سکھ شادی ایکٹ تو انڈیا میں بھی موجود نہیں: رمیش سنگھ اروڑہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں بسنے والے اقلیتی سِکھ براداری کے افراد اب اکثریت کی طرح شادیاں قانونی طریقے سے باقاعدہ طور پر رجسٹر کروا کر سرٹیفیکیٹ حاصل کر پائیں گے۔

اس طرح پاکستان وہ پہلا ملک بن جائے گا جہاں سکھوں کو اپنے مذہب کے مطابق شادی کرنے اور اسے باقاعدہ رجسٹر کروانے کا قانونی حق حاصل ہو گا۔ ساتھ ساتھ وہ قانونی طور پر شادی تحلیل کرنے کا حق بھی رکھیں گے۔

’پنجاب سِکھ انند کراج بِل سنہ 2018‘ بُدھ کے روز پنجاب اسمبلی میں کثرتِ رائے سے منظور کیے جانے کے بعد ایکٹ یعنی قانون کی صورت اختیار کر گیا جس کے مطابق 18 برس سے زیادہ عمر کے سکھ مرد اور عورتیں اپنے مذہب کے مطابق شادی کر پائیں گے۔

یہ بھی پڑھیے!

’گردوارہ جہاں مسلمان دیے جلاتے ہیں‘

’شکر ہے کہ کرکٹ میں سکھ لڑکا سامنے آیا‘

’والد مظفر آباد کی وادیوں کو یاد کرتے تھے‘

سِکھ شادیوں کو قانونی حیثیت دلوانے کے حوالے سے یہ بِل گذشتہ برس پنجاب اسمبلی کے رکن رمیش سنگھ اروڑہ نے اسمبلی میں متعارف کروایا تھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ اس قانون سے قبل بھی سِکھ شادیوں کے مذہبی مراسم پورے کیے جا رہے تھے تاہم ان کا ریاستی سطح پر وجود نہیں تھا۔

’سِکھ شادیاں پہلے بھی ہو رہیں تھیں اور اب بھی ہوتی ہیں تاہم مسئلہ یہ تھا کہ ان کا ریاستی سطح پر قانونی وجود نہیں تھا کیونکہ وہ رجسٹر نہیں ہوتیں تھیں۔‘

رمیش سنگھ اروڑہ کا کہنا تھا کہ بات محض رجسٹریشن نہ ہونے کی بھی نہیں، اس سے جڑے بہت سے ایسے دیگر تقاضے تھے جو قانونی حیثیت میں پورے نہیں کیے جا سکتے تھے۔ شادی رجسٹر نہ ہونے کی وجہ سے قانونی طور پر شادی تحلیل بھی نہیں ہو سکتی تھی اور وراثت وغیرہ کے قانونی مسائل اس کے علاوہ تھے۔

’ان تمام امور پر سمجھوتا کرنا پڑتا تھا کیونکہ ملک میں اس حوالے سے ہمارے مذہب کے مطابق کوئی قانون موجود نہیں تھا اور اسلامی قوانین کے ہم پیروکار نہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انھوں نے کہا کہ ’خوش قسمتی سے پنجاب میں مقیم سِکھوں کے لیے اب تک کبھی ایسی نوبت آئی نہیں تھی جہاں شادی تحلیل کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی ہو، تاہم حال ہی میں جب ایک دو ایسے مواقع آئے جہاں شادیاں تحلیل ہوئیں تو خاندان کے بڑوں نے آپس میں بیٹھ کر فیصلے کر لیے۔‘

’ان مواقعوں پر مجھے محسوس ہوا کہ ہمیں کئی جگہوں پر سمجھوتہ کرنا پڑا اور ہمیں ایک ایسے قانون کی ضرورت ہے جس کے مطابق ہم یہ معاملات طے کر پائیں۔‘

اس طرح سِکھ انند کراج قانون کا مسودہ وجود میں آیا اور اسے اکتوبر سنہ 2017 میں اسمبلی میں پیش کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل پاکستان میں سابق صدر پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں بھی ایک سِکھ میرج آرڈیننس جاری کیا گیا تھا تاہم اس کے اندر کئی خامیاں تھیں اور وہ تین ماہ لاگو رہنے کے بعد ختم ہو گیا۔

رمیش سنگھ کے مطابق اس وقت دنیا بھر سے سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کی نظریں پاکستان پر مرکوز تھیں اور اس صدارتی حکم نامے کے ذریعے لاگو کیے جانے والے قانون اور پھر اس کے ختم ہونے پر انہیں مایوسی ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’دنیا بھر میں پاکستان وہ پہلا ملک ہے جہاں سِکھ میرج ایکٹ پاس ہوا ہے۔ حتکہ انڈیا جہاں سِکھوں کی سب سے بڑی آبادی ہے وہاں بھی ایسا قانون موجود نہیں۔ انڈیا میں ہندو میرج ایکٹ ہی کو مانا جاتا ہے۔‘

’اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر آپ انڈیا کے آئین کے آرٹیکل 26 بی میں دی گئی ہندو کی تعریف پڑھیں تو اس میں لکھا ہے کہ ہندو کے اندر ہندومت، جین مت اور سِکھ مت آتا ہے۔ اس طرح وہاں پر سِکھوں کو ایک علیحدہ قوم کی حیثیت سے تسلیم ہی نہیں کیا جاتا۔‘

تاہم پنجاب سِکھ شادی ایکٹ سنہ 2018 میں سِکھ کی جو تعریف دی گئی ہے اس کے مطابق ’سِکھ وہ شخص ہے جو سکھ مذہب کو توحیدی مذہب کے طور پر مانتا ہے اور گرُو گرانتھ صاحب کے صحیفوں پر ایمان رکھتا ہے اور اس کے علاوہ کسی دوسرے مذہب کو نہیں مانتا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

نئے قانون کے مطابق حکومتِ پنجاب ایک یا اس سے زیادہ ایسے افراد کو رجسٹرار کے طور پر لائسنس جاری کرے گی جو ’گرانتھی‘ یعنی سِکھ شادی پڑھوانے کے اہل ہوں گے۔

شادی کرنے والا جوڑا انند کراج فارم پرُ کرے گا جو انہیں شادی کے تیس دن کے اندر مجاز رجسٹرار کو جمع کروانا ہو گا جس کی ایک کاپی چیئرمین کو بھی ارسال کی جائے گی۔ چیئرمین یونین کونسل یا میونسپل کونسل کا چیئرمین ہو سکتا ہے یا کوئی بھی ایسا شخص جسے حکومت مقرر کرے گی۔

ان ہی انند کراج رجسٹرار یا یونین کونسل کے دفاتر میں تمام شادیوں کا ریکارڈ رکھا جائے گا۔

اگر میاں بیوی میں سے کوئی بھی شادی تحلیل کرنا چاہے گا تو اس کو چیئرمین کو لکھ کر نوٹس دینا ہو گا جس کی ایک کاپی دوسری پارٹی کو بھی فراہم کی جائے گی۔ نوٹس ملنے کے 30 روز میں چیئرمین ایک مصالحتی کمیٹی تشکیل دے گا۔

اگر نوٹس کے 90 دن کے اندر مصالحت ممکن نہ ہو پائے تو شادی تحلیل تصور کی جائے گی اور اس کا سرٹیفیکیٹ جاری کر دیا جائے گا۔

رمیش سنگھ اروڑہ کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس قانون کا مسودہ باقی تین صوبوں کو بھی فراہم کیا ہے تا کہ وہ بھی اسی طرح کی قانون سازی کر پائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خصوصاً صوبہ خیبر پختونخوا میں اس قانون کی اشد ضرورت ہے جہاں سِکھوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے۔

صوبہ پنجاب میں ان کے مطابق تقریباً سات سے آٹھ ہزار کے قریب سکھ مختلف شہروں میں مقیم ہیں۔

اسی بارے میں