سٹیفن ہاکنگ اور جان لیوا خواہشات

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پانچ روز پہلے میں نے 'معروف برطانوی سیاستدان' سٹیفن ہاکنگ کے انتقال کی خبر ایک ٹی وی چینل کے نیوز بلیٹن میں سنی تو مجھے نیوز اینکر پر اس لیے غصہ نہیں آیا کیونکہ اسے بھی یقین نہیں ہوگا کہ سیاستدانوں کے علاوہ کسی سائنسدان کی موت بھی نیوز ہیڈ لائن ہو سکتی ہے، لہٰذا اس نے اپنے تئیں تصیح کر کے سائنسدان کی جگہ سیاستداں پڑھ دیا ہوگا۔

لیکن اسی روز کراچی پریس کلب میں ایک نوجوان صحافی نے سٹیفن ہاکنگ کی زندگی کو ایک جملے میں سمو کر توتے اڑا دیے۔

'میں نے سنا ہے کہ وہ خدا کا منکر تھا اسی لیے اللہ نے اسے نشانِ عبرت بنا دیا۔ ایک انگلی بھی نہ ہلا سکتا تھا۔ زندگی بھر ویل چئیر پر رہا۔'

میں نے پوچھا علامہ خادم حسین رضوی ویل چئیر پر کیوں ہیں؟

کہنے لگا میں کج بحثی نہیں کر رہا، ملحد سٹیفن ہاکنگ کی بات کر رہا ہوں۔

وسعت اللہ خان کے مزید مضمون پڑھیے

سینیٹ کی چیئرمینی اور بدتمیز بجوکا

قائدِ اعظم نے بھی کونا پکڑ لیا

’میں نے کیا سعودیوں کا ٹھیکہ لے رکھا ہے؟‘

خود سٹیفن ہاکنگ کو بھی اپنے یا اپنے طبیعاتی و فلکیاتی کام کی پذیرائی کے بارے میں کبھی کوئی خوش فہمی نہیں رہی۔

تیس برس قبل شائع ہونے والی سٹیفن ہاکنگ کی کتاب 'اے بریف ہسٹری آف ٹائم' نے اگرچہ ہاکنگ کو عالمی پاپولر کلچر کا حصہ بنا کے اہلِ جستجو کے ذوقِ علم کو مہمیز بھی کیا مگر ایک کروڑ سے زائد کاپیاں بکنے کے بعد بھی ایک ناقد کی یہ رائے کتاب کے برابر مشہور ہوئی کہ 'اے بریف ہسٹری آف ٹائم سب سے مقبول سائنسی تصنیف ہونے کے باوجود سب سے کم پڑھی اور سمجھی جانے والی کتاب ہے۔'

خوشی کی بات یہ ہے کہ پاکستانی سوشل میڈیا پر سٹیفن ہاکنگ کا تذکرہ خوب رہا اور نیوز چینلز نے پانچویں ، چھٹی، ساتویں ہیڈ لائن میں سہی مگر انتقال کی خبر کو جگہ ضرور دی۔

حتی کہ پنجاب کے وزیرِ اعلی شہباز شریف کی جانب سے بھی ٹوئٹر پر تعزیت کا پیغام جاری ہوا۔

میری خوشی کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ایسا سماج جس میں سوال کرنے کی جبلت کو بھی فکری و نظریاتی زنجیروں میں باندھ کے رکھنے کا چلن ہو ، بچوں میں تجزیہ کاری کی صلاحیت ابھارنے کے بجائے رٹاؤ اور حکومت کرو کا زور ہو ، کون سی کتابیں پڑھنی چاہیے سے زیادہ کون سی کتابیں نہیں پڑھنی چاہیے پر علما کی بیشتر توانائی صرف ہو، ریاست کو جو بحث ، ادب ، زبان ، کلچر ، عقیدہ ناپسند ہو اسے پسند کرنا تخریب کاری وغداری کے حاشئے میں آ سکتا ہو ۔

اور ایک ایسا سماج جہاں ملالہ اور ڈاکٹر سلام کا نام بھی دھڑلے سے لینا کسی بھی جانب کے غیض و غضب کو اپنی طرف موڑنے جیسا ہو ، جہاں بلیک ڈکشنری بلیک ہول تھیوری سے زیادہ اہم ہو وہاں سٹیفن ہاکنگ کا بعد از مرگ اچھے انداز میں تذکرہ، چند گھنٹے کے لئے ہی سہی مگر ہوا تو ۔

اگر کوئی پوچھے کہ وہ کون سی چند خواہشات ہیں جو میں زندگی میں پوری ہوتے دیکھنا چاہتا ہوں ؟

اب تو بس یہ چاہتا ہوں کہ مرنے سے پہلے کسی صفِ اول کے سیاستداں ، جرنیل یا جج ( حاضر یا ریٹائرڈ ) کی ایسی تصویر دیکھ لوں جس میں وہ کچھ بھی پڑھ رہا ہو ۔

نواز شریف کی کرسی کے پیچھے کتابوں کا شیلف دیکھ لوں ، شہباز شریف سے حبیب جالب کی نظم دستور کے علاوہ کوئی دوسری نظم بھی سن لوں ، شریفوں کے تذکرے کے علاوہ کسی مشہور کلاسیکی یا ہم عصر ادیب ، فلسفی یا سائنس داں کا قول بھی عمران خان کے پانامی لبوں سے جھڑتے دیکھ لوں۔

آصف زرداری ایک شعر بھی مکمل اور وزن میں پڑھ دیں تو ان کے ہاتھ چوم لوں ، مولانا فضل الرحمان کی کوئی علمی تصنیف خرید سکوں اور سراج الحق سے یہ پوچھ پاؤں کہ آپ کو مولانا مودودی کا تمام علمی کام کبھی یک سوئی سے پڑھنے کا موقع ملا ؟

کیا یہ بہت زیادہ اور جان لیوا خواہشات تو نہیں ؟

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں