پاکستان نے بھارت میں اپنے سفیر کو ’مشاورت‘ کے لیے بلا لیا

تصویر کے کاپی رائٹ Financial Express

پاکستان نے انڈیا میں پاکستانی سفارتکاروں، سفارتی عملے اور ان کے اہل خانہ کو مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے پر دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر سہیل محمود کو مشاورت کے لیے اسلام آباد بلایا گیا ہے۔

اس بات کا اعلان پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کیا۔

ڈاکٹر محمد فیصل کہا کہ ’اپنے سفیروں کا تحفظ ہمارے لیے اہم ہے جس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ پاکستان میں انڈین سفارتکاروں کے ساتھ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ اگر کوئی ایسا واقعہ ہوا ہے تو بھارتی ہائی کمیشن نے ہمیں آگاہ نہیں کیا۔‘

انڈیا میں سفارتی عملے کو ہراساں کرنے پر دفترِ خارجہ کا احتجاج

دوسری جانب انڈیا نے پاکستان کی جانب سے اپنے ہائی کمشنر کو مشاورت کے لیے طلب کرنے کو ’عام اور معمول کی بات‘ قرار دیا ہے۔

ڈاکٹر فیصل نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ انڈیا میں سفارتکاروں اور اہل خانہ کو دانستہ طور پر ہراساں کرنے کے واقعات پاکستان کی جانب سے احتجاج کے باوجود جاری ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہراساں کرنے کے واقعات کے حوالے سے احتجاج پاکستان میں تعینات انڈین سفیر سے بھی کیا ہے اور انڈین وزارت خارجہ سے بھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے ہراساں کرنے والوں کی تصاویر انڈین وزارت خارجہ کے ساتھ شیئر کی ہیں لیکن افسوس ہے کہ اس حوالے سے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے مزید کہا ’انڈین حکومت کی جانب سے ایسے واقعات روکنے کی ناکامی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت سفارتکاروں کی حفاظت میں ناکام ہے یا پھر کرنا نہیں چاہتی۔‘

ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان نے مزید کہا کہ انڈیا اپنی انتخابی سیاست میں پاکستان کو نہ گھسیٹے۔

’عام اور معمول کی بات‘

تصویر کے کاپی رائٹ IndiaTV

انڈیا کے دفتر خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے پریس بریفنگ کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے اپنے ہائی کمشنر کو مشاورت کے لیے طلب کرنے کو ’عام اور معمول کی بات‘ قرار دیا۔

انھوں نے کہا کہ انڈیا بھی مشاورت کے لیے اپنے ہائی کمشنر کو واپس بلا سکتا ہے اگر ’حکومت ضروری سمجھے‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی جانب سے جو معاملات اٹھائے گئے ہیں ان پر حکومت نظر ڈالی رہی ہے۔

تاہم رویش کمار نے کہا کہ ’ہمارے ہائی کمیشن کے عملے کو بھی کئی ایشوز کا سامنا ہے اور اس حوالے سے پاکستان کو آگاہ کیا گیا ہے۔ یہ معاملات سفارتی رابطوں کے ذریعے اٹھانے چاہیئں۔‘

ہراساں کرنے کی تفصیلات اور انڈیا سفارتکار کی طلبی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سکول جاتے وقت سفارتی اہلکاروں کے بچوں کی گاڑیاں روک کر ان کی ویڈیو بنائی گئی اور انھیں ہراساں کیا گیا۔

گذشتہ چند دونوں میں سفارتی عملے کی رہائش گاہ کے لیے گیس کی سپلائی بند کرنے، ہائی کمیشن کے ڈرائیوروں کو روکنا اور اُن کا موبائل فون بند کروانا، سفارتی عملے کی گاڑی کا تعقب کرنے جیسے متعدد واقعات ہوئے ہیں۔

ویانا کنونشن کے تحت انڈین حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستانی سفارتی عملے اور ان کے اہلخانہ کا تحفظ کرے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے نئی دہلی میں سفارتی عملے کو ہراساں کرنے کے بڑھتے ہوئے واقعات پر انڈیا کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفترِ خارجہ طلب کر کے احتجاج کیا۔

منگل کو دفترِ خارجہ کے اعلامیے کے مطابق سارک اینڈ جنوبی ایشیا ڈیسک کے انچارج ڈاکٹر فیصل نے ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو اپنے دفتر میں طلب کیا اور سفارتی عملے اور ان کے بچوں کے ساتھ ناروا سلوک پر شدید احتجاج کیا۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ انڈیا کی خکومت غیر ملکی سفارت کاروں کو سکیورٹی فراہم کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں