیری رحمان نے کہا کہ 'ہم مشترکہ طور پر بہتری کے پیغام کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں اور پاکستان کو اس کی ضرورت بھی ہے'۔

تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ 'انتخابات کے اس سال میں دیگر افراد کے انتخاب پر تو رائے نہیں دے سکتی، تاہم خزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت ہونے کے ناطے یہ عہدہ پیپلز پارٹی کا حق ہے'۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شیرح رحمان ماضی میں وفاقی وزیر اطلاعات بھی رہ چکی ہیں

اس سے پہلے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 'پاکستان پیپلز پارٹی ایک بار پھر تاریخ رقم کرنے جا رہی ہے کیونکہ اب سینیٹ میں پہلی بار خاتون قائدِ حزبِ اختلاف ہوں گی'۔

ذرائع کے مطابق اس عہدے کے لیے شیری رحمان کے علاوہ فاروق ایچ نائیک کے نام پر بھی غور کیا گیا تھا۔

دوسری جانب پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما شفعت محمود نے شیری رحمان کی نامزدگی سے متعلق بی بی سی کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’جہاں تک انھیں معلوم ہے دونوں جماعتوں کے درمیان اس معاملے پر کوئی مشاورت نہیں ہو رہی ہے‘

اسی بارے میں