فیض آباد دھرنا کیس: انسداد دہشتگری عدالت کا خادم حسین رضوی اور افضل قادری کو گرفتار کرنے کا حکم

حکومت اس معاملے کو کلیریکل غلطی قرار دیتی رہی جبکہ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ تب تک دھرنا ختم نہیں کریں گے جب تک حکومت وزیرِ قانون کو برطرف نہیں کرتی۔ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حکومت اس معاملے کو کلیریکل غلطی قرار دیتی رہی جبکہ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ تب تک دھرنا ختم نہیں کریں گے جب تک حکومت وزیرِ قانون کو برطرف نہیں کرتی۔

اسلام آباد میں انسداد دہشتگری عدالت نے فیض آباد دھرنے کی مرکزی جماعت تحریکِ لبیک یا رسول اللہ کے رہنماؤں خادم حسین رضوی اور افضل قادری کو عدالتی مفرور قرار دیتے ہوئے گرفتاری کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے مقامی انتظامیہ کو حکم جاری کیا ہے کہ دونوں ملزمان کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے۔

خیال رہے کہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم فیض آباد انٹرچینج پر مذہبی تنظیم تحریک لبیک یا رسول اللہ نے گذشتہ سال نومبر میں دھرنا دیا تھا۔

اس دھرنے کے مظاہرین کا موقف تھا کہ انتخابی اصلاحات کے بل میں حلف نامے کے بارے میں جو ترمیم کی گئی تھی وہ ختم نبوت کے منافی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

’لفافہ پکڑاؤ، گال تھپتھپاؤ اور گھر بھیجو‘

فیض آباد پر ناکہ نہیں ہانکہ لگا ہوا ہے

فیض آباد آپریشن: ’ہماری نہ سہی وردی کی عزت تو رکھو ‘

اس بل کے مسودے میں احمدیوں کے بارے میں مبینہ طور پر کچھ تبدیلی کی گئی تھی تاہم بروقت نشاندہی ہونے پر اس کو ٹھیک کر دیا گیا۔

حکومت اس معاملے کو کلیریکل غلطی قرار دیتی رہی جبکہ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ تب تک دھرنا ختم نہیں کریں گے جب تک حکومت وزیرِ قانون کو برطرف نہیں کرتی۔

تقریباً ایک ماہ تک دھرنا جاری رہنے کے بعد حکومت اور اس تنظیم کے درمیان چھ نکاتی معاہدے کے بعد ختم ہوا تھا اور پاکستانی فوج نے یہ معاہدہ کروانے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔

پیر کے روز فیض آباد دھرنے کے شرکا کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران پولیس خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری کے خلاف حتمی چالان پیش کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ عدالت نے پولیس کو 4 اپریل تک حتمی چالان جمع کرنے کا حکم دے دیا۔اس وقت خادم حسین رضوی، افضل قادری اور مولانا عنایت کے خلاف تین مقدمات درج ہیں۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے سماعت 4 اپریل تک ملتوی کر دی ہے۔

اسی بارے میں