ملک میں ترقی ہو تو اس کے ثمرات تمام طبقات تک پہنچائے جائے: ڈاکٹر عشرت حسین

Image caption ورلڈ بینک کے چیف اکانومسٹ مارٹن راما (درمیان میں) اور ان کے بائیں جانب پاکستان سٹیٹ بینک کے سابق گورنر ڈاکٹر عشرت حسین لندن سکول آف اکنامکس میں کانفرنس کے دوران

پاکستان کے سٹیٹ بینک کے سابق گورنر ڈاکٹر عشرت حسین نے لندن میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قیادت کو اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ جب ملک میں ترقی ہو تو اس کے ثمرات تمام طبقات تک پہنچائے جائیں اور ایسا اسی صورت میں ممکن ہوسکتا ہے جب تمام ملکی ادارے اپنے اپنے فرائض احسن طریقے سے ادا کر رہے ہوں۔

انھوں نے یہ بات سنیچر کے روز لندن سکول آف اکنامکس میں ساؤتھ ایشیا سوسائٹی کے زیر اہتمام ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

ڈاکٹر عشرت حسین نے مزید کہا کہ پاکستان طویل عرصے تک خطے میں سب سے زیادہ شرحِ نمو حاصل کرنے والا ملک تھا اور انیس سو نوے تک یہاں چھ اعشاریہ پانچ فیصد کی شرح سے ترقی ہو رہی تھی لیکن بعد میں یہ کم ہوتے ہوتے چار اعشاریہ پانچ فیصد تک آ گئی ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

سی پیک: گیم چینجر یا ہوائی قلعہ؟

سندھ طاس معاہدہ:’ورلڈ بینک تنازع کے حل میں مرکزی کردار ادا کرے‘

انھوں نے کہا کہ سی پیک کی شکل میں پاکستان کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہونے کا ایک اور موقع ملا ہے اور پاکستان اس کی شکل میں حاصل ہونے والے مواقع سے فائدہ اٹھا کر شرح نمو کے سلسلے میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر سکتا ہے۔

کانفرنس میں شامل دوسرے مہمان ورلڈ بینک کے چیف اکانومسٹ مارٹن راما نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں دیرپا ترقی کا انحصار مربوط علاقائی تعلقات پر ہے اور اگر خطے کے ممالک سیاسی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر اس مقصد کو حاصل کر لیتے ہیں تو خطے کی موجودہ ترقی کی موجودہ رفتار کو برقرار رکھنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

مارٹن راما نے کہا کہ ابتدائی طور پر علاقائی تعاون کا یہ عمل توانائی جیسے سیاسی لحاظ سے غیر متنازعہ شعبوں میں شروع کیا جا سکتا ہے جسے بعد میں دیگر شعبوں تک بڑھایا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر پاکستان اور انڈیا جیسے ممالک بجلی کی ترسیل کے لیے ضروری انفراسٹرکچر کی ترقی اور قیمت کے تعین جیسے معاملات طے کر لیں تو اس علاقائی تعاون کے عمل کو بغیر کسی دشواری کے شروع کیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ پہلے سے موجود دوطرفہ معاہدوں کو لاحق خطرات کو دور کرنا بھی دونوں ملکوں کے لیے ایک اہم ترجیح ہونا چاہیے۔

مارٹن راما نے سندھ طاس معاہدے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ایسا دو طرفہ معاہدہ ہے جو دونوں ملکوں کے مابین ہونے والی دو جنگوں کو تو سہار گیا لیکن اب امن کے دنوں میں شدید دباؤ کا شکار ہے۔

مارٹن راما نے کہا کہ جنوبی ایشیا کو دنیا کی تمام علاقائی اکائیوں میں ترقی کے لحاظ سے اہم مقام حاصل ہے کیونکہ جنوبی ایشیائی ملکوں میں مجموعی طور پر سات فیصد کی شرح سے ترقی ہو رہی ہے۔

مارٹن راما کے مطابق جنوبی ایشیا کے ملکوں میں ترقی کے اس عمل میں ابھی بھی معاشرے کے کئی طبقوں کی عدم شرکت جیسے چیلنجوں کا سامنا ہے۔

انھوں نے کہا کے خطے کے کئی ملکوں میں ابھی تک خواتین ترقی کے اس عمل کا حصہ نہیں ہیں اور کچھ ایسی ہی صورتِ حال کئی قبائلی گروہوں کی ہے۔

علاقائی ترقی سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا کہ پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش میں نوجوان اور تربیت یافتہ ہیومن ریسوس کی شکل میں ایک ایسا خزانہ موجود ہے جس کی دنیا کے کسی خطے میں مثال موجود نہیں۔ انھوں نے کہا کہ مستقبل میں دنیا کے کئی علاقوں میں لیبر فورس کی انحصار جنوبی ایشیا پر ہوگا۔

لندن سکول آف اکنامکس کے ایک طالبعلم کی طرف سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر عشرت حسین نے سی پیک کے شمالی اور جنوبی راہداری اور مجوزہ مشرقی اور مغربی راہداری کی اہمیت اور امکان کے بارے میں تفصیل سے روشنی ڈالی اور کہا کہ بنگلہ دیش، انڈیا، پاکستان، افغانستان اور وسطی ایشیا کو ملانے والے ایسٹ ویسٹ کوریڈور کا بہت زیادہ انحصار سی پیک کی کامیابی سے ہے۔

اس سے پہلے کانفرنس کا افتتاح برطانیہ میں نیپال کے سفیر درگا بہادر صبیدی نے اپنے خطاب سے کیا جبکہ پاکستانی ادیب اور ڈرامہ نگار شاہد محمود ندیم، ایک انڈین ثقافتی ادارے سے منسلک ثمن ڈونگا اور ہندو نیشنلزم کے ماہر ڈاکٹر ایڈورڈ اینڈرسن نے کانفرنس کے پہلے سیشن میں اظہار خیال کیا۔

اسی بارے میں